سوال:
میں سعودی عرب میں مقیم تھا اور لڑکی مراکش میں مقیم تھی۔ ہم دونوں کی ملاقات ایک ڈیٹینگ ویب سائٹ پر ہوئی اور یوں ہماری یہ ملاقات دوستی میں بدل گئی۔ یہ سلسلہ کوئی تقريبا ڈھائی سال تک چلا، اس دوران لڑکی جو کہ طلاق یافتہ تھی، وه مجھ سے اور میں اس سے شادی کا خواہش مند تھا۔
میں نے لڑکی کو شادی کا پیغام دیا، اس نے رضامندی ظاہر کردی، لیکن جب اس نے والدین سے بات کی تو وہ رضامند نہ ہوئے، بلکہ بات چیت منقطع کروا دی۔
کچھ مہینوں کے بعد ہم دونوں کا پھر رابطہ ہوا، بات نکاح تک پھر پہنچی جب لڑکی نے مجھ سے بغیر والدین کی موجودگی میں نکاح کرنے کا پیغام بھیجا۔، ہم دونوں رضامند ہوگئے کہ ہم پاکستان میں آن لائن قانونی وکیل کو اپنا وکیل مقرر کرتے ہیں اور شرعی نکاح کرتے ہیں۔
یوں ہم نے ستمبر 2023 میں نکاح کے لئے بکنگ کی، قانونی وکیل نے نکاح خواں اور دونوں طرف کے دو دو گواہان کا بندوبست کیا، میں سعودی عرب میں۔مقیم تھا اور لڑکی مراکش میں موجود تھی جبکہ نکاح خواں اور گواہان قانونی وکیل کے دفتر میں موجود تھے۔ ہم سب آن لائن ویڈیو کے ذریعے منسلک ہوئے اور ایک دوسرے کو سن اور دیکھ رہے تھے۔ قانونی وکیل کے پوچھنے پر لڑکی نے اسے اپنا وکیل مقرر کرنے اور ہونے کا اختیار دیا اور نکاح خوان نے گواہان کی موجودگی میں پہلے لڑکی سے اور پھر مجھ سےایجاب و قبول کروایا، ایجاب و قبول کے بعد نکاح خواں نے خطبہ دیا، اس کے بعد دعا کرائی گئی اور یوں ہم نے ایک دوسرے کو جیون ساتھی کے روپ میں دیکھا۔
پھر نومبر 2023 میں لڑکی سعودی عرب عمرہ کے لئے آئی اور ہم نے اکٹھے بحیثیت میاں بیوی عمرہ ادا کیا، لڑکی ایک ہفتہ رہنے کے بعد واپس جلی گئی، پھر ہماری ملاقات اپریل 2024 میں دبئی میں ہوئی اور تعلقات قائم ہوئے جو کہ وقفے وقفے سے ملاقات میں قائم رہے۔
پھر بات رمضان 2025 میں ایک نئے موڑ پہ آئی جب لڑکی نے کہا یہ نکاح مستند نہیں، کیونکہ میرے والدین اور خاندان اس میں شامل نہیں تھا، اس لئے ہمارا نکاح مستند نہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ:
1۔ کیا ہمارا نکاح ہوا یا نہیں؟ اگر مستند ہے تو کیا لڑکی اس سے انکار کر سکتی ہے ؟
2۔ اگر نکاح مستند نہیں تھا تو کیا ہمیں عمرہ کا دم پڑ گیا؟
براہ کرم میری مدد فرما کر اس نیک کام میں رہنمائی فرمائیں۔
تنقیح:
محترم! آپ اس بات کی وضاحت فرمائیں کہ آن لائن نکاح میں لڑکے اور لڑکی نے ایجاب و قبول خود کیا ہے یا انہوں نے اس مجلس میں موجود دو افراد کو اپنی طرف سے ایجاب وقبول کا وکیل مقرر کیا تھا؟ اس وضاحت کے بعد ہی آپ کے سوال کا جواب دیا جاسکتا ہے۔
جواب تنقیح:
لڑکے اور لڑکی نے عقد نکاح میں خود ایجاب و قبول کیا تھا۔
جواب: واضح رہے کہ نکاح کے صحیح ہونے کے لیے لڑکے اور لڑکی یا ان کے وکیلوں کا شرعی گواہوں (دو عاقل بالغ مسلمان مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں) کی موجودگی میں ایک ہی مجلس میں ایجاب و قبول کرنا ضروری ہے، جبکہ آن لائن نکاح میں ایجاب و قبول آن لائن ہوتا ہے، ایک ہی مجلس میں نہیں ہوتا، لہذا آن لائن کیا گیا نکاح درست نہیں ہوتا ہے۔ ایسے نکاح کی درستگی کے لیے ضروری ہے کہ لڑکے اور لڑکی میں سے ہر ایک مجلسِ نکاح میں موجود افراد میں سے کسی کو اپنی طرف سے وکیل مقرر کرلیں اور وہ دونوں وکلاء شرعی گواہوں کی موجودگی میں لڑکا لڑکی کی طرف سے ایجاب وقبول کرلیں تو ایسا نکاح درست ہوجاتا ہے۔
سوال میں ذکر کردہ صورت میں چونکہ ایجاب وقبول آن لائن ہوا ہے اور ایسا نکاح شرعاً منعقد نہیں ہوتا ہے، لہذا دونوں پر شرعاً لازم ہے کہ وہ فوراً علیحدگی اختیار کریں اور اس دوران جو ملاقاتیں ہوئی ہیں اور دوران عمرہ ساتھ رہے، ان سب باتوں پر اللہ تعالٰی کے حضور صدقِ دل سے توبہ و استغفار کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
بدائع الصنائع: (فصل ركن النكاح، 231/2، ط: دار الكتب العلمية)
ثم النكاح كما ينعقد بهذه الالفاظ بطريق الاصالة ينعقد بها بطريق النيابة بالوكالة والرسالة؛ لان تصرف الوكيل كتصرف الموكل وكلام الرسول كلام المرسل، والأصل في جواز الوكالة في باب النكاح ما روي أن النجاشي زوج رسول الله صلی الله عليه وسلم أم حبيبة رضي الله عنها فلا يخلو ذلك اما أن فعله بأمر النبي صلى الله عليه وسلم أو لا بأمره، فإن فعله بأمره فهو وكيله، وان فعله بغير امره فقد اجاز النبي صلى الله عليه وسلم عقده والاجازة اللاحقة كالوكالة السابقة.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی