resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: نکاح خواں کا از خود مہر میں اضافہ کرنے کا حکم

(38766-No)

سوال: نکاح کے وقت نکاح خواں نے دولہا سے مجمع کے سامنے دو لاکھ حق مہر کے عوض لڑکی سے نکاح کرنے کا سوال کیا اور اس وقت اُن کے علاوہ کسی اضافی چیز کا مطالبہ بطور حق مہر نہ تھا، دولہا کے مستقل اصرار کے باوجود اس کو نکاح نامہ نہیں دیا گیا اور جب انہوں نے قانونی کارروائی کے ذریعہ نکاح نامہ حاصل کیا تو حق مہر میں بیس تولہ سونا اور ایک گھر کا اضافہ ہو چکا تھا۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ دولہا کے لیے حقیقی واجب الادا حق مہر کیا ہے ؟ کیا نکاح خواں کے لیے ایسا عمل کرنا جائز ہے ؟

جواب: واضح رہے کہ مہر کی تعیین بھی دیگر عقود کی طرح ایک عقد ہے جو آپس کی رضامندی سے ہی طے ہوتا ہے، لہذا سوال میں ذکر کردہ صورت میں اگر واقعتاً شوہر نے صرف دو لاکھ روپے ہی بطور مہر قبول کیے ہیں تو اس کے ذمّہ صرف اسی رقم کی ادائیگی ہی شرعاً لازم ہوگی، نکاح خواں کا شوہر کی لاعلمی اور رضامندی کے بغیر مہر میں از خود اضافہ کرنا ناجائز عمل ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

بدائع الصنائع: (288/2، ط: دار الكتب العلمية)
المهر في النكاح الصحيح يجب بالعقد؛ لأنه إحداث الملك، والمهر يجب بمقابلة إحداث الملك؛ ولأنه عقد معاوضة وهو معاوضة البضع بالمهر فيقتضي وجوب العوض كالبيع، سواء كان المهر مفروضا في العقد أو لم يكن عندنا۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah