سوال:
میرا سوال شوہر اور بیوی کے بارے میں ہے۔شوہر نے اپنی بیوی سے یہ بات واضح طور پر کہہ دی ہے کہ وہ اس کے تمام حقوق اور ضروریات پوری کر سکتا ہے، لیکن وہ اس سے محبت نہیں کر سکتا، اس نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ بیوی جب چاہے اس رشتے کو ختم کر سکتی ہے، وہ اس پر زبردستی نہیں کر رہا اور نہ ہی اسے روکے ہوئے ہے۔
اس صورتِ حال میں میرا سوال یہ ہےکہ کیا شوہر اس رویے کی وجہ سے گناہ گار یا مجرم شمار ہوگا؟ کیا اس حالت میں بھی شوہر بیوی پر ظلم یا اذیت (torture) کر رہا ہے؟
کیونکہ میری بیوی یہ کہتی ہے کہ“تم اس طرح میرے ساتھ رہ کر گناہ گار اور مجرم بن رہے ہو اور مجھے اذیت دے رہے ہو۔”حالانکہ میں نے اسے آزاد چھوڑ رکھا ہے، صاف صاف بتا دیا ہے کہ میں اس سے محبت نہیں کر سکتا اور یہ بھی کہہ دیا ہے کہ وہ جب چاہے اس رشتے کو ختم کر سکتی ہے، میں نے اسے زبردستی اپنے ساتھ نہیں رکھا، میں نے نہ تو محبت کا دعویٰ کیا ہے اور نہ ہی اسے رشتہ ختم کرنے سے روکا ہے۔
براہِ کرم اس سوال کا تفصیلی جواب دیں، کیونکہ میں واقعی اس سے محبت نہیں کر سکتا اور شریعت کے مطابق اپنی ذمہ داری اور حیثیت جاننا چاہتا ہوں۔
جواب: واضح رہے کہ میاں بیوی کے حقوق میں یہ بات بھی شامل ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ اُلفت و محبت کے ساتھ پیش آئیں، تاکہ نکاح کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد زوجین کے درمیان سکون اور راحت حاصل ہوجائے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں بیوی کے ساتھ محبت سے پیش آنے کو نظر انداز کرنا بیوی کی حق تلفی شمار ہوگی، اس لیے حتّیٰ الامکان اپنی استطاعت کے مطابق بیوی کو محبت دینے کی کوشش کریں، اور ساتھ ہی حاجت کی نیت سے ہر روز دو رکعت نفل نماز پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے اس کی محبت دل میں پیدا ہونے کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کریں۔
نیز بیوی کی بھی ذمّہ داری بنتی ہے کہ وہ اس چیز کو لازمی طور پر دور کرنے کا مکمل اہتمام کرے جو آپ کی طرف سے اسے محبّت دینے میں رکاوٹ بن رہی ہے۔
امید ہے کہ ان شاءاللہ ان باتوں پر عمل کی برکت سے بہت جلد آپ دونوں کے درمیان محبت اور اُلفت کی حقیقی فضا قائم ہو جائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:
الفقه الإسلامي و أدلته: (6843/9، ط: دار الفكر)
للزوجة حقوق مالية وهي المهر والنفقة، وحقوق غير مالية: وهي إحسان العشرة والمعاملة الطيبة، والعدل.................
والمراد من العشرة: ما يكون بين الزوجين من الألفة والاجتماع، ويلزم كل واحد من الزوجين معاشرة الآخر بالمعروف من الصحبة الجميلة، وكف الأذى، وألا يمطله حقه مع قدرته، ولا يظهر الكراهة فيما يبذله له، بل يعامله ببشر وطلاقة، ولا يتبع عمله مِنَّة ولا أذى (٢)؛ لأن هذا من المعروف، لقوله تعالى: ﴿وعاشروهن بالمعروف﴾ [النساء:١٩/ ٤] وقوله سبحانه: ﴿ولهن مثل الذي عليهن بالمعروف﴾ [البقرة:٢٢٨/ ٢] قال أبو زيد: «تتقون الله فيهن كما عليهن أن يتقين الله فيكم» وقال ابن عباس: «إني لأحب أن أتزين للمرأة، كما أحب أن تتزين لي»؛ لأن الله تعالى يقول: ﴿ولهن مثل الذي عليهن بالمعروف﴾ [البقرة:٢٢٨/ ٢].
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی