resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: لڑکا لڑکی کا خفیہ طور پر نکاح کرنا اور قاضی کا گواہ بننا

(37699-No)

سوال: میں ایک مسلمان نوجوان ہوں، میری منگنی ہو چکی ہے لیکن ابھی نکاح نہیں ہوا، اس دوران مجھے اپنی منگیتر کے بارے میں بار بار شہوانی اور ازدواجی نوعیت کے خیالات آتے ہیں، جن پر قابو رکھنا میرے لیے بہت مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اس کیفیت کی وجہ سے مجھے شدید ذہنی بے چینی، جسمانی کمزوری اور اضطراب محسوس ہوتا ہے۔ منگنی کے دوران نفس پر قابو پانے کا اسلامی طریقہ ، شہوت کنٹرول کرنے کا روحانی و عملی معمول، مردانہ صحت بحال رکھنے کی حکمت اور خود اعتمادی بڑھانے کا مکمل نظام بھی بتا دیں ، نیز مردانہ طاقت و قوت کو کیسے بڑھایا جائے؟ مردانہ طاقت کو بڑھانے کے لیے کوئی بھی وظیفہ بتا دیں ۔
بعض اوقات یہ خیالات اس قدر غالب آ جاتے ہیں کہ جسمانی طور پر بھی غیر ارادی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے، جس سے شرمندگی، خوف اور اعتماد میں کمی محسوس ہوتی ہے۔ میں اس بات سے بہت پریشان ہوں کہ کہیں یہ کیفیت میری صحت اور مستقبل کی ازدواجی زندگی پر منفی اثر نہ ڈال دے۔ میں دل سے چاہتا ہوں کہ اپنی زندگی کو مکمل طور پر شریعت کے مطابق، پاکیزگی، وقار اور اعتدال کے ساتھ گزاروں اور نکاح کے بعد اپنی ازدواجی زندگی اطمینان اور اعتماد کے ساتھ شروع کر سکوں۔
براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ منگنی کے بعد اس طرح کے شہوانی خیالات سے بچنے کے لیے شرعی طریقہ کیا ہے؟ ذہنی اور جسمانی توازن برقرار رکھنے کے لیے کون سی دعائیں، اعمال اور احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں؟ کیا اس کیفیت کو گناہ میں شمار کیا جاتا ہے جبکہ انسان اس پر عمل نہ کرے؟ مستقبل کی ازدواجی زندگی کو محفوظ اور مطمئن بنانے کے لیے کیا نصیحت فرماتے ہیں؟ آپ کی قیمتی رہنمائی میرے لیے باعثِ اصلاح اور دل کے سکون کا ذریعہ ہوگی۔

جواب: واضح رہے کہ مجلسِ نکاح میں دو مسلمان مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کا ہونا اور ان گواہوں کا ایجاب و قبول سننا ضروری ہے، پوچھی گئی صورت میں چونکہ مجلسِ نکاح میں صرف تین لوگ موجود تھے: دولہا، دلہن اور قاضی، اس لیے شرعی طور یہ نکاح درست نہیں ہوا اور جب مذکورہ نکاح ہی درست نہیں ہوا تو طلاق کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، نیز نکاح نامہ میں گواہوں کے نام لکھنا اور اُن کو اس کا پہلے سے علم ہونا کافی نہیں، بلکہ اُن گواہوں کا مجلسِ نکاح میں ہونا اور ایجاب وقبول کا سننا ضروری ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل

سنن الترمذي: (باب ما جاء في إعلان النكاح، رقم الحدیث: 1089، 2/ 384، ط: دار الغرب الاسلامي)
عن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌أعلنوا هذا النكاح واجعلوه في المساجد»، واضربوا عليه بالدفوف.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 267، ط: دار الفکر)
(وأما شروطه) ... ومنها) الشهادة قال عامة العلماء: إنها شرط جواز النكاح هكذا في البدائع ... ويشترط العدد فلا ينعقد النكاح بشاهد واحد هكذا في البدائع

الهداية: (185/1، ط: دار احیاء التراث العربي)
قال: "ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين .... قال رضي الله عنه اعلم أن الشهادة شرط في باب النكاح لقوله عليه الصلاة والسلام "لا نكاح إلا بشهود"

بدائع الصنائع: (2/ 255، ط: دار الکتب العلمیة)
ومنها سماع الشاهدين كلام المتعاقدين جميعا حتى لو سمعا كلام أحدهما دون الآخر أو سمع أحدهما كلام أحدهما والآخر كلام الآخر لا يجوز النكاح؛ لأن الشهادة أعني حضور الشهود شرط ركن العقد، وركن العقد هو الإيجاب والقبول فيما لم يسمعا كلامهما لا تتحقق الشهادة عن الركن فلا يوجد شرط الركن - والله أعلم -...ومنها العدد فلا ينعقد النكاح بشاهد واحد لقوله: صلى الله عليه وسلم «لا نكاح إلا بشهود» وقوله: «لا نكاح إلا بشاهدين»

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Azkaar & Supplications