resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: نکاح کی اہمیت اور نکاح نہ کرنے کے مفاسد

(39825-No)

سوال: میں ایک مسلمان ہوں اور مجھے جلد ہی شادی کرنی ہوگی، لیکن میں حقیقتاً شادی نہیں کرنا چاہتا، کیونکہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ پھر مجھے پوری زندگی ایسی نوکری کرنی پڑے گی جو مجھے پسند نہیں، ہر وقت ذمہ داریوں کا بوجھ ہوگا، مسلسل تھکن رہے گی، اداس ہونے کا خوف ہوگا، اخراجات بہت زیادہ بڑھ جائیں گے، خاص طور پر اگر بچے ہوں اور لوگوں کی باتیں یا دباؤ بھی برداشت کرنا پڑے گا۔
اگر میں شادی کروں گا تو وہ صرف اللہ کی خاطر ہوگی، کسی اور وجہ سے نہیں، کیونکہ مجھے خوف ہے کہ کہیں میں زنا میں مبتلا نہ ہو جاؤں۔ مجھے لگتا ہے کہ اس سے بچنے کا میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں۔ میں یہ بھی نہیں سمجھتا کہ میں خود کو بچانے کے لیے کافی روزے رکھ سکوں گا اور مجھے اس گناہ کے ارتکاب کا بہت ڈر ہے۔
اسی لیے زنا سے بچنے کے لیے مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میں یہ دنیاوی زندگی صرف اللہ کے لیے قربان کر رہا ہوں، ایسی صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟

جواب: واضح رہے کہ اسلام ایک ایسا مکمّل دین ہے جو انسان کی جسمانی، ذہنی، روحانی اور معاشرتی ہر ضرورت کو پیشِ نظر رکھتا ہے۔ انہی ضروریات کی تکمیل کے لیے اسلام نے نکاح کو ایک بابرکت عمل قرار دیا ہے، جو فرد اور معاشرے دونوں کے لیے کئی مفاسد سے حفاظت کا ذریعہ ہے۔
نکاح کے ذریعے مرد اور عورت ایک جائز، پاکیزہ اور باوقار طریقے سے مشترکہ زندگی کا آغاز کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں عفّت و پاکدامنی محفوظ رہتی ہے اور معاشرہ فحاشی اور بے راہ روی جیسے مہلک امراض سے محفوظ رہتا ہے۔ اسی عظیم مقصد کے پیشِ نظر رسولِ اکرم ﷺ نے نکاح کو اپنی سنت قرار دیا۔ چنانچہ امّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا سے روایت ہے کہ رسولِ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: "نکاح میری سنت اور میرا طریقہ ہے، جو میری سنت پہ عمل نہ کرے وہ مجھ سے نہیں ہے، تم لوگ شادی کرو، اس لیے کہ میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دوسری امّتوں پر (قیامت کے دن) فخر کروں گا، جو صاحب استطاعت ہوں شادی کریں، اور جس کو شادی کی استطاعت نہ ہو وہ روزے رکھے، اس لیے کہ روزہ اس کی شہوت کو کچلنے کا ذریعہ ہے۔" (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر:1846)
اس حدیثِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ نکاح انسان کو بے شمار گناہوں اور اخلاقی لغزشوں سے محفوظ رکھتا ہے، جو اگر قابو میں نہ آئیں تو فرد اور معاشرہ دونوں کی تباہی کا سبب بن سکتی ہیں۔
بعض افراد نکاح سے گریز کی ایک بڑی وجہ معاشی ذمّہ داریوں کے خوف کو قرار دیتے ہیں، بظاہر یہ بات درست محسوس ہوتی ہے کہ جب انسان اکیلا ہوتا ہے تو اس کے اخراجات محدود ہوتے ہیں اور کسی کی کفالت اس پر لازم نہیں ہوتی، لیکن جب وہ نکاح کرتا ہے تو بیوی بچوں کی ذمّہ داریاں اس کے کندھوں پر آجاتی ہیں اور اخراجات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
تاہم اس حقیقت کا ایک اہم اور روشن پہلو یہ ہے کہ اولاد کو اللہ تعالیٰ محض ذمہ داری بنا کر نہیں بھیجتا، بلکہ وہ اپنا رزق بھی ساتھ لے کر آتی ہے۔ مشاہدہ اور تجربہ سے یہ بات ثابت ہے کہ نکاح کے بعد بہت سے لوگوں کے رزق میں وسعت پیدا ہو جاتی ہے اور آمدنی کے ایسے ذرائع میسر آتے ہیں جن کا پہلے تصوّر بھی نہیں ہوتا، اسی حقیقت کی طرف قرآنِ کریم نے نہایت واضح انداز میں رہنمائی فرمائی ہے: وَأَنكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ ۚ إِن يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ (سورہ نور، آیت نمبر: 32)
ترجمہ:" تم میں سے جن (مردوں یا عورتوں) کا اس وقت نکاح نہ ہو، ان کا بھی نکاح کراؤ، اور تمہارے غلاموں اور باندیوں میں سے جو نکاح کے قابل ہوں، ان کا بھی۔ اگر وہ تنگ دست ہوں تو اللہ اپنے فضل سے انہیں بےنیاز کردے گا۔ اور اللہ بہت وسعت والا ہے، سب کچھ جانتا ہے۔"
لہٰذا ہر صاحبِ ایمان کو چاہیے کہ معاشی خوف کو نکاح میں رکاوٹ نہ بنائے، بلکہ اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھتے ہوئے نکاح کرنے کی کوشش کرے اور جب تک نکاح ممکن نہ ہو، گناہوں سے حفاظت کے لیے کثرت سے روزے رکھے، اپنی نگاہوں کی حفاظت کرے اور ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے نکاح میں آسانی کی دعا مانگتا رہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*سنن ابن ماجه: (رقم الحديث: 1846، 592/1، ط: دار إحياء الكتب العربية)*
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا آدَمُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " النِّكَاحُ مِنْ سُنَّتِي، فَمَنْ لَمْ يَعْمَلْ بِسُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي، وَتَزَوَّجُوا فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ، وَمَنْ كَانَ ذَا طَوْلٍ فَلْيَنْكِحْ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَعَلَيْهِ بِالصِّيَامِ ؛ فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ ".

*بذل المجهود في حل سنن أبي داود:(7/ 580،ط:مركز الشيخ أبي الحسن الندوي)*
فتقديره: من استطاع منكم الجماع لقدرته على مؤنه، وهي مؤن النكاح فليتزوج، ومن لم يستطع الجماع لعجزه عن مؤنه فعليه بالصوم، ليقطع شهوته ويقطع شر منيه كما يقطعه الوجاء، وعلى هذا القول وقع الخطاب مع الشباب الذين هم مظنة شهوة النساء ولا ينفكون عنها [غالبا].

واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah