سوال:
میں شادی شدہ ہوں، مجھے نہیں معلوم کیسے، لیکن میرے اندر یہ خواہش پیدا ہو گئی ہے کہ میں اپنی بیوی کی شرمگاہ کو زبان سے چھوؤں، حالانکہ اس بات کا بہت امکان ہوتا ہے کہ اس عمل کے دوران اس کی جنسی رطوبت میرے منہ میں چلی جائے۔ میری بیوی مجھے اس عمل کی ترغیب نہیں دیتی، لیکن اگر میں ایسا کروں تو وہ اسے پسند کرتی ہے۔ میری زندگی میں اس وقت اور بھی بہت سے اہم مسائل ہیں جن پر فوری توجہ درکار ہے، مگر اس عادت کی وجہ سے مجھے شدید احساسِ گناہ اور شرمندگی رہتی ہے، جس کی وجہ سے میری زندگی کے دوسرے پہلو بھی منفی طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔
میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اگر کسی میں یہ عادت پہلے سے پیدا ہو چکی ہو تو کیا اپنے آپ کو زبردستی اس سے روکنا بہتر ہے یا پھر خاص طور پر اس بارے میں زیادہ فکر نہ کی جائے اور نماز کی پابندی کرتے ہوئے اللہ سے دعا کی جائے کہ یہ خواہش خود بخود ختم ہو جائے؟
جواب: واضح رہے کہ شوہر کا بیوی کی شرمگاہ کو چومنا، زبان لگانا یا اپنی شرمگاہ کو بیوی کے منہ میں داخل کرنا مکروہ اور بے حیائی کا عمل ہے، شریعت میں جماع کرتے وقت کچھ آداب ہیں، مثلاً: بقدرِ ضرورت ستر کھولا جائے، جماع کے وقت شرمگاہ پر نظر نہ ڈالی جائے، اور بالکل جانور کی طرح ننگا ہوکر جماع نہ کیا جائے۔
مذکورہ قبیح افعال میں ان آداب کی رعایت کرنا ناممکن ہے، اور پھر زبان جس سے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے، اس سے شرمگاہ کا بوسہ لینا وغیرہ کسی بھی طرح مناسب معلوم نہیں ہوتا ہے، نیز یہ جانوروں کا طریقہ ہے، اس لیے بہرصورت ایک مسلمان کو اس سے پرہیز کرنا چاہیے، البتہ اگر کوئی شخص غلبہ شہوت میں ایسی حرکت کرلے، اور شرمگاہ پر نجاست لگی ہوئی نہ ہو تو اس صورت میں اس فعل کو حرام نہیں کہا جائے گا، البتہ مکروہ و ناجائز ہے۔
سوال میں پوچھی گئی صورت میں آپ نماز اور دیگر عبادات کی پابندی کے ساتھ ساتھ بیوی کے ساتھ ہمبستری کے دوران مذکورہ غیر فطری عمل سے بھی پرہیز کی مکمل کوشش کریں، اس کے لیے جماع سے پہلے مسنون دعا پڑھنے کا اہتمام کریں، اور بیوی کے ساتھ صحبت میں مسنون طریقہ کو اپنائیں، ان شاءاللہ تعالیٰ جلد آپ اس عادت سے چھٹکارا پالیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الفتاوی الھندیۃ: (372/5)
إذا أدخل الرجل ذكره في فم امرأته قد قيل يكره وقد قيل بخلافه كذا في الذخيرة۔
المحیط البرھانی: (134/8)
إذا ادخل الرجل ذکرہ فی فم امرأتہ یکرہ لأنہ موضع قراءۃ القرآن فلا یلیق بہ إدخال الذکر بہ وقد قیل بخلافہ ایضاً۔
الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیة: (32/9)
"لمس فرج الزوجة : اتفق الفقهاء على أنه يجوز للزوج مس فرج زوجته . قال ابن عابدين : سأل أبو يوسف أبا حنيفة عن الرجل يمس فرج امرأته وهي تمس فرجه ليتحرك عليها هل ترى بذلك بأسا ؟ قال : لا ، وأرجو أن يعظم الأجروقال الحطاب : قد روي عن مالك أنه قال : لا بأس أن ينظر إلى الفرج في حال الجماع ، وزاد في رواية : ويلحسه بلسانه ، وهو مبالغة في الإباحة ، وليس كذلك على ظاهره و قال الفناني من الشافعية : يجوز للزوج كل تمتع منها بما سوى حلقة دبرها ، ولو بمص بظرها وصرح الحنابلة بجواز تقبيل الفرج قبل الجماع ، وكراهته بعده"
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی