عنوان: دو مرتبہ "میں تم کو طلاق دیتا ہوں'' کہنے کا حکم (12252-No)

سوال: ایک دوست نے اپنی بیوی کو دو مرتبہ کہہ دیا کہ "میں تم کو طلاق دیتا ہوں" آپ اس بارے میں رہنمائی فرما دیں کہ اب ان کے لیے کیا حکم ہے؟ کیا وہ اب اکھٹے رہ سکتے ہیں یا اب ان کو کیا کرنا پڑے گا؟

جواب: سوال میں ذکر کرده صورت میں دو طلاق رجعی واقع ہوگئی ہیں، اب اس کا حکم یہ ہے کہ شوہر دوران عدت (طلاق دینے کے وقت سے لے کر عورت کی تین ماہواریاں گزرنے تک) رجوع کرسکتا ہے۔
لیکن اگر شوہر نے دوران عدت رجوع نہیں کیا تو عورت کی عدت گزرجانے کی صورت میں یہ عورت شوہر کے نکاح سے نکل جائے گی، ایسی صورت میں اگر شوہر اس عورت کے ساتھ رہنا چاہتا ہو تو باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ نکاح کرنا ضروری ہوگا، لیکن یاد رہے کہ اس صورت میں رجوع یا دوبارہ نکاح کرنے کی صورت میں شوہر کے پاس صرف ایک طلاق کا اختیار باقی ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (البقرة، الآیة: 228)
وَالۡمُطَلَّقٰتُ يَتَرَ بَّصۡنَ بِاَنۡفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوۡٓءٍ ‌ؕ ... الخ

الهداية: (254/2، ط: دار إحياء التراث العربي)
وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض " لقوله تعالى: {فأمسكوهن بمعروف} [البقرة: ٢٣١] من غير فصل ولا بد من قيام العدة لأن الرجعة استدامة الملك ألا ترى أنه سمى إمساكا وهو الإبقاء وإنما يتحقق الاستدامة في العدة لأنه لا ملك بعد انقضائها " والرجعة أن يقول راجعتك أو راجعت امرأتي " وهذا صريح في الرجعة ولا خلاف فيه بين الأئمة.

رد المحتار: (باب الرجعة، مطلب فی العقد علی المبانة، 409/3، ط: دار الفکر)
"وینکح مبانته بما دون الثلاث في العدۃ وبعدہا بالإجماع ومنع غیرہ فیہا لاشتباہ النسب".

بدائع الصنائع: (کتاب الطلاق، فصل فی حکم الطلاق، 491/4، ط: رشیدیة)
"أما الطلاق الرجعي فالحكم الأصلي له هو نقصان العدد، فأما زوال الملك، وحل الوطء فليس بحكم أصلي له لازم حتى لا يثبت للحال، وإنما يثبت في الثاني بعد انقضاء العدة، فإن طلقها ولم يراجعها بل تركها حتى انقضت عدتها بانت، وهذا عندنا۔"

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 361 Oct 31, 2023
2 martaba " me tum ko talaq deta hoon" kehne ka hukum.

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.