سوال:
محترم مفتی صاحب، ایک شخص نے کسی تیسرے فرد سے بات کرتے ہوئے اسے کہا: 'تم یہاں سے چلے جاؤ'۔ اس وقت اس شخص کے دل میں اپنی بیوی کو طلاق دینے کی نیت تھی، لیکن اس نے اپنی زبان سے بیوی کا نام لیا، نہ اس کی طرف کوئی اشارہ کیا اور نہ ہی طلاق کا کوئی صریح لفظ (جیسے طلاق دیتا ہوں) ادا کیا۔ کیا محض دل میں نیت ہونے اور کسی دوسرے شخص کو کہے گئے ان الفاظ سے اس کی بیوی پر طلاق واقع ہو جائے گی؟ براہِ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں
جواب: سوال میں پوچھی گئی صورت میں اگر آپ نے کسی تیسرے شخص سے بات کرتے ہوئے اُسے کہا کہ "یہاں سے چلے جاؤ" اور اس دوران اگرچہ آپ کے ذہن میں بیوی کو طلاق دینے کا خیال آیا، لیکن آپ نے بیوی کی طرف نسبت کرکے طلاق نہیں دی تو ان الفاظ سے آپ کی بیوی پر کسی قسم کی کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الدر المختار: (300/3- 302، ط: سعید)
الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب.
الفتاوي الھندیة: (374/1، ط: دار الفکر)
لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی