سوال:
زید نے اپنی بیوی کو اپنی ماں کے ساتھ جھگڑے کے دوران دو طلاق ان الفاظ سے "طلاق ہے، طلاق ہے"دی، پھر کچھ عرصہ بعد میاں بیوی کا آپس میں جھگڑا ہوا تو دوران جھگڑا زید نے اپنی بیوی (اریبہ) کو ایک اور طلاق دی تھی، اس طلاق کے بارے میں زید کی بیوی کہتی ہے کہ شوہر نے مطلقاً طلاق دی تھی، جبکہ ساس اور زید کی بہن کہتی ہے کہ زید نے یہ کہا تھا کہ اگر اسی موبائل سے تم نے اپنی ماں سے بات کی تو تم کو طلاق ہے، یہ کہنے کے بعد فوراً زید نے موبائل توڑ دیا، پھر کچھ وقت کے بعد میاں بیوی آپس میں گپ شپ لگا رہے تھے تو بیوی نے کہا کہ بار بار طلاق کا لفظ استعمال نہ کرو اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے تو زید نے اپنی بیوی کو گلے لگایا اور کہا کہ "طلاق طلاق طلاق" اب پوچھنا یہ ہے کہ کتنی طلاقیں ہوئی ہیں اور کیا میاں بیوی اکٹھے رہ سکتے ہیں؟ کیا تین طلاق دینے سے تین واقع ہو جاتی ہیں؟ اب عورت عدت طلاق کس طرح گزارے؟ نیز شوہر نے کہا کہ میں نے پوچھا ہے ایک طلاق ہوئی ہے میں اہل حدیث ہونے کےلئے تیار ہوں۔
تنقیح:
محترم! اس بات کی وضاحت کردیں کہ شروع کی دو طلاقیں دینے کے بعد شوہر نے عدت کے اندر رجوع کرلیا تھا یا نہیں؟ اس وضاحت کے بعد آپ کے سوال کا جواب دیا جاسکے۔
جواب تنقیح:
دو طلاقیں دینے کے بعد رجوع کرلیا تھا اور ساتھ رہ رہے تھے۔
جواب: واضح رہے کہ مذاق اور گپ شپ میں بھی طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے، جیساکہ ترمذی شریف میں حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نکاح، طلاق اور رجوع یہ تین چیزیں ایسی ہیں کہ انہیں سنجیدگی سے کرنا بھی سنجیدگی ہے اور ہنسی مذاق میں کرنا بھی سنجیدگی ہے“۔ (جامع ترمذی، حدیث نمبر: 1184)
سوال میں ذکر کردہ تفصیلات اگر درست ہیں اور واقعتاً زید نے دو طلاقیں دینے کے بعد بیوی کو گلے لگاکر اسے "طلاق، طلاق، طلاق" کے الفاظ کہے ہیں تو اس سے تیسری طلاق واقع ہوکر حُرمتِ مُغَلّظہ ثابت ہوچکی ہے، جس کے بعد نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ ہی دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔
البتہ تین طلاقوں کے بعد دوبارہ نکاح کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ عورت عدّت گزار کر کسی اور مرد سے نکاح کرے اور اس سے ازدواجی تعلقات قائم کرے، پھر وہ اسے اپنی مرضی سے طلاق دیدے یا اس کا انتقال ہوجائے تو پھر وہ عورت عدت گزار کر اگر اپنے سابقہ شوہر سے نکاح کرنا چاہے تو کرسکتی ہے۔
واضح رہے کہ ایک ہی مجلس میں دی گئی تین طلاقیں شریعت کی نظر میں تین ہی واقع ہوتی ہیں اور اس کے بعد بیوی اپنے شوہر پر حرام ہو جاتی ہے۔ یاد رکھیے! یہ حکم قرآن کریم، احادیث نبویہ سے ثابت ہے، جمہور صحابہ و تابعین رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اجماع بھی اسی پر ہے، اور ائمہ اربعہ رحمہم اللہ تعالی کا بالاتفاق یہی مسلک ہے، لہٰذا تین طلاقوں سے بچنے کے لیے نہ تو غیر مقلّدیت اختیار کرنا جائز ہے، اور نہ ہی اسے اختیار کرنے سے بیوی حلال ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:
القرآن الکریم: (البقرۃ، الایة: 230)
فَاِنْ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہ....الخ
روح المعانی: (البقرۃ، الایة: 230)
"فإن طلقہا‘‘ متعلقا بقولہ سبحانہ ’’الطلاق مرتان‘‘ .... فلاتحل لہ من بعد‘‘ أي من بعد ذلک التطلیق ’’حتی تنکح زوجاًغیرہ‘‘ أي تتزوج زوجا غیرہ ویجامعہا".
صحیح البخاری: (باب من اجاز طلاق الثلاث، رقم الحدیث: 5260، 412/3، ط: دار الکتب العلمیة)
حدثنا سعيد بن عفير قال حدثني الليث قال حدثني عقيل عن ابن شهاب قال أخبرني عروة بن الزبير أن عائشة أخبرته أن امرأة رفاعة القرظي جاءت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله إن رفاعة طلقني فبت طلاقي وإني نكحت بعده عبد الرحمن بن الزبير القرظي وإنما معه مثل الهدبة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعلك تريدين أن ترجعي إلى رفاعة لا حتى يذوق عسيلتك وتذوقي عسيلته
سنن أبي داود: (باب فی اللعان، رقم الحدیث: 2250)
"عن سہل بن سعد قال :فطلقہا ثلاث تطلیقات عند رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، فأنفذہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم الخ“۔
ترجمہ: "حضرت عویمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں اور آپ نے اُن کو نافذ کردیا"۔
جامع الترمذي: (476/2، رقم الحديث: 1184، ط: دار الغرب الإسلامي)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثَلَاثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ وَهَزْلُهُنَّ جِدٌّ: النِّكَاحُ»، وَالطَّلَاقُ، وَالرَّجْعَةُ.
هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ. وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ حَبِيبِ بْنِ أَرْدَكَ الْمَدَنِيُّ، وَابْنُ مَاهَكَ هُوَ عِنْدِي يُوسُفُ بْنُ مَاهَكَ.
الفتاوی التاتارخانیة: (187/3، ط: قدیمی)
وطلاق السکران واقع اذا سکر من الخمر أو النبیذ وھو مذھب اصحابنا۔
فتح القدیر: (کتاب الطلاق، 469/3، ط: دار الفکر)
ذہب جمہور الصحابة والتابعین ومن بعدہم من أئمة المسلمین الی أنہ یقع ثلاثاً".
عمدۃ القاری: (باب من جوز طلاق الثلاث، 233/20، ط: دار احیاء التراث العربي)
”ومذہب جماہیر العلماء من التابعین ومن بعدہم منہم: الأوزاعي والنخعي والثوري، و أبو حنیفة وأصحابہ، ومالک و أصحابہ، والشافعي وأصحابہ، وأحمد و أصحابہ، و اسحاق و أبو ثور و أبو عبید وآخرون کثیرون علی أن من طلق امرأتہ ثلاثاً، وقعن؛ولکنہ یأثم“.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی