resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: بیوی کو "مردار" کہنے سے طلاق کا حکم

(39790-No)

سوال: مفتی صاحب! اگر کام کاج کرنے کے دوران بیوی سستی دکھائے تو شوہر بغیر طلاق کی نیت سے مردار کہے تو کیا اس سے نکاح پر اثر پڑے گا؟رہنمائی فرمائیں

جواب: واضح رہے کہ طلاق واقع ہونے کے لیے شوہر کا ایسے الفاظ استعمال کرنا ضروری ہے جن سے طلاق کے معنی سمجھ آتے ہوں، "مردار" ہمارے عرف میں صرف گالی ہے، اس میں طلاق کے معنی نہیں پائے جاتے، اس لیے سوال میں پوچھی گئی صورت میں بیوی کو مردار کہنے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے، البتہ بیوی کو مردار کہنا گالی ہے اور دین اسلام میں گالی دین منع ہے، اس لیے گالی دینے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الصحیح لمسلم: (رقم الحدیث : 221، ط: دار احیاء التراث العربی)
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ".

رد المحتار: (230/3، ط: ایچ ایم سعید)
(قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس والإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا كما سيأتي.
وبه ظهر أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق ولم يذكر لفظا لا صريحا ولا كناية لا يقع عليه كما أفتى به الخير الرملي وغيره، وكذا ما يفعله بعض سكان البوادي۔

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce