سوال:
السلام علیکم، میں ابوظہبی میں بیوی بچوں کے ساتھ رہتا ہوں, میرا بیوی کے ساتھ اکثر اوقات جھگڑا رہتا ہے، اس دفعہ جھگڑا بہت شدید بڑھ گیا اور شدید لڑائی اور غصے کے دوران میں نے غصے میں پھر غیر ارادی طور پر میں نے گالیاں دیتے ہوئے کہا: "کہ تیری ماں کو بھی طلاق ہوئی تھی اور تمہیں بھی طلاق ہوگی" کیونکہ لڑائی شدید تھی اور حواس باختہ تھا اور میرا غصہ اتنا زیادہ تھا کہ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ میں کیا بول رہا ہوں تو جو باتیں شدید لڑائی میں منہ سے نکل رہی تھیں, اس کا پتہ نہیں چل رہا تھا۔ اس لڑائی میں میری بیوی بھی دو بدو جواب دے رہی تھی، جس سے میرا غصہ بڑھتا گیا۔ اسی دوران میری بیوی دوسرے کمرے میں چلی گئی اور اپنے آپ کو دوسرے کمرے میں بند کر دیا۔
بیوی کا بعد میں کہنا تھا کہ شدید لڑائی اور غصے میں میں نے کہا کہ تمہیں طلاق ہے، جبکہ لڑائی اور غصے میں جو بھی الفاظ نکلے مجھے یاد نہیں ہیں، لڑائی کے دوران میں نے یہ بھی کہا کہ جاؤ، چلی جاؤ، جہاں جانا ہے جاؤ۔ جو کچھ لے جانا چاہو، لے جاؤ اور اپنے بیٹے کو بھی ساتھ لے جانا چاہتی ہو تو لے جاؤ۔
میں حلفاً کہتا ہوں کہ میری کوئی طلاق کی نیت نہیں تھی، نہ یہ ساری باتیں ارادتاً کہی ہیں، نہ میں نے ایسا ہوش میں کہا ہے کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، نہ ایسا کہا ہے کہ تم مجھ پر طلاق ہو، نہ میری طلاق کی کوئی نیت تھی۔ میری بیوی کا کہنا ہے کہ میں نے اس سے پہلے بھی لڑائی کے دوران کہا تھا کہ جاؤ طلاق ہو جاؤ۔ جبکہ میں نے یہ نہیں کہا کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔ برائے مہربانی میری رہنمائی فرمائیں، میں اپنی بیوی کو چھوڑنا نہیں چاہتا، ہمارے چھوٹے بچے ہیں۔
جواب: سوال میں ذکر کردہ صورت میں اگر بوقت طلاق شوہر کی کیفیت مجنون اور مدہوش کی طرح تھی کہ اسے اپنی عقل اور زبان پر قابو نہ رہا تھا اور طلاق کے الفاظ اور اس کے نتیجے سے بھی بے خبر تھا تو اس شخص کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے، البتہ اگر اس قدر مدہوشی کی کیفیت نہیں تھی، بلکہ صرف شدید غصے کی کیفیت تھی، لیکن الفاظ طلاق اور اس کے اثر سے باخبر تھا تو ایسے شخص کی بیوی پر ایک طلاق واقع ہوچکی ہے، البتہ شوہر عدت (یعنی تین ماہواریاں) گزرنے سے پہلے رجوع کرسکتا ہے، رجوع کرنے کی صورت میں آئندہ شوہر کو صرف دو طلاقوں کا اختیار رہے گا۔
چونکہ طلاق کا معاملہ انتہائی سنگین ہے، لہذا شوہر پر لازم ہے کہ خوف آخرت کو سامنے رکھ کر خود کو جانچے اور اس کے موافق عمل کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
رد المحتار: (244/3، ط: دار الفکر)
قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله. الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله. اه. ملخصا ..... فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن الإدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل
اعلاء السنن: (180/11، ط: ادارۃ القرآن)
والمراد الغضب الذي یحصل به الدھش وزوال العقل فإن قلیل الغضب لایخلو الطلاق عنہ إلانادراً، وقد قلنا بعدم وقوع الطلاق في مثل ھذا الغضب قال الزیلعی: قال فی التنقیح: وقد فسرہ أحمد أیضًا بالغضب۔ قال شیخنا : والصواب أنہ یعُمّ الإکراہ والغضب والجنون وکل أمرٍ ا نغلق علی صاحبہ عِلمُه وقصدہ، مأخوذ من غلق الباب.
امداد الاحکام: (560/2، ط: دار العلوم کراچی)
امداد المفتین جامع: (228/9، ادارۃ المعارف)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی