resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: اسٹامپ پیپر بنانے والے کا ایک طلاق لکھنے کے بجائے تین طلاق لکھ دینا

(39920-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ!
میں نے مورخہ نو جنوری 2025 کو اپنی کزن کو یہ میسج لکھ کر بھیجا تھا "میں نے اس کو آزاد کہ دیا" جس سے میرا مقصد تھا کہ میں نے اپنی بیوی کو آزاد کہ دیا اور اس سے ایک طلاق بائن دیکر نکاح ختم کرنا تھا، اطلاع دینے اور قانونی تقاضہ پورا کرنے کے لیے کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق بائن دیکر نکاح ختم کردیا ہے، اسٹام فروش سے رابطہ کیا اور اس کو نو جنوری 2025 کی طلاق لکھنے کا کہا تو اس نے مندرجہ ذیل کا غذ دیا اور میں نے دستخط کر کے آگے بھیج دیا، یعنی اس پر جو لکھا ہے کہ میں نے نو جنوری کو طلاق طلاق طلاق کہا ہے حالانکہ یہ بات خلاف حقیقت ہے، میں نے صرف ایک ہی دفعہ کہا تھا کہ میں نے اسے آزاد کہ دیا اور اس کاغذ کا مقصد گزشتہ نو جنوری کی طلاق کی خبر دینا تھا، طلاق نامہ پر مندرجہ ذیل الفاظ لکھے تھے:
Therefore, I have been compelled to pronounce “Talaq, Talaq, Talaq” thrice upon my wife Hafiza Afeefa on 09-01-2025
ترجمہ: لہٰذا میں اپنی بیوی حافظہ عفیفہ کو مجبور ہوکر 09-01-2025 کو تین دفعہ طلاق، طلاق، طلاق کہ دیا تھا۔
نو جنوری کے علاوہ میں نے طلاق کے الفاظ کبھی استعمال نہیں کیے، نہ بولے اور نہ لکھے، جبکہ نو جنوری کے میسج میں صرف یہ الفاظ تھے "میں نے اسے آزاد کہ دیا"، کاغذ پر یہ الفاظ میرے کہنے سے نہیں لکھے گئے، میرا مقصد نو جنوری کی طلاق بائن کی اطلاع دینا تھا۔
اب کاغذ پر جو خبر دی گئی ہے، وہ نو جنوری کے الفاظ کے مطابق نہیں، یہ نوٹس تین اپریل 2025 کو جاری ہوا ہے، جس وقت میری بیوی میرے بچے سے حاملہ تھی۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا ایسی صورت میں دوبارہ نکاح کی کوئی گنجائش باقی ہے؟ شرعی ہدایات کی روشنی میں۔ جواب دیکر ممنون فرمائیں۔ جزاک اللہ خیرا

جواب: واضح رہے کہ مفتی غیب کا علم نہیں جانتا، بلکہ وہ سوال میں دی گئی معلومات کو سامنے رکھ کر جواب دیتا ہے، لہذا سوال میں لکھی گئی معلومات کے سچ یا خلافِ واقعہ ہونے کی ذمّہ داری سوال کرنے والے پر ہوگی، مفتی اس سے بری الذمّہ ہوگا۔
اس تمہید کے بعد سوال میں ذکر کردہ صورت میں اگر واقعتاً آپ کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ اس اسٹامپ پیپر میں اسٹامپ پیپر بنانے والے نے تین طلاقیں لکھ دی ہیں، اور نہ ہی آپ نے اس کو تین طلاقیں لکھنے کا کہا تھا اور نہ ہی آپ کو تحریر میں لکھے گئے تین طلاق کے الفاظ سنائے گئے تھے تو اس تحریر پر دستخط کرنے کی وجہ سے آپ کی بیوی پر تین طلاقیں واقع نہیں ہوئی ہیں، بشرطیکہ آپ نے زبان سے تین طلاقیں نہ دی ہوں، البتہ چونکہ آپ ایک طلاق دے چکے ہیں، لہذا آپ کی بیوی پر ایک طلاق واقع ہوچکی ہے، جس کی وجہ سے آپ دونوں کا نکاح ٹوٹ گیا ہے، اب اگر آپ دونوں باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں۔
نوٹ: واضح رہے کہ شریعت نے جس چیز کو حرام قرار دیا ہے، وہ کسی انسان کے حلال کہہ دینے سے حلال نہیں ہوتا، بلکہ حرام ہی رہتا ہے، چونکہ طلاق ایک سنجیدہ معاملہ ہے، اور طلاق کے معاملے میں انتہائی احتیاط ضروری ہے، لہذا آپ خوف خدا اور خوف آخرت کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے پیش آمدہ مسئلہ کا فیصلہ کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الفتاوی الھندیة: (379/1، ط: دار الفکر)
رجل استكتب من رجل آخر إلى امرأته كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه وطواه وختم وكتب في عنوانه وبعث به إلى امرأته فأتاها الكتاب وأقر الزوج أنه كتابه فإن الطلاق يقع عليها وكذلك لو قال لذلك الرجل ابعث بهذا الكتاب إليها أو قال له اكتب نسخة وابعث بها إليها وإن لم تقم عليه البينة ولم يقر أنه كتابه لكنه وصف الأمر على وجهه فإنه لا يلزمه الطلاق في القضاء ولا فيما بينه وبين الله تعالى وكذلك كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع به الطلاق إذا لم يقر أنه كتابه كذا في المحيط.

رد المحتار: (299/3، ط: دار الفكر)
بخلاف فارسية قوله ‌سرحتك وهو " رهاء كردم " لأنه صار صريحا في العرف على ما صرح به نجم الزاهدي الخوارزمي في شرح القدوري اه وقد صرح البزازي أولا بأن: حلال الله علي حرام أو الفارسية لا يحتاج إلى نية، حيث قال: ولو قال حلال " أيزدبروي " أو حلال الله عليه حرام لا حاجة إلى النية، وهو الصحيح المفتى به للعرف وأنه يقع به البائن لأنه المتعارف ثم فرق بينه وبين ‌سرحتك فإن ‌سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي ‌سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق.

کذا في تبویب فتاوى دار العلوم كراتشي: رقم الفتوی: (44/1977)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce