سوال:
میرے شوہر شراب پینے کی عادی ہیں، اب وہ روز شراب پی کر آتے ہیں، اور شراب کی حالت میں انہوں نے مجھ سے بحث کی، اس کے بعد انہوں نےغصے میں مجھے کہا کہ اب تم میری طرف سے فارغ ہو، اب تم میری بیوی نہیں رہی ہو، اپنے ماں باپ کو بلاؤ اپنا سامان اٹھاؤ اور میرے گھر سے نکل جاؤ اور یہ سب بولتے ہوئے میری طرف انگلی سے اشارہ بھی کیا۔براہ کرم آپ مجھے بتائیں کہ اس سے میرے نکاح میں کوئی فرق تو نہیں پڑا ہے اور مجھے طلاق بائن تو نہیں ہوئی؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر واقعتاً شوہر نے آپ کو مذکورہ الفاظ کہے ہیں تو ان کے ذریعے ایک طلاقِ بائن واقع ہوگئی ہے، جس کا حکم یہ ہے کہ اگر میاں بیوی دونوں باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو عدت کے اندر یا عدت کے بعد گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں، لیکن دوبارہ نکاح کی صورت میں آئندہ کے لیے شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔
واضح رہے کہ نشے کی حالت میں بھی طلاق دینے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہٰذا نشے کی حالت میں مذکورہ الفاظ طلاق کے واقع ہونے کے بارے میں معتبر ہوں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*
*الدر المختار مع رد المحتار: (300/3، ط: دار الفکر)*
"ونحو اعتدي واستبرئي رحمك، أنت واحدة، أنت حرة، اختاري أمرك بيدك سرحتك، فارقتك لا يحتمل السب والرد، ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال والقول له
(قوله توقف الأولان) أي ما يصلح ردا وجوابا وما يصلح سبا وجوابا ولا يتوقف ما يتعين للجواب. بيان ذلك أن حالة الغضب تصلح للرد والتبعيد والسب والشتم كما تصلح للطلاق، وألفاظ الأولين يحتملان ذلك أيضا فصار الحال في نفسه محتملا للطلاق وغيره، فإذا عنى به غيره فقد نوى ما يحتمله كلامه ولا يكذبه الظاهر فيصدق في القضاء، بخلاف ألفاظ الأخير: أي ما يتعين للجواب لأنها وإن احتملت الطلاق وغيره أيضا لكنها لما زال عنها احتمال الرد والتبعيد والسب والشتم اللذين احتملتهما حال الغضب تعينت الحال على إرادة الطلاق فترجح جانب الطلاق في كلامه ظاهرا، فلا يصدق في الصرف عن الظاهر، فلذا وقع بها قضاء بلا توقف على النية كما في صريح الطلاق إذا نوى به الطلاق عن وثاق"
*الھدایة: (257/2، ط: دار احیاء التراث العربی)*
"وإذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها " لأن حل المحلية باق لأن زواله معلق بالطلقة الثالثة فينعدم قبله".
*الفتاوى الهندية: (353/1، ط: دار الفكر)*
وطلاق السكران واقع إذا سكر من الخمر أو النبيذ. وهو مذهب أصحابنا رحمهم الله تعالى كذا في المحيط.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی