سوال:
میں اپنے شوہر کی پہلی بیوی کے بچوں کی گزشتہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے دیکھ بھال کر رہی ہوں، کیونکہ طلاق کے بعد ان کی والدہ بچوں کو اپنے پاس رکھنے کے لیے تیار نہیں ہیں, اب میں مزید ان بچوں کی پرورش اپنے ذمہ نہیں رکھنا چاہتی، جبکہ میرے شوہر چاہتے ہیں کہ بچے ہمارے ہی ساتھ رہیں۔
براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ کیا شرعاً مجھ پر ان بچوں کی پرورش کرنا لازم یا فرض ہے؟ نیز اس معاملے میں شوہر کا کیا حق ہے؟
جواب: شریعتِ مطہّرہ کی رو سے بچوں کی پرورش (حضانت) اور ان کے نان و نفقہ، تعلیم و تربیت اور ضروریات کی تکمیل بنیادی طور پر والدین کی ذمّہ داری ہے، حضانت (پرورش) کا اوّلین حق اور ذمّہ داری سگی ماں کو حاصل ہوتی ہے، اور اگر وہ کسی شرعی عذر کے بغیر اس سے دستبردار ہو جائے تو فقہائے احناف کی تصریحات کے مطابق، مناسب حالات میں اسے اس ذمّہ داری پر مجبور بھی کیا جا سکتا ہے۔ اگر ماں کے بعد خاندان کی دوسری مستحق محرم خواتین (جیسے نانی، دادی، خالہ، پھوپھی وغیرہ) موجود ہوں تو حضانت کا حق ترتیب وار ان کی طرف منتقل ہوتا ہے۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں شرعاً آپ پر اپنے شوہر کی پہلی بیوی کے بچوں کی پرورش، خدمت اور روزمرہ دیکھ بھال کرنا نہ فرض ہے اور نہ واجب، گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے تک آپ نے ان بچوں کی جو خدمت اور نگہداشت کی ہے، وہ آپ کا حسنِ سلوک، احسان اور قابلِ اجر عمل ہے، لیکن اسے آپ کا شرعی فریضہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
چونکہ آپ نہ ان بچوں کی سگی والدہ ہیں اور نہ ہی ان رشتہ دار خواتین میں شامل ہیں، جنہیں شریعت نے حضانت کا اصل حق دیا ہے، اس لیے اگر آپ کسی عذر، مشقت یا عدمِ استطاعت کی بنا پر مزید ان بچوں کی پرورش اپنے ذمہ نہیں رکھنا چاہتیں تو شرعاً آپ کو اس کا اختیار حاصل ہے، اور اس بنا پر آپ گناہ گار نہیں ہوں گی، اسی طرح شوہر بھی آپ کو شرعاً اس خدمت پر مجبور کرنے کا حق نہیں رکھتے۔
البتہ ان بچوں کے والد ہونے کی حیثیت سے ان کے نان و نفقہ، رہائش، تعلیم، علاج اور مناسب نگہداشت کی ذمّہ داری بہرحال آپ کے شوہر ہی پر عائد رہے گی، لہٰذا اگر بچوں کی والدہ انہیں اپنے پاس رکھنے پر آمادہ نہیں اور آپ بھی مزید یہ ذمّہ داری ادا کرنے سے معذور ہیں تو شوہر پر لازم ہے کہ وہ بچوں کی دیکھ بھال کا مناسب متبادل انتظام کریں، مثلاً: خود ان کی کفالت کرے، خاندان کی ان خواتین سے تعاون حاصل کرے جو شرعاً حضانت کی مستحق ہیں یا ضرورت کے مطابق کسی قابلِ اعتماد ذریعے سے ان کی نگہداشت کا انتظام کرے۔
تاہم گھریلو سکون، باہمی محبت اور بچوں کی بہترین تربیت کے پیشِ نظر مناسب یہی ہے کہ میاں بیوی اس معاملے کو باہمی مشاورت، حسنِ اخلاق اور حکمت کے ساتھ حل کریں، تاکہ نہ بچوں کے حقوق متاثر ہوں اور نہ ہی کسی فریق پر اس کی استطاعت سے بڑھ کر ایسی ذمّہ داری عائد کی جائے جس کا شریعت نے اسے مکلّف نہیں بنایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:
*الفتاوى الهندية: (542/1، ط: دار الفکر)*
وَالْأُمُّ وَالْجَدَّةُ أَحَقُّ بِالْغُلَامِ حَتَّى يَسْتَغْنِيَ وَقُدِّرَ بِسَبْعِ سِنِينَ وَقَالَ الْقُدُورِيُّ حَتَّى يَأْكُلَ وَحْدَهُ وَيَشْرَبَ وَحْدَهُ وَيَسْتَنْجِيَ وَحْدَهُ وَقَدَّرَهُ أَبُو بَكْرٍ الرَّازِيّ بِتِسْعِ سِنِينَ وَالْفَتْوَى عَلَى الْأَوَّلِ وَالْأُمُّ وَالْجَدَّةُ أَحَقُّ بِالْجَارِيَةِ حَتَّى تَحِيضَ وَفِي نَوَادِرِ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ – رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى – إذَا بَلَغَتْ حَدَّ الشَّهْوَةِ فَالْأَبُ أَحَقُّ وَهَذَا صَحِيحٌ هَكَذَا فِي التَّبْيِينِ……..وَبَعْدَمَا اسْتَغْنَى الْغُلَامُ وَبَلَغَتْ الْجَارِيَةُ فَالْعَصَبَةُ أَوْلَى يُقَدَّمُ الْأَقْرَبُ فَالْأَقْرَبُ كَذَا فِي فَتَاوَى قَاضِي خَانْ.
*البحر الرائق: (كتاب الطلاق، باب الحضانة، 166/4، ط:ايج ايم سعيد)*
"وفي الخلاصة وقال مشايخنا ولا تجبر الأم عليها وكذلك الخالة إذا لم يكن لها زوج؛ لأنها ربما تعجز عن ذلك اه. فأفاد أن غير الأم كالأم في عدم الجبر بل هو بالأولى كما في الولوالجية وذكر الفقهاء الثلاثة أبو الليث والهندواني وخواهر زاده أنها تجبر على الحضانة....فالحاصل أن الترجيح قد اختلف في هذه المسألة والأولى الإفتاء بقول الفقهاء الثلاثة لكن قيده في الظهيرية بأن لا يكون للصغير ذو رحم محرم فحينئذ تجبر الأم كي لا يضيع الولد أما إذا كان له جدة مثلا وامتنعت الأم من إمساكه ورضيت الجدة بإمساكه فإنه يدفع إلى الجدة؛ لأن الحضانة كانت حقا لها، فإذا أسقطت حقها صح الإسقاط منها وعزا هذا التفصيل إلى الفقهاء الثلاثة وعلله في المحيط بأن الأم لما أسقطت حقها بقي حق الولد فصارت الأم بمنزلة الميتة أو المتزوجة فتكون الجدة أولى، وظاهر كلامهم أن الأم إذا امتنعت وعرض على من دونها من الحاضنات فامتنعت أجبرت الأم لا من دونها، ولذا قيدوا جواب المسألة بأن رضيت الجدة بإمساكه."
*الشامیة: (كتاب الطلاق، باب الحضانة، 560/3، ط:ايج ايم سعيد)*
"﴿ولا تجبر) من لها الحضانة (عليها إلا إذا تعينت لها) بأن لم يأخذ ثدي غيرها أو لم يكن للأب ولا للصغير مال به يفتى خانية.وإذا أسقطت الأم حقها صارت كميتة، أو متزوجة فتنتقل للجدة بحر......ولو لم يوجد غيرها أجبرت بلا خلاف فتح، وهذا يعم ما لو وجد وامتنع من القبول بحر، وحينئذ فلا أجرة لها جوهرة."
وفي الرد: (قوله: وهذا يعم إلخ) أي قوله " ولو لم يوجد غيرها " يشمل عدم الوجود حقيقة وعدمه حكما، بأن وجد غيرها وامتنع. وعبارة البحر هكذا: وظاهر كلامهم أن الأم إذا امتنعت وعرض على من دونها من الحاضنات فامتنعت أجبرت الأم لا من دونها. (قوله: وحينئذ) أي حين لم يوجد غيرها فلا أجرة لها لأنها قامت بأمر واجب عليها شرعا ط. وعبارة الجوهرة: إذا كان لا يوجد سواها تجبر على إرضاعه صيانة له عن الهلاك وعليه لا أجرة لها...... ورأيت بخط شيخ مشايخنا السائحاني قال البرجندي: تجبر الأم على الحضانة إذا لم يكن لها زوج، والنفقة على الأب. وفي المنصورية أن أم الصغيرة إذا امتنعت عن إمساكها ولا زوج للأم تجبر عليه وعليه الفتوى. وقال الفقيه أبو جعفر. تجبر وينفق عليها من مال الصغيرة، وبه أخذ الفقيه أبو الليث."
*العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ: (كتاب الطلاق، باب الحضانة، 61/1، ط:دار المعرفة بیروت)*
: "﴿سئل) في حاضنة لابنها الصغير تزوجت بأجنبي وليس للصغير غيرها سوى عمة مزوجة بأجنبي أيضا فكيف يفعل به؟
(الجواب) : قال القهستاني نقلا عن المحيط إذا اجتمع النساء الساقطات الحق يضع القاضي الصغير حيث شاء منهن اه. وأفتى الخير الرملي تبعا للعلامة الشهاب الشلبي في مثل هذه الواقعة بأن إبقاء الصغير عند أمه أولى لكمال شفقتها."
*الفتاوی الخیریۃ: (كتاب الطلاق، باب الحضانة،مطلب ساقطة الحضانة بالتزويج بالأجنبي كالميتة، 196/1، ط:المكتبة النعيمية باكستان)*
: "سئل في صغيرة لها أم وجدة أم أم، وأخت شقيقة ساقطات الحق من الحضانة؛ لكونهن متزوجات بأجانب، ولها أخ لأب، هل له أن يحضنها أم لا؟ أجاب: نعم! ساقطات الحضانة بالتزوج بالأجانب كالميتات كما في البحر وغيره، فحق الحضانة للأخ والحال هذه، وفي التاترخانية بعد أن رمز للمحيط: وإذا اجتمعت النساء ولهن أزواج أجانب يضعه القاضي حيث شاء."
*وفيه أيضاً: (كتاب الطلاق، باب الحضانة، مطلب تزوجت أم الصغيرة بأجنبي، فخالتها أولى بها من أبيها، ج:1، ص:200، ط:المكتبة النعيمية باكستان﴾*
" سئل في صغيرة لها أم متزوجة بأجنبي، ولها خالة أم وأب، هل تدفع للأب أم لخالة الأم؟ أجاب: تدفع لخالة الأم؛ لأن النساء أقدر على الحضانة من الرجال، فتدفع لخالة الأم إلى انقضاء مدة الحضانة."
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی