resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: ہوش و حواس میں مختلف مواقع پر دی گئی زبانی و تحریری تین طلاق کا حکم

(49276-No)

سوال: مفتی صاحب! میرا مسئلہ یہ ہے کہ میرے شوہر کو دماغی بیماری ہے ، جس کو شیزوفرینیا (Schizophrenia ) کہتے ہیں، اس بیماری میں مریض اپنے ہوش و حواس میں نہیں رہتا، کچھ بھی اپنی طرف سے باتیں کرتا ہے، لیکن ہر وقت ایسا نہیں ہوتا، کبھی یہ لوگ صحیح ہو جاتے ہیں کبھی ان کا دماغ خراب ہو جاتا ہے، اب مسئلہ یہ ہے کہ اس نے مجھے زبانی کتنی دفعہ طلاق کے الفاظ استعمال کر چکا ہے، زبانی غصے کی حالت میں طلاق دے چکا ہے، اس کے بعد میرے شوہر نے کسی لڑکی کے چکر میں آکر تحریری طلاق اس لڑکی کے بولنے پر دی ہے، میرے شوہر نے اس لڑکی کو بولا میں سعودی عرب میں بھی کتنی دفعہ یا اس سے پہلے بھی کتنی دفعہ طلاق دے چکا ہوں، اس لڑکی نے اس کو زبردستی کہا کہ تم اپنی بیوی کو لکھ کر میسج پر طلاق دو پھر میں تمہارے ساتھ دوستی کروں گی، اس کے بعد میرے شوہر نے مجھے لکھ کر میسج کر دیا ہے کہ میں نے تمہیں طلاق دیتا ہوں تین یا اس سے زیادہ دفعہ لکھ کر طلاق دی ہیں، یہ طلاق اس نے غصے میں نہیں دی بلکہ اپنے ہوش و ہواس اور کسی لڑکی کے چکر میں دی ہیں، برائے مہربان اس مسئلے کا حل شرعی حساب سے بتائیں۔

جواب: واضح رہے کہ جس طرح طلاق کے الفاظ زبان سے ادا کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے، اسی طرح تحریری طور پر طلاق دینے سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں جب شوہر اپنے ہوش و حواس میں (جیسا کہ سوال میں مذکور ہے) زبانی طور پر بھی اور تحریری طور پر بھی تین طلاقیں دے چکا ہے تو اگرچہ اس نے یہ طلاقیں کسی لڑکی کے بہکاوے میں آکر دی ہوں، شرعی اعتبار سے تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اور نکاح ختم ہوچکا ہے، اب نہ رجوع کی گنجائش باقی ہے اور نہ ہی باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرنا جائز ہے، البتہ اگر عورت عدّت گزارنے کے بعد کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے، اور اس دوسرے شوہر سے ازدواجی تعلقات بھی قائم ہو جائیں، پھر وہ شوہر طلاق دیدے یا اس کا انتقال ہوجائے تو عورت عدت گزارنے کے بعد پہلے شوہر سے نکاح کرے تو ایسا کرنا جائز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*روح المعانی: (البقرۃ، الایة: 230)*
"فإن طلقها‘‘ متعلقا بقوله سبحانه ’’الطلاق مرتان‘‘ .... فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ أي من بعد ذلك التطليق حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ أي تتزوّج زوجا غيره، ويجامعها

*الدر المختار: (233/3، ط: دار الفکر)*
وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث.

*بدائع الصنائع: (109/3، ط: دار الكتب العلمية)*
إن كتب على الوجه المرسوم ولم يعقله بشرط بأن كتب أما بعد يا فلانة فأنت وقع الطلاق عقيب كتابة لفظ الطلاق بلا فصل لما ذكرنا أن كتابة قوله: أنت طالق على طريق المخاطبة بمنزلة التلفظ بها.

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce