سوال:
مفتی صاحب! گزارش ہے کہ شریعتِ اسلامیہ اور اہلِ حدیث مکتبِ فکر کی روشنی میں ہمارے ایک مسئلے کا شرعی حل اور تحریری فتویٰ جاری فرما دیں۔
پچھلے سال (اکتوبر یا نومبر کے مہینے میں) میرا اپنی بیوی کے ساتھ سخت جھگڑا ہوا اور غصے کی حالت میں میں نے فون (کال) پر اپنی بیوی کو یہ الفاظ کہے: "میری طرف سے تمہیں طلاق، طلاق، طلاق ہے"۔
الفاظ ادا کرنے کے فوراً بعد ہی کچھ ہی دیر میں میرا غصہ بالکل ٹھنڈا ہو گیا اور مجھے اپنے کیے پر سخت پچھتاوا ہوا، چنانچہ، ہم نے اسی وقت یعنی طلاق کے فوراً بعد عدت کے اندر ہی دوبارہ میاں بیوی کی طرح ساتھ رہنا شروع کر دیا اور ہمارے درمیان میاں بیوی والے تعلقات قائم ہو گئے۔ اس واقعے کو اب تقریباً 8 سے 9 ماہ گزر چکے ہیں اور ہم اس دوران مسلسل میاں بیوی کی طرح ساتھ رہ رہے ہیں، اس واقعے کے بعد سے اب تک میں نے دوبارہ کبھی طلاق کے الفاظ استعمال نہیں کیے۔
آپ سے درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:
۱) اہلِ حدیث موقف کے مطابق کیا ایک ہی وقت (یا ایک ہی کال) پر دی گئی یہ تین طلاقیں ایک شمار ہوں گی؟
۲) چونکہ ہم طلاق کے فوراً بعد عدت کے اندر ہی دوبارہ ساتھ رہنے لگ گئے تھے تو کیا ہمارا رجوع شرعاً صحیح ہو گیا تھا؟
۳) کیا ہمارا موجودہ نکاح برقرار ہے اور ہمارا میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہنا شرعاً حلال ہے؟
برائے مہربانی اس معاملے کا تحریری فتویٰ جاری فرما کر شکریہ کا موقع دیں۔
جواب: واضح رہے کہ ایک ہی مجلس میں دی گئی تین طلاقیں شریعت کی نظر میں تین ہی واقع ہوتی ہیں اور اس کے بعد بیوی اپنے شوہر پر حرام ہو جاتی ہے، یہی حکم قرآن کریم اور احادیث نبویہ سے ثابت ہے اور اسی پر جمہور صحابہؓ رضوان اللہ علیہم اجمعین و تابعین کا اجماع اور ائمہ اربعہ رحمہم اللہ تعالی کا بالاتفاق یہی مسلک ہے، جو حضرات بعض دیگر احادیث سے استدلال کرتے ہوئے ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک قرار دیتے ہیں، جمہورِ امّت کے نزدیک ان کا استدلال صحیح مفہوم پر مبنی نہیں، کیونکہ وہ ان روایات کا ایسا مفہوم لیتے ہیں جو قرآنِ کریم، کثیر احادیث، آثارِ صحابہ اور جمہورِ امّت کے مسلک کے خلاف ہے۔
لہٰذا راجح اور مفتیٰ بہ قول یہی ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں تین ہی واقع ہوتی ہیں اور تین طلاقیں واقع ہونے کے بعد نکاح فوراً ختم ہو جاتا ہے، میاں بیوی ایک دوسرے پر حرمتِ مغلّظہ کے ساتھ حرام ہو جاتے ہیں، رجوع اور نئے نکاح کا حق باقی نہیں رہتا۔ دوبارہ نکاح اسی وقت ممکن ہے کہ جب عورت پہلے شوہر کی عدت گزار کر کسی اور مرد سے نکاح کرے، اور اس سے ازدواجی تعلقات قائم کرے، پھر وہ اسے طلاق دیدے یا اس کا انتقال ہو جائے تو عورت عدت گزار کر پہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے۔
1/3) اس تمہید کی روشنی میں چونکہ آپ نے اپنی اہلیہ کو تین طلاقیں دے دی ہیں، اس لیے شرعی اعتبار سے تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں اور آپ دونوں کا نکاح ختم ہو گیا ہے، اب نہ رجوع کی کوئی گنجائش باقی رہی ہے اور نہ ہی باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کیا جا سکتا ہے۔
نیز تین طلاقیں واقع ہونے کے بعد آپ دونوں کے درمیان جو میاں بیوی والے تعلقات قائم ہوئے، وہ شرعاً ناجائز تھے، لہٰذا آپ دونوں پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور سچے دل سے توبہ و استغفار کریں اور فوراً علیحدہ ہوجائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*القرآن الکریم :(البقره ، آیت نمبر:230)*
’’فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰي تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗ ۭ
*أحكام القرآن للجصاص: ( 415/5، ط: دار الكتب العلمية بيروت - لبنان)*
قوله تعالى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ} منتظم لمعان: منها تحريمها على المطلق ثلاثا حتى تنكح زوجا غيره، مفيد في شرط ارتفاع التحريم الواقع بالطلاق الثلاث العقد والوطء جميعا; لأن النكاح هو الوطء في الحقيقة، وذكر الزوج يفيد العقد، وهذا من الإيجاز واقتصار على الكناية المفهمة المغنية عن التصريح. وقد وردت عن النبي صلى الله عليه وسلم أخبار مستفيضة في أنها لا تحل للأول حتى يطأها الثاني، منها حديث الزهري عن عروة عن عائشة: أن رفاعة القرظي طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير، فجاءت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا نبي الله إنها كانت تحت رفاعة فطلقها آخر ثلاث تطليقات فتزوجت بعده عبد الرحمن بن الزبير وإنه يا رسول الله ما معه إلا مثل هدبة الثوب فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: "لعلك تريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك".
*سنن أبي داود: (باب في اللعان، رقم الحدیث: 2250)*
عن سهل بن سعد قال :فطلقها ثلاث تطلیقات عند رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیه وسلم ، فأنفذہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیه وسلم ... الخ۔
*شرح النووي على مسلم: (70/10، ط: دار إحياء التراث العربي)*
«وقد اختلف العلماء فيمن قال لامرأته أنت طالق ثلاثا فقال الشافعي ومالك وأبو حنيفة وأحمد وجماهير العلماء من السلف والخلف يقع الثلاث
*روح المعانی: (البقرۃ، الایة: 230)*
"فإن طلقها‘‘ متعلقا بقوله سبحانه ’’الطلاق مرتان‘‘ .... فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ أي من بعد ذلك التطليق حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ أي تتزوّج زوجا غيره، ويجامعها
*الشامیة:(233/3، ط۔: سعید)*
’’وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث۔۔۔۔ أما أولا فإجماعهم ظاهر لأنه لم ينقل عن أحد منهم أنه خالف عمر حين أمضى الثلاث، ولا يلزم في نقل الحكم الإجماعي عن مائة ألف تسمية كل في مجلد كبير لحكم واحد على أنه إجماع سكوتي. وأما ثانيا فالعبرة في نقل الإجماع نقل ما عن المجتهدين والمائة ألف لا يبلغ عدة المجتهدين الفقهاء منهم أكثر من عشرين كالخلفاء والعبادلة وزيد بن ثابت ومعاذ بن جبل وأنس وأبي هريرة، والباقون يرجعون إليهم ويستفتون منهم وقد ثبت النقل عن أكثرهم صريحا بإيقاع الثلاث ولم يظهر لهم مخالف - {فماذا بعد الحق إلا الضلال} [يونس: 32]- وعن هذا قلنا لو حكم حاكم بأنها واحدة لم ينفذ حكمه لأنه لا يسوغ الاجتهاد فيه فهو خلاف لا اختلاف۔‘‘
*الفتاوى الهندية: (196/10، ط: دار الكتب العلمية بيروت - لبنان)*
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز .أما الإنزال فليس بشرط للإحلال.
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی