سوال:
السلام علیکم، مفتی صاحب! میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو پہلے ایک مرتبہ واضح لفظ "طلاق" کے ساتھ طلاق دی تھی، پھر عدت کے اندر رجوع کر لیا تھا اس کے بعد غصے میں میں نے یہ الفاظ کہے: "اگر میری اجازت کے بغیر اپنی بہن یا خالہ کے گھر گئی تو میری طرف سے فارغ"
لیکن میری بیوی اس کے بعد اپنی بہن یا خالہ کے گھر نہیں گئی، اب میں اسے اجازت دینا چاہتا ہوں کہ وہ اپنی بہن یا خالہ کے گھر جا سکے۔
براہِ کرم رہنمائی فرمائیں:
1۔ کیا اس صورت میں دوسری طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟
2۔ اگر میں اب اجازت دے دوں تو کیا وہ جا سکتی ہے؟
3۔ کیا اس معلق طلاق کو ختم کرنے کا کوئی طریقہ ہے؟
جزاکم اللہ خیراً
جواب: واضح رہے کہ اگر شوہر طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلّق کردے تو شرط پائے جانے کی صورت میں طلاق واقع ہو جاتی ہے۔
لہٰذا مذکورہ صورت میں چونکہ شوہر نے اپنی اجازت کے بغیر بہن یا خالہ کے گھر جانے پر طلاق کو معلّق کیا ہے، اس لیے اگر بیوی شوہر کی اجازت کے بغیر اپنی بہن یا خالہ کے گھر جائے گی تو ایک طلاق بائن واقع ہو جائے گی۔
البتہ اگر شوہر کی اجازت سے جائے گی تو تعلیق نہ پائے جانے کی وجہ سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔
نیز واضح رہے کہ تعلیق واپس لینے سے تعلیق ختم نہیں ہوتی ہے، البتہ اس کی صورت یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو ایک طلاق رجعی یا بائن دے دے اور عدت کے بعد بیوی شوہر کی اجازت کے بغیر بہن اور خالہ کے گھر چلی جائے تو اس سے وہ تعلیق ختم ہو جائے گی، عدت کے بعد دوبارہ اس سے نکاح کرلے، اب شوہر کی اجازت کے بغیر بہن یا خالہ کے گھر جانے سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔
*دلائل*
*الهداية: (1/244 ط: دار احیاء التراث العربی)*
"وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق" وهذا بالاتفاق لأن الملك قائم في الحال والظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط فيصح يمينا أو إيقاعا.
*الفتاوى الهندية: 1/420 ط: المطبعة الكبرى الأميرية*
ثُمَّ الشَّرْطُ إنْ كَانَ مُتَأَخِّرًا عَنْ الْجَزَاءِ فَالتَّعْلِيقُ صَحِيحٌ وَإِنْ لَمْ يُذْكَرْ حَرْفُ الْفَاءِ إذَا لَمْ يَتَخَلَّلْ بَيْنَ الْجَزَاءِ وَبَيْنَ الشَّرْطِ سُكُوتٌ أَلَا تَرَى أَنَّ مَنْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: أَنْتِ طَالِقٌ إنْ دَخَلْتُ الدَّارَ يَتَعَلَّقُ الطَّلَاقُ بِالدُّخُولِ وَإِنْ لَمْ يُذْكَرْ حَرْفُ الْفَاءِ لِمَا لَمْ يَتَخَلَّلْ بَيْنَهُمَا سُكُوتٌ وَإِنْ كَانَ الشَّرْطُ مُقَدَّمًا عَلَى الْجَزَاءِ فَإِنْ كَانَ الْجَزَاءُ اسْمًا فَإِنَّمَا يَتَعَلَّقُ بِالشَّرْطِ إذَا ذُكِرَ الْجَزَاءُ بِحَرْفِ الْفَاءِ حَتَّى إنْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ إنْ: دَخَلْتُ الدَّارَ فَأَنْت طَالِقٌ يَتَعَلَّقُ الطَّلَاقُ بِالدُّخُولِ وَلَوْ قَالَ: إنْ دَخَلْتُ الدَّارَ أَنْتِ طَالِقٌ يَقَعُ الطَّلَاقُ لِلْحَالِ إلَّا إذَا قَالَ عَنَيْتُ بِهِ التَّعْلِيقَ فَحِينَئِذٍ يَدِينُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ - تَعَالَى - وَلَا يَدِينُ فِي الْقَضَاءِ.
*فتح القدير لكمال بن الهمام (10/ 437)*
"وعرف في الطلاق أنه لو قال إن دخلت فأنت طالق إن دخلت فأنت طالق إن دخلت فأنت طالق فدخلت وقع عليها ثلاث تطليقات".
*الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 355):*
"فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدةً ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها"
*کذا في کتاب النوازل: (589/9)*
و الله تعالی أعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی