سوال:
میرے شوہر نے ایک مرتبہ غصے میں مجھے ایک طلاق دی تھی، اس کے بعد ہم نے عدت (تین ماہ) کے اندر رجوع کر لیا تھا، پھر کچھ عرصہ بعد ایک مرتبہ موبائل فون پر ہماری کسی بات پر تکرار ہوئی، جس دوران میرے شوہر نے مجھے طلاق دی، تاہم میں نے اس وقت واضح طور پر نہیں سنا اور کال بند کر دی۔ بعد میں جب وہ گھر آئے تو میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے مجھے طلاق دی تھی؟ تو انہوں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ نہیں، میں نے طلاق کا لفظ نہیں کہا۔
اس کے بعد ہم معمول کے مطابق ازدواجی زندگی گزارتے رہے، لیکن آج اتفاق سے مجھے معلوم ہوا کہ اس دن کی فون کال ریکارڈ ہو گئی تھی، جب میں نے وہ ریکارڈنگ سنی تو اس میں میرے شوہر واضح طور پر یہ کہتے ہوئے سنائی دے رہے ہیں: "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔"
ابھی تک میری اس بارے میں اپنے شوہر سے بات نہیں ہوئی، کیونکہ وہ اس وقت شہر سے باہر ہیں، یہ ریکارڈنگ سننے کے بعد میں بہت پریشان ہوں، حالانکہ ہم اس کے بعد سے معمول کے مطابق میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی گزار رہے تھے۔
مزید یہ کہ جس وقت میرے شوہر نے یہ الفاظ کہے تھے، اس وقت وہ نشے کے عادی تھے اور بہت زیادہ نشہ بھی کرتے تھے، البتہ حال ہی میں میں نے ان کا بحالیِ صحت (Rehabilitation) کے مرکز میں علاج کروایا ہے، اور الحمد للہ اب انہیں نشہ چھوڑے تقریباً تین ماہ ہو چکے ہیں۔ براہِ کرم شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ اس صورت میں نکاح کا کیا حکم ہے؟ جزاکم اللہ خیراً
جواب: سوال میں پوچھی گئی صورت میں جب آپ کے شوہر نے فون پر آپ کو طلاق کے الفاظ کہے تو اس سے آپ پر دوسری طلاق واقع ہوگئی تھی، یہ طلاق چونکہ رجعی تھی، اس لیے عدت کے اندر قولی یا فعلی طور پر رجوع ممکن تھا۔
لہذا اگر آپ کے شوہر نے دوسری طلاق کے بعد عدت کے اندر ازدواجی تعلقات قائم کرلیا تھا، یا خواہش اور رغبت کے ساتھ آپ کو چھو لیا تھا یا قولی طور پر رجوع کرلیا تھا تو اس دوسری طلاق سے رجوع ہوگیا ہے، آپ دونوں میاں بیوی کی طرح رہ سکتے ہیں، البتہ اس صورت میں اب آپ کے شوہر کے پاس صرف ایک طلاق کا حق باقی ہے اگر خدا نخواستہ کبھی تیسری طلاق دیدی تو پھر نہ رجوع ممکن ہوگا اور نہ ہی تجدیدِ نکاح ہوسکے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*الھدایة: (254/2، ط: دار احياء التراث العربي)*
واذا طلق الرجل امراتہ تطلیقة رجعیة او تطلیقتین فلہ ان یراجعھا فی عدتھا۔
*الھندیة: (468/1، ط: مکتبۃ رشیدیۃ)*
الرجعة إبقاء النكاح على ما كان ما دامت في العدة كذا في التبيين وهي على ضربين: سني وبدعي (فالسني) أن يراجعها بالقول ويشهد على رجعتها شاهدين ويعلمها بذلك فإذا راجعها بالقول نحو أن يقول لها: راجعتك أو راجعت امرأتي ولم يشهد على ذلك أو أشهد ولم يعلمها بذلك فهو بدعي مخالف للسنة والرجعة صحيحة *وإن راجعها بالفعل مثل أن يطأها أو يقبلها بشهوة أو ينظر إلى فرجها بشهوة فإنه يصير مراجعا عندنا إلا أنه يكره له ذلك ويستحب أن يراجعها بعد ذلك بالإشهاد كذا في الجوهرة النيرة۔*
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی