resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: تلخ کلامی کے دوران "تم میری طرف سے فارغ ہو" کے الفاظ بیوی کو دو مرتبہ کہنے کا حکم

(46216-No)

سوال: برائے مہربانی میرا مسئلہ پڑھ کر مجھے فتویٰ دے دیجیے۔ بہت الجھن کا شکار ہوں۔
شوہر دو دن پہلے بیوی سے بولے کہ میں تمہیں کبھی طلاق نہیں دوں گا مطلب پہلے سے طلاق دینے کا ارادہ نہیں تھا مگر دو دن بعد اگر کسی معمولی بات پر بحث کے دوران جبکہ اس وقت موضوع بھی طلاق کا نہ ہو، بیوی کسی بات پہ شوہر کو یہ کہے کہ جو بھی فیصلہ کرنا ہے کریں۔ نہ بیوی نے اس وقت طلاق کی نیت سے یہ الفاظ کہے اور نہ ہی شوہر کا اس وقت طلاق دینے کا کوئی ارادہ یا نیت تھی مگر جواباً شوہر بول دے تم میری طرف سے فارغ ہو۔
بیوی کے گھر سے چلے جانے کے بعد شوہر اس سے رابطہ بھی کرے اور اسے واپس گھر آنے کے لیے بھی بولے، مگر اس وقت بیوی واپس نہ آئے اور عدت کا وقت گزر جائے تو کیا یہ نکاح ختم ہو گیا؟ نیت کے بارے میں شوہر کا یہ کہنا کہ میرا ارادہ طلاق دینے کا نہیں تھا مگر بیوی نے جب آ کے کہا تو میں نے یہ الفاظ بول دیے۔ کیا شوہر اگر یہ کنایہ الفاظ بول دیتا ہے جبکہ پہلے سے اس کا طلاق دینے کا کوئی ارادہ یا نیت نہ ہو نہ ہی طلاق کا موضوع ہو، اس سے طلاق ہو گئی یا نہیں؟ برائے مہربانی ضرور اس مسلئے پر فتویٰ دے دیں۔
محترم! اس بات کی وضاحت کردیں کہ معمولی بات پر بحث یعنی لڑائی جھگڑے کے دوران شوہر نے مذکورہ الفاظ کہے ہیں یا اس کے علاوہ کوئی اور صورتِ حال تھی؟
اس وضاحت کے بعد آپ کے سوال کا جواب دیا جاسکے گا۔
جواب تنقیح:
مفتی صاحب! شوہر نے جب یہ الفاظ کہے تب مذاکرہ طلاق نہیں چل رہا تھا ۔کسی اور موضوع (بیوی کے ٹیوشن پڑھانے )پر بحث کے دوران شوہر مسلسل بولے جا رہے تھے، بیوی نے بحث سے بچنے کے لیے بول دیا کہ آپ کو جو بھی فیصلہ کرنا ہے کریں۔
بیوی نے یہ الفاظ طلاق لینے کی نیت سے نہیں کہے تھے نہ ہی شوہر بیوی کو اس وقت طلاق دینے کا کوئی ارادہ رکھتا تھا، مگر گرما گرمی میں شوہر نے دو دفعہ یہ الفاظ بول دیے تم میری طرف سے فارغ ہو ۔
اس وقت شوہر کو یہ بھی علم نہیں تھا کہ ایسا کہنے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے اس لیے انہوں نے فوراً بیوی رابطہ بھی کیا اور واپس بھی بلایا۔ بیوی واپس نہیں آئی اور عدت گزر گئ۔ کیا غیر ارادہ طور پر یہ کنایہ الفاظ بولنے سے جبکہ ماحول، موضوع طلاق کا نہ ہو، اس سے طلاق ہوئی یا نکاح قائم ہے؟ براے مہربانی تحریری فتویٰ عنایت فرمائیں ۔جزاک اللہ

جواب: واضح رہے کہ فارغ کا لفظ ان الفاظ میں سے ہے جن سے تلخ کلامی اور لڑائی جھگڑے کے موقع پر نیت کے بغیر بھی طلاقِ بائن واقع ہو جاتی ہے۔
پوچھی گئی صورت میں جب شوہر نے تلخ کلامی اور بحث و مباحثہ کے دوران پہلی بار بیوی کو "تم میرے طرف سے فارغ ہو" کے الفاظ کہے تو اس سے ایک طلاقِ بائن واقع ہوگئی، البتہ طلاقِ بائن کے بعد چونکہ اس طرح کے الفاظ کہنے سے مزید طلاق واقع نہیں ہوتی، لہٰذا دوسری مرتبہ مذکورہ الفاظ کہنے سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔
طلاقِ بائن کا حکم یہ ہے کہ اگر میاں بیوی باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو عدت کے اندر یا عدت کے بعد گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں، البتہ دوبارہ نکاح کی صورت میں آئندہ کے لیے شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*

*الدر المختار مع رد المحتار: (300/3، ط: دار الفکر)*
"ونحو اعتدي واستبرئي رحمك، أنت واحدة، أنت حرة، اختاري أمرك بيدك سرحتك، فارقتك لا يحتمل السب والرد، ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال والقول له
(قوله توقف الأولان) أي ما يصلح ردا وجوابا وما يصلح سبا وجوابا ولا يتوقف ما يتعين للجواب. بيان ذلك أن حالة الغضب تصلح للرد والتبعيد والسب والشتم كما تصلح للطلاق، وألفاظ الأولين يحتملان ذلك أيضا فصار الحال في نفسه محتملا للطلاق وغيره، فإذا عنى به غيره فقد نوى ما يحتمله كلامه ولا يكذبه الظاهر فيصدق في القضاء، بخلاف ألفاظ الأخير: أي ما يتعين للجواب لأنها وإن احتملت الطلاق وغيره أيضا لكنها لما زال عنها احتمال الرد والتبعيد والسب والشتم اللذين احتملتهما حال الغضب تعينت الحال على إرادة الطلاق فترجح جانب الطلاق في كلامه ظاهرا، فلا يصدق في الصرف عن الظاهر، فلذا وقع بها قضاء بلا توقف على النية كما في صريح الطلاق إذا نوى به الطلاق عن وثاق"

*الفتاوىٰ الهندية: (377/1، ط: دار الفكر)*
ولا يلحق البائن البائن بأن قال لها أنت بائن ثم قال لها أنت بائن لا يقع إلا طلقة واحدة بائنة لأنه يمكن جعله خبرا عن الأول وهو صادق فيه فلا حاجة إلى جعله إنشاء لأنه اقتضاء ضروري.

*الھدایة: (257/2، ط: دار احیاء التراث العربی)*
"وإذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها " لأن حل المحلية باق لأن زواله معلق بالطلقة الثالثة فينعدم قبله".

*الدر المختار: (232/3، ط: دار الفكر)*
(وحل طلاقهن ) أي الآيسة والصغيرة والحامل (عقب وطء) لأن الكراهة فيمن تحيض لتوهم الحبل وهو مفقود هنا

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce