resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: بیوی کے حاملہ ہونے کی حالت میں لڑائی جھگڑے کے موقع پر دو مرتبہ اسے فارغ کے الفاظ کہنے کا حکم

(45198-No)

سوال: السلام علیکم! میری شادی 2014 میں ہوئی تھی، میرا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے اور اب میں پانچ ماہ کی حاملہ بھی ہوں، جمعرات کو میری اپنے شوہر سے لڑائی ہو گئی، اس کے بعد میرے شوہر نے میری بہن اور پھر میرے ماموں کو الگ الگ فون کر کے کہا "میں نے سمیہ کو فارغ کر دیا، اب اسے لے جائیں" یہ بات میرے شوہر نے میری غیر موجودگی میں کہی ہے، میں نے دوسرے کمرے سے یہ بات سنی ہے۔
1) میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کہنے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے؟
(2) ابھی میں اپنے شوہر کے گھر میں ہوں، اگر طلاق واقع ہو گئی ہے تو کیا میں وہیں رہ سکتی ہوں؟
(3)دو طلاقیں ہونے کی صورت میں اسلام بیوی کو کیا حکم دیتا ہے؟
(4) میرے حاملہ ہونے کی صورت میں طلاق ہو گئی ہے؟
(5)کیا دوبارہ رجوع کرنے کی گنجائش ہے اور اس کا طریقہ کار کیا ہے؟
تنقیح:
محترمہ! اس بات کی وضاحت کردیں کہ اس موقع پر یا اس سے پہلے آپ کے شوہر نے مذکورہ الفاظ کے علاوہ کوئی اور الفاظ بھی طلاق کے متعلق کہے ہیں؟ کیونکہ سوال نمبر تین میں آپ نے دو طلاقوں کا ذکر کیا ہے۔ اس وضاحت کے بعد ہی آپ کے سوال کا درست جواب دیا جاسکے گا۔
جوابِ تنقیح:
نہیں اس سے پہلے ایسا نہیں بولا گیا ہے، بس اسی دن میرے شوہر نے میری بہن اور ماموں کو مذکورہ الفاظ دو مرتبہ کہے ہیں، یعنی ایک مرتبہ بہن کے سامنے اور ایک مرتبہ ماموں کے سامنے کہے ہیں۔

جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر واقعتاً شوہر نے لڑائی جھگڑے کے موقع پر "میں نے سمیہ کو فارغ کردیا" کے الفاظ کہے ہیں تو پہلی بار آپ کی بہن کے سامنے مذکورہ الفاظ کہنے سے ایک طلاقِ بائن واقع ہوگئی، البتہ طلاقِ بائن کے بعد چونکہ طلاق کا محل (نکاح) باقی نہیں رہتا، لہٰذا ماموں کے سامنے دوسری بار مذکورہ الفاظ کہنے سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔
بہر حال پہلی طلاق کی وجہ سے نکاح ختم ہوگیا ہے، تاہم ایسی صورت میں شریعت نے یہ اجازت دی ہے کہ اگر میاں بیوی باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو عدت کے اندر یا عدت کے بعد گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں، البتہ دوبارہ نکاح کی صورت میں آئندہ کے لیے شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔
واضح رہے کہ حمل کی حالت میں بھی طلاق دینے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہٰذا حمل کی حالت میں مذکورہ الفاظ طلاق کے واقع ہونے کے بارے میں معتبر ہوں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*

*الدر المختار مع رد المحتار: (300/3، ط: دار الفکر)*
"ونحو اعتدي واستبرئي رحمك، أنت واحدة، أنت حرة، اختاري أمرك بيدك سرحتك، فارقتك لا يحتمل السب والرد، ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال والقول له
(قوله توقف الأولان) أي ما يصلح ردا وجوابا وما يصلح سبا وجوابا ولا يتوقف ما يتعين للجواب. بيان ذلك أن حالة الغضب تصلح للرد والتبعيد والسب والشتم كما تصلح للطلاق، وألفاظ الأولين يحتملان ذلك أيضا فصار الحال في نفسه محتملا للطلاق وغيره، فإذا عنى به غيره فقد نوى ما يحتمله كلامه ولا يكذبه الظاهر فيصدق في القضاء، بخلاف ألفاظ الأخير: أي ما يتعين للجواب لأنها وإن احتملت الطلاق وغيره أيضا لكنها لما زال عنها احتمال الرد والتبعيد والسب والشتم اللذين احتملتهما حال الغضب تعينت الحال على إرادة الطلاق فترجح جانب الطلاق في كلامه ظاهرا، فلا يصدق في الصرف عن الظاهر، فلذا وقع بها قضاء بلا توقف على النية كما في صريح الطلاق إذا نوى به الطلاق عن وثاق"

*الفتاوىٰ الهندية: (377/1، ط: دار الفكر)*
ولا يلحق البائن البائن بأن قال لها أنت بائن ثم قال لها أنت بائن لا يقع إلا طلقة واحدة بائنة لأنه يمكن جعله خبرا عن الأول وهو صادق فيه فلا حاجة إلى جعله إنشاء لأنه اقتضاء ضروري.

*الھدایة: (257/2، ط: دار احیاء التراث العربی)*
"وإذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها " لأن حل المحلية باق لأن زواله معلق بالطلقة الثالثة فينعدم قبله".

*الدر المختار: (232/3، ط: دار الفكر)*
(وحل طلاقهن ) أي الآيسة والصغيرة والحامل (عقب وطء) لأن الكراهة فيمن تحيض لتوهم الحبل وهو مفقود هنا

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce