سوال:
الحمد للہ! ہماری شادی حال ہی میں ہوئی ہے، اور ہمارے درمیان بہت محبت اور الفت ہے۔ ایک دن میں نے دن کے وقت اپنی اہلیہ کو فون کیا اور ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی آواز بہت خوبصورت ہے، اور اسی طرح کی دیگر تعریفی باتیں بھی کیں۔ میں نے مذاقاً ان سے ایسے بات کی جیسے وہ کوئی تیسری شخصیت ہوں، اور ہنستے ہوئے ان سے پوچھا: "کیا آپ مجھ سے شادی کریں گی؟" حالانکہ وہ پہلے ہی میری بیوی ہیں۔ محبت اور مذاق کے انداز میں میں نے یہ بھی کہا کہ جب میں گھر آؤں گا تو آپ سے ملاقات کروں گا۔
بعد میں اسی رات جب ہم دونوں ساتھ بیٹھے باتیں کر رہے تھے تو میں نے ان سے کہا: "صبح فون پر جس سے میں بات کر رہا تھا، وہ آپ ہی تھیں نا؟" اس کے بعد بھی ہم دونوں ہنسی مذاق کرتے رہے۔
اسی دوران میری اہلیہ نے مذاقاً مجھ سے کہا: "آپ تو پہلے ہی شادی شدہ ہیں، پھر آپ مجھ سے کیسے شادی کریں گے؟" حالانکہ وہ خود ہی میری بیوی ہیں، اور ہم صرف مذاق کر رہے تھے۔
ادھر میرے ایک دوست کا طلاق کا معاملہ بھی چل رہا تھا، اس لیے طلاق کا موضوع میرے ذہن کے کسی گوشے میں موجود تھا۔ ہمارے معاشرے میں بھی لوگ کبھی کسی چیز کو چھوڑنے یا اس سے دستبردار ہونے کے لیے غیر رسمی انداز میں یہ الفاظ بول دیتے ہیں کہ: "میں اس چیز کو طلاق دیتا ہوں" یا اس جیسے دیگر جملے۔
اسی دوران، میں اپنی اہلیہ سے مذاق میں کچھ اس طرح کہنا چاہتا تھا کہ: "میں اپنی بیوی کو چھوڑ کر تم سے شادی کر لیتا ہوں،" حالانکہ میں اپنی ہی بیوی سے مخاطب تھا اور انہی سے شادی کرنے کی بات بطورِ مذاق کر رہا تھا۔
لیکن اچانک، اور مجھے خود بھی معلوم نہیں کہ کیسے، میری زبان سے غیر ارادی طور پر یہ الفاظ نکل گئے: "میں اپنی بیگم کو طلاق دیتا ہوں، پھر تم سے شادی کرتا ہوں۔"
میرا ان الفاظ کے ذریعے طلاق دینے کا بالکل بھی ارادہ نہیں تھا۔ میں صرف اپنی اہلیہ کو خوش کرنے اور ان سے ہنسی مذاق کر رہا تھا۔ یہ الفاظ محض غیر ارادی طور پر میری زبان سے نکل گئے، اور اس پر میرا کوئی اختیار نہیں تھا۔ براہِ کرم اس معاملے میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔
جواب: واضح رہے کہ طلاق ان امور میں سے ایک ہے جو مذاق میں دینے سے بھی واقع ہوجاتی ہے، نیز طلاق کے صریح الفاظ میں نیت کے ہونے یا نہ ہونے کا اعتبار نہیں ہوتا۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں جب آپ نے اپنی اہلیہ سے کہا " میں اپنی بیگم کو طلاق دیتا ہوں" تو ان الفاظ سے آپ کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی، اور پھر جب یہ کہا: "پھر تم سے شادی کرتا ہوں" تو ان الفاظ سے رجوع بھی متحقق ہوگیا، اب آئندہ کے لیے آپ کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
سنن أبي داود: (3/ 516، رقم الحديث: 2194، ط: دار الرسالة العالمية)
حدَّثنا القعنبيُّ، حدَّثنا عبدُ العزيز - يعني ابنَ محمد - عن عبد الرحمن بنِ حبيبٍ، عن عطاءِ بنِ أبي رباح، عن ابنِ ماهك، عن أبي هريرة أن رسولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم قال: «ثلاثٌ جدُّهنَّ جدٌّ، وهزلُهنَّ جدٌّ: النكاحُ، والطلاقُ، والرَّجعةُ».
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی