سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب! میں اپنے سسرال کے حالات کے بارے میں شرعی رہنمائی حاصل کرنا چاہتی ہوں، گھر میں تقریباً ہر بات پر مجھے موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے، مجھ سے گھر کا ہر کام کروایا جاتا ہے اور میری ساس میرے شوہر سے میرے متعلق غلط باتیں بنا کر بیان کرتی ہیں۔
میرے شوہر اپنی ذات کے اعتبار سے اچھے ہیں اور مجھ سے محبت بھی کرتے ہیں، لیکن جب ان کی والدہ ان کے کان بھرتی ہیں تو وہ میرے حق میں اپنی والدہ کے سامنے کوئی مؤقف اختیار نہیں کرتے، بلکہ مجھے یہ کہتے ہیں کہ اگر تم گھر کا کام نہیں کرسکتیں تو اپنے گھر چلی جاؤ اور واپس نہ آنا۔
ایک موقع پر میں نے اپنے شوہر سے کہا کہ آپ کو صبح پتا چلے گا کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں تو انہوں نے جواب دیا: "میں پورے ہوش میں کہہ رہا ہوں، چلی جاؤ ہمیشہ کے لیے۔" اسی طرح میرے شوہر مختلف مواقع پر یہ الفاظ تین مرتبہ کہہ چکے ہیں۔
براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ کیا ان الفاظ سے شرعاً طلاق واقع ہوتی ہے؟ کیا یہ الفاظ طلاق کے صریح یا کنایہ الفاظ میں شمار ہوتے ہیں؟ اور ہماری ازدواجی زندگی اور نکاح کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر شوہر نے مختلف مواقع پر "چلی جاؤ، ہمیشہ کے لیے" کے الفاظ طلاق کے ارادے سے کہے ہوں تو پہلی مرتبہ یہ الفاظ کہنے سے ایک طلاقِ بائن واقع ہوگئی، اس کے بعد دیگر مواقع پر یہی الفاظ کہنے سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی، کیونکہ طلاقِ بائن، بائن کو لاحق نہیں ہوتی۔
طلاقِ بائن کا حکم یہ ہے کہ اگر میاں بیوی باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو عدت کے اندر یا عدت کے بعد گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں، البتہ دوبارہ نکاح کی صورت میں آئندہ کے لیے شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا، البتہ اگر شوہر نے یہ الفاظ طلاق کی نیت سے نہیں کہے ہوں تو ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔ تاہم شوہر کے لیے آئندہ اس طرح کے الفاظ کہنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*
*الدر المختار مع رد المحتار: (298/3، ط: دار الفكر)*
(كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب، فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا ولا (فنحو اخرجي واذهبي وقومي) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي اغربي اعزبي من الغربة أو من العزوبة (يحتمل ردا، ونحو خلية برية حرام بائن).
*امداد الفتاویٰ: (364/4، ط: دارالعلوم کراچی)*
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی