سوال:
مفتی صاحب! اگر شوہر امریکہ میں ڈیورس (Divorce) کے کاغذات پر دستخط کرے تو کیا اس سے شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے؟ اگر بیوی عدالت میں طلاق کا مقدمہ دائر کرے اور شوہر ڈیورس پیپرز پر دستخط کردے تو کیا طلاق ہوجائے گی؟ اور اگر بیوی طلاق کا مقدمہ دائر کرے، لیکن شوہر دستخط نہ کرے اور عدالت کی طرف سے طلاق ہوجائے تو کیا شرعاً طلاق واقع ہوگی؟ نیز کیا ایسا کوئی شرعی راستہ موجود ہے کہ قانونی طور پر ڈیورس کے کاغذات بھی حاصل ہوجائیں اور شرعی طلاق واقع نہ ہو؟
جواب: واضح رہے کہ جس طرح شوہر کے زبانی طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے، اسی طرح بغیر کسی جبر و اکراہ کے تحریری طور پر طلاق دینے یا طلاق کے کاغذات پر دستخط کرنے سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے، اسی طرح طلاق کے وقوع کے لیے یہ ضروری نہیں کہ بیوی اس وقت شوہر کے پاس موجود ہو یا اسے طلاق دیے جانے کا علم ہو، البتہ اگر طلاق کے کاغذات بیوی کی جانب سے بھیجے گئے ہوں، لیکن شوہر ان پر دستخط نہ کرے تو محض بیوی کی جانب سے طلاق کے پیپر بھیجنے سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔
جہاں تک آخری صورت کا تعلق ہے تو آپ کی یہ بیان کردہ صورت واضح نہیں ہے، لہٰذا آپ کو جو مخصوص صورتِ حال درپیش ہے، اسے مکمل تفصیل کے ساتھ لکھ کر بھیج دیں، اس کے بعد اس کا شرعی حکم بیان کیا جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*الفتاوی الهندية: (378/1، ط: دار الفکر)*
وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة وإن علق طلاقها بمجيء الكتاب بأن كتب إذا جاءك كتابي هذا فأنت طالق فما لم يجئ إليها الكتاب لا يقع كذا في فتاوى قاضي خان.
*المحیط البرھاني: (الفصل السابع في الخصومات، 50/4، ط: دار الكتب العلمية)*
ﻷﻥ اﻟﺰﻭﺝ ﻳﻨﻔﺮﺩ ﺑﺈﻳﻘﺎﻉ اﻟﻄﻼﻕ اﻟﺜﻼﺙ، ﻭﻻ ﻳﺘﻮﻗﻒ ﺫﻟﻚ ﻋﻠﻰ ﻋﻠﻢ اﻟﻤﺮﺃة.
*رد المحتار: (441/3، ط: دار الفکر)*
باب الخلع:وأما ركنه فهو كما في البدائع إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة ولا يستحق العوض بدون القبول.
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی