سوال:
محترم مفتی صاحب!عرض ہے کہ میرے شوہر نے مجھے زبانی طور پر طلاق نہیں دی اور نہ ہی انہوں نے میرے سامنے زبانی طور پر طلاق کے الفاظ کہے۔ میں نے آج تک ان کی زبان سے طلاق کے الفاظ نہیں سنے، جو طلاق کے الفاظ اسٹامپ پیپر پر درج ہیں، وہ تحریری طور پر لکھے گئے ہیں، اسٹامپ پیپر پر عبارت “TALAQ UPON MY WIFE” درج ہے اور اسی اسٹامپ پیپر پر میرے شوہر نے دستخط کیے ہیں۔
یہ واقعہ پہلی مرتبہ پیش آیا ہے، اس سے پہلے میرے شوہر نے کبھی مجھے طلاق نہیں دی اور نہ ہی اس طرح کی کوئی تحریری طلاق پہلے ہوئی ہے، اس وقت میری عدت جاری ہے۔
میری مؤدبانہ گزارش ہے کہ براہِ کرم اس معاملے میں شرعی طور پر جو بھی گنجائش اور آسانی کی صورت ممکن ہو، اسے سامنے رکھتے ہوئے حکمِ شرعی بیان فرمائیں۔ ہماری خواہش ہے کہ اگر شریعت کے مطابق کوئی جائز راستہ موجود ہو تو ہم دونوں رجوع کرکے اپنا نکاح اور ازدواجی زندگی برقرار رکھ سکیں۔ براہِ کرم اس پہلو کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے ہماری رہنمائی فرمائیں کہ کیا عدت کے اندر رجوع کی کوئی شرعی گنجائش موجود ہے؟
اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ہمارے معاملے میں شریعت کے مطابق آسانی اور خیر کا فیصلہ فرمائے۔ والسّلام
نوٹ: وضاحت کےلیے اسٹام پیپر منگوایا گیا تو طلاق کے یہ " TALAQ UPON MY WIFE" الفاظ تین مرتبہ تحریر کیے گئے تھے اور تینوں جگہ شوہر کے دستخط بھی موجود تھے۔
جواب:
سوال میں پوچھی گئی صورت میں چونکہ آپ کے شوہر نے تین مرتبہ الفاظِ طلاق (Talaq Upon My Wife) کے آگے دستخط کیے ہیں، لہذا اب آپ پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں، اب نہ تو رجوع ہو سکتا ہے اور نہ ہی دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔
البتہ اگر آپ عدت گزار کر کسی دوسرے مرد سے نکاح کرلیں اور اس سے ازدواجی تعلق بھی قائم ہو جائے، پھر وہ دوسرا شوہر اپنی مرضی سے آپ کو طلاق دیدے یا شوہر کا انتقال ہو جائے تو پھر آپ عدت گزارنے کے بعد اپنے پہلے شوہر سے نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرسکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الکریم: (البقرۃ، الایة: 230)
فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَo
رد المحتار: (246/3، 247، ط: دار الفکر)
ولو قال للكاتب اكتب طلاق امرأتي كان إقرارا بالطلاق وإن لم يكتب ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابه أو قال للرجل ابعث به إليها أو قال له اكتب نسخة وابعث بها إليها وإن لم يقر أنه كتابه ولم تقم بينة لكنه وصف الأمر على وجهه لا تطلق قضاء ولا ديانة وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه اه ملخصا
الفتاوی الهندية: (378/1، ط: دار الفکر)
وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة وإن علق طلاقها بمجيء الكتاب بأن كتب إذا جاءك كتابي هذا فأنت طالق فما لم يجئ إليها الكتاب لا يقع كذا في فتاوى قاضي خان
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی