resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: خلع، نفقہ، مہر اور میاں بیوی کے باہمی تحائف سے متعلق شرعی احکام

(52327-No)

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میاں بیوی کی آپس کی ناچاقیوں سے مرد کی رضامندی سے بیوی میکہ چلی گئ، اب خلع کی نوبت آپہنچی ہے تو آیا یہ چھ یا نو ماہ جو میکہ میں رہی ہے اس کا نان نفقہ شوہر کے ذمہ لازم ہوگا یا نہیں؟ اور خلع کی صورت میں مہر کس کے حصہ میں آئے گا؟ اور میاں بیوی کے تحفے تحائف کا کیا حکم ہے ؟ براہ کرم اس کا جواب عنایت فرمائیں .جزاکم اللہ خیرا کثیرا

جواب: (1) شریعت میں بیوی کا نفقہ اس کی موجودہ اور وقتی ضروریات، مثلاً کھانا، لباس اور رہائش کی کفالت کے لیے مقرر کیا گیا ہے، جب وہ وقت گزر جائے تو وہ ضرورت بھی ختم ہو جاتی ہے۔ اس بنا پر فقہائے کرام نے فرمایا ہے کہ ماضی کا نفقہ جب تک باہمی رضامندی (تراضی) یا عدالت کے فیصلے (قضا) سے متعین نہ کر دیا جائے، شوہر کے ذمّہ شرعی قرض (دین) نہیں بنتا۔ اس حکم میں یہ حکمت ہے کہ گزرے ہوئے زمانے کے غیر متعین نفقات کو قرض قرار دینے سے خاندانی زندگی میں طویل اور پیچیدہ تنازعات پیدا نہ ہوں۔
لہذا سوال میں پوچھی گئی صورت میں اگر گزشتہ نو ماہ کا نفقہ عدالت کے فیصلے یا میاں بیوی کی باہمی رضامندی سے پہلے سے متعین نہیں کیا گیا تھا تو اس عرصہ کا نفقہ شوہر پر واجب نہیں ہوگا، جبکہ آئندہ کے نفقہ کے بارے میں یہ تفصیل ہے کہ اگر بیوی شوہر کی اجازت سے میکے میں رہے گی تو اس مدت کا نفقہ شوہر پر واجب رہے گا، لیکن اگر شوہر کے بلانے کے باوجود وہ کسی معتبر شرعی عذر کے بغیر واپس آنے سے انکار کرے گی تو وہ ناشزہ (نافرمان) شمار ہوگی اور اسی تاریخ سے اس کا آئندہ کا نفقہ بھی ساقط ہو جائے گا۔
(2) خلع میاں بیوی کی باہمی رضامندی سے مال کے عوض نکاح ختم کرنے کا معاملہ ہے، عموماً چونکہ خلع کا مطالبہ بیوی کی جانب سے ہوتا ہے، اس لیے وہ اپنے مہر یا کسی اور متعین عوض کے بدلے خلع حاصل کرتی ہے، چنانچہ اگر مہر ابھی تک ادا نہ ہوا ہو تو بیوی اسے معاف کر سکتی ہے، اور اگر مہر وصول کر چکی ہو تو باہمی معاہدے کے مطابق اسے واپس کرنا خلع کا عوض بن سکتا ہے۔
تاہم خلع کی بنیاد باہمی رضامندی پر ہے، اس لیے اگر شوہر بغیر کسی عوض کے خلع دینے پر راضی ہو جائے یا مہر کے علاوہ کسی اور عوض پر اتفاق ہو جائے تو یہ بھی شرعاً جائز ہے، لہذا فریقین کے درمیان جس شرط پر باہمی اتفاق ہو، اسی کے مطابق عمل کیا جائے گا۔
(3) نکاح کے بعد میاں بیوی نے ایک دوسرے کو جو تحائف یا ہدایا (gift) دیے ہوں، اور وہ دونوں میں سے کسی ایک کے قبضے میں آچکے ہوں تو وہ شرعاً ہبۂ تام شمار ہوں گے، لہٰذا طلاق یا خلع کی صورت میں ان تحائف کی واپسی کا مطالبہ کرنا درست نہیں۔ دونوں میں سے ہر ایک کو جو تحفہ ملا ہے، وہ اسی کی ملکیت رہے گا، اور دوسرے فریق کو اس کی واپسی کا شرعاً حق حاصل نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

المبسوط للسرخسی: (کتاب النكاح، باب النفقة، (5/ 184)، ط۔ دارالمعرفة، بیروت)
"وأصل المسألة أن النفقة لاتصير دينًا إلا بقضاء القاضي أو التراضي عندنا."

تنقیح الحامدیه: (كتاب النکاح، «باب النفقة، 74/1، ط. دار المعرفة)
"سئل) في رجل فرض على نفسه برضاه لزوجته وابنه الصغير منها في كل يوم كذا لنفقتهما، ومضى لذلك عدة أشهر دفع منها بعضها وامتنع من دفع الباقي بلا وجه شرعي، فهل يلزمه الباقي؟
(الجواب): نعم؛ لأن النفقة لاتصير دينًا إلا بالقضاء أو الرضا، كما في التنوير (أقول:) هذا مسلم بالنظر إلى نفقة الزوجة فإنها لاتسقط بمضي المدة بعد فرضها، وأما بالنظر إلى نفقة الصغير فهو مبني على ما مر قبل صفحة عن الزيلعي من أنه كالزوجة وقد علمت ما فيه."

تنویر الأبصار مع الدر المختار ( کتاب الطلاق، باب النفقۃ، 572/3 – 575، کراچی)
فتجب للزوجۃ علی زوجہا (إلی قولہ) ولو ہی فی بیت ابیہا إذا لم یطالبہا الزوج بالنقلۃ و بہ یفتیٰ.

الفتاوى الهندية: (1/ 488، ط: دار الفكر)
وإن كان النشوز من قبلها كرهنا له أن يأخذ أكثر مما أعطاها من المهر ولكن مع هذا يجوز أخذ الزيادة في القضاء كذا في غاية البيان.

والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce