resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: بیوی کو " آج کے بعد اگر میں کسی لڑکی سے دوستی یا بات کروں تو تم میری طرف سے فارغ ہو، تم آزاد ہو، تمہیں طلاق ہے" کہنے کے بعد مذکورہ شرط کی خلاف ورزی کرنے سے طلاق کا حکم

(60457-No)

سوال: شوہر نا محرم لڑکیوں سے چھپ کر باتیں،دوستیاں کرنے کا عادی تھا، بیوی نے شوہر کو اس عمل سے روکنے کے لیے شوہر سے قرآن پر حلف لیا، شوہر نے بیوی کے کہنے پر یہ الفاظ قرآن پر ہاتھ رکھ کر دھراے "آج کے بعد اگر میں کسی لڑکی سے دوستی یا بات کروں تو تم میری طرف سے فارغ ہو،تم آزاد ہو تمہیں طلاق ہے"
کچھ عرصہ بعد شوہر پھر سے نا محرم لڑکیوں سے چھپ کر باتیں کرتا پایا گیا اور مفتیان کے مطابق یہ ایک طلاق واقع ہو گئی کچھ کے مطابق یہ طلاق بائن ہو گئی، چونکہ میاں بیوی ساتھ رہنا چاہتے تھے اس لیے 20 دن بعد ایک طلاق سمجھ کر رجوع ہو گیا۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ اس سب معاملے کے گزرنے کے بعد بھی شوہر کی لڑکیوں سے دوستیاں بھی ہیں اور باتیں بھی کرتا ہے تو کیا وہ شرط جو قرآن پر ہاتھ رکھ کر اس نے کھائی تھی وہ پہلی طلاق کے بعد ختم ہو گئی تھی یا ہر بار جب شوہر دوستیاں کرتا ہے تو دوبارہ پھر وہی شرط لاگو ہوتی ہے اور دربارہ طلاق ہو جاتی ہے؟

جواب: واضح رہے کہ لفظِ "فارغ" اور "آزاد" ان الفاظ میں سے ہیں کہ جن سے مذاکرہ طلاق یا لڑائی جھگڑے وغیرہ کے موقع پر بغیر نیت کے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے، البتہ "فارغ" کا لفظ صریحِ بائن اور "آزاد" صریحِ رجعی کے حکم میں ہے۔
نیز یہ بھی واضح رہے کہ طلاقِ بائن کے بعد اگر صریحِ رجعی دی جائے تو وہ بھی طلاقِ بائن کو لاحق ہو کر اس سے مزید طلاق واقع ہو جاتی ہے۔
اس تمہید کے بعد سوال میں ذکر کردہ الفاظ (آج کے بعد اگر میں کسی لڑکی سے دوستی یا بات کروں تو تم میری طرف سے فارغ ہو، تم آزاد ہو، تمہیں طلاق ہے) درحقیقت تین طلاقوں کو شرط کے ساتھ معلق کرنے کی صورت ہے، چونکہ اس کے بعد مذکورہ شرط یعنی نامحرم عورتوں سے بات وغیرہ نہ کرنے کی خلاف ورزی پائی گئی ہے، لہٰذا مذکورہ بالا تمہید کی روشنی میں تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مُغلَّظہ ثابت ہو گئی ہے، جس کے بعد نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ ہی دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ تین طلاقوں کے بعد دوبارہ نکاح کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ عورت عدت گزار کر کسی اور مرد سے نکاح کرے اور اس سے ازدواجی تعلقات قائم کرے، پھر وہ اسے اپنی مرضی سے طلاق دیدے یا اس کا انتقال ہوجائے تو پھر وہ عورت عدت گزار کر اگر اپنے سابقہ شوہر سے نکاح کرنا چاہے تو کرسکتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*

*القرآن الکریم: (البقرۃ، الآیۃ: 230)*
فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنۡۢ بَعۡدُ حَتّٰی تَنۡکِحَ زَوۡجًا غَیۡرَہٗ ؕ فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِمَاۤ اَنۡ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنۡ ظَنَّاۤ اَنۡ یُّقِیۡمَا حُدُوۡدَ اللّٰہِ ؕ وَ تِلۡکَ حُدُوۡدُ اللّٰہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ.

*الدر المختار مع رد المحتار: (306/3، ط: دار الفكر)*
(الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) الصريح ما لا يحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا فتح.
(قوله الصريح يلحق الصريح) كما لو قال لها: أنت طالق ثم قال أنت طالق أو طلقها على مال وقع الثاني بحر، فلا فرق في الصريح الثاني بين كون الواقع به رجعيا أو بائنا (قوله ويلحق البائن) كما لو قال لها أنت بائن أو خلعها على مال ثم قال أنت طالق أو هذه طالق بحر عن البزازية، ثم قال: وإذا لحق الصريح البائن كان بائنا لأن البينونة السابقة عليه تمنع الرجعة كما في الخلاصة. وقال أيضا: قيدنا الصريح اللاحق للبائن بكونه خاطبها به وأشار إليها للاحتراز عما إذا قال كل امرأة له طالق فإنه لا يقع على المختلعة إلخ وسيذكره الشارح في قوله ويستثنى ما في البزازية إلخ ويأتي الكلام فيه.

*الفتاوىٰ الهندية: (420/1، ط: دار الفكر)*
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce