سوال:
شوہرکابیان
محترم مفتی صاحب! میں مؤدبانہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ میری اور میری اہلیہ کے درمیان طلاق کے معاملے کے حوالہ سے ایک شرعی مسئلہ پیدا ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے ہمارے ازدواجی تعلقات کے بارے میں شدید تشویش اور ایہام پایا جاتا ہے۔
میری اہلیہ کا مؤقف ہے کہ سات سال پہلے ہماری پہلی اولاد کی پیدائش کے موقع پر میں نے اسے ایک طلاق دی تھی، جبکہ مجھے ایسا کچھ یاد نہیں، اور میں حلفاً اقرار کرتا ہوں کہ میں نے طلاق نہیں دی، اور نہ ہی پہلی طلاق جس کا ذکر ہے، اس کے گواہ بھی موجود نہیں اور نہ ہی اس طلاق کا کوئی تحریری ثبوت موجود ہے۔
مزید یہ کہ 31/08/2026 کو ہمارے گھر میں میاں بیوی کے دوران لڑائی ہوئی، جس میں ایک طلاق میں نے ہوش و حواس میں دی، جس کا میں اقرار بھی کرتا ہوں، پھر لڑائی اتنی بڑی کی دونوں پارٹیوں کے مابین گندی گالیوں کا سلسلہ چل نکلا، اسی دوران میں نے غصہ میں کہا کہ چل دفعہ ہوجا تیسری بھی ہوئی، یعنی 31 تاریخ کو میں نے پہلی طلاق ہوش و حواس میں اور دوسری بغیر ہوش و حواس کے (الفاظ یاد نہیں) کے دی۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ ہماری پہلی طلاق نہ ہوئی ہے جس کا میں حلفاً اقرار بھی کرتا ہوں اور کوئی گواہ بھی موجود نہیں ہے۔ ایسی صورت میں ہماری صرف دو طلاق ہوئی۔
درخواست ہے کہ تمام متعلقہ تفصیلات کو مدنظر رکھتے ہوئے واضح تحریری اور مستند فتویٰ/رہنمائی فرمائی جائے۔
بیوی کابیان
محترم مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں اپنے ہوش و حواس میں حلفاً بیان کرتی ہوں کہ تقریباً سات سال قبل جب ہمارے بچے کی عمر تین سال تھی، میرے شوہر نے مجھے پہلی طلاق دی تھی۔ یہ میرا مؤقف ہے، جبکہ میرے شوہر کا کہنا ہے کہ انہیں ایسا کچھ یاد نہیں اور نہ ہی انہوں نے مجھے طلاق دی, مجھے بھی طلاق کے الفاظ لفظ بہ لفظ یاد نہیں ہیں اور نہ ہی اس وقت دو گواہ موجود تھے۔
اس کے بعد 31/07/2026 کو ہمارے درمیان لڑائی ہوئی، جس دوران میرے شوہر نے مجھے دوسری طلاق دی اور کہا: "میں اپنے پورے ہوش و حواس میں تجھے طلاق دیتا ہوں۔"
معاملہ اور لڑائی اس قدر بڑھ گئی کہ دونوں طرف سے، یعنی میرے والدین اور میرے شوہر کے بھائی و دیگر رشتہ دار بھی اس میں شامل ہوگئے اور گالم گلوچ شروع ہوگئی, اسی دوران میرے شوہر نے گالم گلوچ کے دوران یہ الفاظ بھی کہے: "جا دفع ہو جا، اپنے گھر۔"
میرے مؤقف کے مطابق اسی موقع پر تیسری طلاق بھی واقع ہوئی، اب ہمارے درمیان اصل مسئلہ پہلی طلاق کا ہے، کیونکہ میرے شوہر حلفاً کہتے ہیں کہ انہوں نے پہلی طلاق دی ہی نہیں، جبکہ مجھے بھی اس وقت کہے گئے طلاق کے الفاظ یاد نہیں ہیں اور نہ ہی اس کے کوئی گواہ موجود ہیں۔
ہم دونوں میاں بیوی دوبارہ ازدواجی زندگی قائم کرنا چاہتے ہیں، لہٰذا براہِ کرم ہماری مکمل صورتِ حال کو سامنے رکھتے ہوئے شرعی فتویٰ صادر فرمائیں، براہِ کرم ہماری مکمل صورتِ حال کو سامنے رکھتے ہوئے واضح اور تفصیلی شرعی رہنمائی فرمائیں۔ شکریہ
جواب: واضح رہے کہ طلاق غصہ میں بھی ہوجاتی ہے اور اس کے لیے اتنا شعورکافی ہوتا ہے کہ سمجھ آرہا ہوکہ کیا کہہ رہا ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں آخری لفظ"چل دفعہ ہوجا تیسری بھی ہوئی" سے اگرشوہر کی نیت طلاق کی نہ ہو اور اس پر وہ حلف بھی اٹھا سکتا ہو تو اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ 2026-07-31 والے واقعے میں صریح لفظ سے ایک رجعی طلاق واقع ہوئی۔
پہلے واقعے میں شوہر اور بیوی کے بیانات مختلف ہیں، گوعورت کو صحیح الفاظ یاد نہیں، تاہم اس کوطلاق کا یقین ہے اور وہ حلفاً اس کا دعویٰ کرتی ہے، جبکہ شوہر حلفاً منکر ہے، چونکہ عورت مدعی ہے اور اس کے پاس گواہ نہیں ہے، اور شوہر منکر کی حیثیت سے حلفیہ بیان دے چکا ہے کہ اس نے اس موقع پر کوئی طلاق نہیں دی، لہٰذا قضاءً تو کوئی طلاق نہیں ہوئی اور اگر عورت کو شوہر کی بات پر اعتماد ہو تو دیانةً بھی طلاق نہیں ہوئی، لیکن اگرعورت کو شوہر پر اعتماد نہ ہو تو "المَرأَةُ كَالقَاضِي" کے اصول کے تحت عورت اس طلاق کو اپنے اوپر واقع سمجھے گی۔
بہرحال اگر تیسرے واقعے میں واقعی شوہر کی نیت طلاق کی نہیں تھی اور وہ اس پر حلف بھی اٹھا سکتا ہے تو اس صورت میں مجموعی طور پر ایک یا دو رجعی طلاقیں ہوئی ہیں، لہٰذا مرد عدت کے اندر قولی یا فعلی طور پر رجوع کر سکتا ہے، اور آئندہ اسے باقی ایک یا دو طلاقوں کا اختیار رہے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الجوهرة النيرة على مختصر القدوري: (36/2، ط: المطبعة الخيرية)
اذهبي وقومي واستتري وتقنعي واخرجي والحقي بأهلك وحبلك على غاربك ولا نكاح بيني وبينك وأشباه ذلك فإن نوى بها الطلاق وقع بائنا وإن نوى ثلاثا فثلاث وإن لم ينو لا يكون طلاقا سواء كانا في حالة الرضا أو الغضب أو مذاكرة الطلاق.
الدر المختار: (251/3، ط: دار الفكر)
(وفي أنت الطلاق) أو طلاق (أو أنت طالق الطلاق أو أنت طالق طلاقا يقع واحدة رجعية إن لم ينو.
البحر الرائق: (329/3، ط: دار الكتاب الإسلامي)
وفي الهداية: وفي كل موضع يصدق الزوج على نفي النية إنما يصدق مع اليمين لأنه أمين في الإخبار عما في ضميره، والقول قول الأمين مع اليمين اه.
رد المحتار: (251/3، ط: دار الفكر)
المرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه.
رد المحتار: (305/3، ط: دار الفكر)
وعلمت أن المرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا علمت منه ما ظاهره خلاف مدعاه.اه.
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی