resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: عیسائی بیوی کو طلاق دینے کے بعد دوبارہ نکاح کا حکم

(59419-No)

سوال: میں نے اپنی شادی ایک عیسائی لڑکی سے کی تھی، ایک دن وہ اچانک مجھ سے ناراض ہوگئی، میرا بیگ گھر سے باہر رکھ دیا اور گھر کی چابی بھی لے لی، میں نے پانچ دن تک اس سے رابطہ کرنے کی بہت کوشش کی، لیکن وہ مجھے بلاک کردیتی تھی۔
بعد میں مجھے شک ہوا کہ شاید اسے کوئی اور مل گیا ہے، اسی لیے وہ مجھ سے علیحدگی اختیار کرنا چاہتی ہے، چنانچہ میں نے ایک مرتبہ طلاق کی نیت سے اسے پیغام بھیجا کہ"تمہارا اور میرا رابطہ اب ختم۔"
ایک دن بعد اس کی بہن سے تھوڑا سا رابطہ ہوا، اس نے بتایا کہ وہ دوسرے شہر گئی ہوئی ہے، اس پر مجھے دوبارہ شک ہوا کہ شاید واقعی اسے کوئی اور مل گیا ہے، اسی بنیاد پر میں نے طلاق کی نیت سے اسے مزید دو مرتبہ یہ لکھا کہ"ہمارا تعلق اب ختم"
میں اس سے بات کرنا چاہتا تھا، لیکن یہ سوچ کر کہ اگر اس نے مجھے دوبارہ بلاک کردیا تو طلاق کا پیغام اس تک کیسے پہنچے گا، میں نے براہِ راست یہ الفاظ لکھ دیے، اب وہ کہہ رہی ہے کہ میں صرف ناراض اور غصے میں تھی اور میرا ارادہ تم سے رابطہ کرنے کا تھا، لیکن تم نے طلاق دے دی۔
اب ہم اس معاملے پر سخت پریشان ہیں، براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ کیا ان الفاظ سے طلاق واقع ہوگئی ہے؟ اگر طلاق واقع ہوگئی ہے تو اس مسئلے کا شرعی حل کیا ہے؟ جزاکم اللہ خیراً

جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر مذکورہ لڑکی واقعتاً اہل کتاب یعنی عیسائی مذہب کو ماننے والی ہو، ملحد اور لا دین نہ ہو تو آپ دونوں کا نکاح منعقد ہوچکا تھا، اس کے بعد ایک مرتبہ طلاق کی نیت کے ساتھ یہ الفاظ "تمہارا اور میرا رابطہ اب ختم" کہنے سے ایک طلاق بائن واقع ہوگئی تھی، اور آپ دونوں کا نکاح ختم ہوچکا تھا، پھر اگلے دن دوبارہ طلاق کی نیت سے یہ الفاظ "ہمارا تعلق اب ختم" کہنے سے کوئی طلاق واقع نہ ہوگی، کیونکہ طلاق کا محل اب باقی نہیں رہا، لہذا اب اگر آپ دونوں باہمی رضا مندی سے دوبارہ نکاح کرنا چاہتے ہیں تو دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں، نیز دوبارہ نکاح کے بعد شوہر کو صرف دو طلاقوں کا اختیار حاصل ہوگا۔
تاہم اگر مذکورہ لڑکی صرف نام کی عیسائی ہو، حقیقتاً لادین اور ملحد ہو تو ایسی لڑکی سے نکاح کرنے سے نکاح منعقد ہی نہیں ہوا، اور جب وہ لڑکی آپ کے نکاح میں ہی نہیں تھی تو اس پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، اس صورت میں آپ دونوں کا ایک ساتھ رہنا اور ازدواجی تعلقات قائم کرنا شرعاً حرام تھا، اس پر خوب توبہ واستغفار کرنا لازم ہے، لہذا ایسی صورت میں اگر آپ ان سے نکاح کرنا چاہتے ہیں تو کوشش کریں کہ اس لڑکی کو مسلمان کیا جائے یا کم از کم عیسائی مذہب کا تابع بنایا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار مع رد المحتار: (45/3، ط: دار الفکر)
(وصح نكاح كتابية) ، وإن كره تنزيها (مؤمنة بنبي) مرسل (مقرة بكتاب) منزل، وإن اعتقدوا المسيح إلها
(قوله: مقرة بكتاب) في النهر عن الزيلعي: واعلم أن من اعتقد دينا سماويا وله كتاب منزل كصحف إبراهيم وشيث وزبور داود فهو من أهل الكتاب فتجوز مناكحتهم وأكل ذبائحهم.

الفتاوی الهندية: (375/1، ط: دار الفکر)
ولو قال لها لا نكاح بيني وبينك أو قال لم يبق بيني وبينك نكاح يقع الطلاق إذا نوى.

الفتاوی الخانية: (468/1)
ولو قال لم يبق بيني وبينك عمل يقع الطلاق إذا نوى.

الھدایة: (257/2، ط: دار احیاء التراث العربی)
وإذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائھا؛ لأن حل المحلیة باق لأن زواله معلق بالطلقة الثالثة فینعدم قبله.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce