سوال:
میں نے اپنی بیوی کو ایک سال پہلے ان کے اصرار پر طلاق دی تھی، میرے طلاق کے الفاظ: "I divorce you" ٹیکسٹ میسج پرتھے، میں نے اسی طرح کے دو پیغامات ایک ہی دن چند منٹ کے وقفے سے بھیجے تھے، پھر دو ہفتے پہلے ایک اور طلاق بالمشافہ دی ہے، اب چونکہ پہلی دو مرتبہ ایک ہی دن کہا تھا تو کیا وہ کل دو طلاقیں شمار ہوں گی یا تین؟ ہم رجوع کرنا چاہتے ہیں۔
سوال سے متعلق مطلوبہ وضاحت
محترم! اس سوال سے متعلق یہ وضاحت فرمائیں کہ ایک سال پہلے جب آپ نے "I divorce you" کے الفاظ پر مشتمل میسج دو مرتبہ بھیجا تو اس کے بعد عدّت کے اندر اندر آپ نے رجوع کرلیا تھا یا نہیں؟ اس وضاحت کے بعد ہی آپ کے سوال کا جواب دیاجاسکے گا۔
مطلوبہ وضاحت کا جواب:
جی عدت کے اندر اگلے دن رجوع کرلیا تھا۔
جواب: جب آپ نے پہلی مرتبہ "I divorce you" کے الفاظ لکھ کر بھیجے تو اس سے آپ کی بیوی پر ایک طلاق واقع ہوگئی، پھر دوسری مرتبہ جب اس طرح کا پیغام بھیجا تو اس سے دوسری طلاق واقع ہوگئی، اور اب آپ کے پاس صرف ایک طلاق کا اختیار باقی رہ گیا تھا، اس کے بعد آپ نے عدّت میں ہی رجوع کرلیا تھا، اور اب بالمشافہ تیسری طلاق دی ہے تو یہ تیسری طلاق بھی واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوگئی ہے، اب نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ ہی دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔
تاہم اگر عورت عدّت گزار کر کسی اور مرد سے نکاح کرلے اور اس سے ازدواجی تعلّق بھی قائم ہوجائے، پھر وہ اسے اپنی مرضی سے طلاق دے دے یا اس کا انتقال ہوجائے تو ایسی صورت میں وہ عورت عدّت گزار کر دوبارہ سابقہ شوہر سے نکاح کرنا چاہے تو کرسکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*القرآن الكريم: (البقرة، الآیات: 229، 230)*
الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ • *فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ* إلخ •
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی