resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: " میں تجھے طلاق دیتا ہوں، طلاق طلاق طلاق " سے وقوعِ طلاق ہونے کا حکم

(62559-No)

سوال: السلام علیکم! میرے شوہر نے دو دن پہلے لڑائی کے دوران مجھے گھر سے نکالنے کے لیے دھکے دیے۔ جب میں گھر سے نہ نکلی تو انہوں نے پہلے مجھے بہت مارا، پھر کہا: "اگر تو ایسے نہیں جاتی تو تجھے میں طلاق دیتا ہوں، طلاق، طلاق، طلاق۔ اب تو جا یہاں سے، اب میری طرف سے فارغ ہے۔"
اب میرے اور ان کے گھر والے مجھے دوبارہ ان کے پاس بھیجنا چاہتے ہیں، کیا میرا ان کے پاس جانا جائز ہے؟ کیا میں اب بھی ان کے لیے حلال ہوں؟ ابھی اس واقعے کو صرف تین دن ہوئے ہیں۔

جواب: واضح رہے کہ شوہر کا اپنی بیوی کو دھکے دے کر گھر سے باہر نکالنا اور پھر گھر سے نہ جانے پر اسے مارنا پیٹنا انتہائی نامناسب اور بہت بڑی بد اخلاقی ہے، شوہر کو اپنی بیوی کے ساتھ حسنِ معاشرت اور اچھے اخلاق کا معاملہ اختیار کرنا چاہیے۔
بہرحال شوہر نے اپنی بیوی سے جو الفاظ کہے کہ: "اگر تو ایسے نہیں جاتی تو میں تجھے طلاق دیتا ہوں، طلاق، طلاق، طلاق" تو مذکورہ الفاظ سے تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں اور نکاح ختم ہوچکا ہے، اب نہ رجوع کی گنجائش ہے اور نہ باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کیا جاسکتا ہے، البتہ اگر عورت پہلے شوہر کی عدت گزارنے کے بعد کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے اور اس نکاح کے بعد ازدواجی تعلق بھی قائم ہو جائیں، پھر دوسرا شوہر اسے طلاق دے دے یا اس کا انتقال ہوجائے تو دوسرے شوہر کی عدت گزارنے کے بعد پہلے شوہر سے باہمی رضامندی سے نیا نکاح کیا جاسکتا ہے۔
نیز آپ کے گھر والوں یا شوہر کے گھر والوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ آپ کو دوبارہ شوہر کے پاس بھیجیں یا اس کے ساتھ تعلق قائم رکھنے کے لیے آپ پر دباؤ ڈالیں، کیونکہ اب آپ کا ان کے ساتھ رشتہ ختم ہو چکا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*سنن أبي داود: (باب في اللعان، رقم الحدیث: 2250)*
عن سهل بن سعد قال :فطلقها ثلاث تطلیقات عند رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیه وسلم ، فأنفذہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیه وسلم ... الخ.

*روح المعانی: (البقرۃ، الایة: 230)*
"فإن طلقها‘‘ متعلقا بقوله سبحانه ’’الطلاق مرتان‘‘ .... فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ أي من بعد ذلك التطليق حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ أي تتزوّج زوجا غيره، ويجامعها.

*شرح النووي على مسلم: (70/10، ط: دار إحياء التراث العربي)*
«وقد اختلف العلماء فيمن قال لامرأته أنت طالق ثلاثا فقال الشافعي ومالك وأبو حنيفة وأحمد وجماهير العلماء من السلف والخلف يقع الثلاث.

*الدر المختار: (233/3، ط: دار الفکر)*
وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث.

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce