سوال:
مفتی صاحب! ایک عورت کے بقول اس کے شوہر نے تین الگ الگ موقعوں پر اس کو تین طلاقیں دے دی ہیں، پہلی دونوں طلاقوں کے بعد رجوع کیا تھا، اس پر ان کی ایک بیٹی بھی گواہ ہے، تیسری طلاق کے بارے میں شوہر یہ کہہ رہا ہے کہ میں نے طلاق نہیں بلکہ طلاف کہا ہے، اب یہ عورت پریشان ہے کہ کیا کرے؟ معلوم یہ کرنا ہے کہ تیسری طلاق واقع ہوگئی ہے یا نہیں اور اگر شوہر نہ مانے تو عورت کے لیے کیا حکم ہے؟
جواب: واضح رہے فقہاء کرام نے طلاق کے وہ الفاظ مصحّفہ (تبدیل شدہ الفاظ) صراحت کے ساتھ نقل فرما دیے ہیں، جن سے طلاق واقع ہو جاتی ہے، البتہ ان الفاظ میں "طلاف" لفظ شامل نہیں ہے، اس لیے پوچھی گئی صورت میں تیسری طلاق سے متعلق حکم یہ ہے کہ اگر شوہر نے واقعتاً لفظِ ’’طلاق‘‘ کے بجائے لفظِ ’’طلاف‘‘ ہی کہا تھا تو اس سے تیسری طلاق واقع نہیں ہوئی، البتہ اگر عورت کو یقین ہو کہ شوہر نے لفظ "طلاق" ہی کہا تھا اور اب محض طلاق سے بچنے کے لیے غلط بیانی کررہا ہے تو اس کے لیے شوہر کو اپنے اوپر قدرت دینا جائز نہیں ہے، بلکہ اسے چاہیے کہ کسی بھی طرح شوہر سے طلاق حاصل کرے یا کسی اور طریقے سے شوہر سے چھٹکارا حاصل کرے، تاہم اگر وہ ہر ممکن کوشش کے باوجود شوہر سے چھٹکارا حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے تو وہ معذور شمار ہوگی، اور اس صورت میں گناہگار شوہر ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*الفتاوى الهندية: (كتاب الطلاق، 424/1، ط: دار الفکر)*
رجل قال لامرأته ترا تلاق هاهنا خمسة ألفاظ تلاق وتلاغ وطلاغ وطلاك وتلاك عن الشيخ الإمام الجليل أبي بكر محمد بن الفضل رحمه الله تعالى أنه يقع وإن تعمد وقصد أن لا يقع،ولا يصدق قضاء ويصدق ديانة، إلا إذا أشهد قبل أن يتلفظ به۔
*الفتاوى الهندية:(كتاب الکراھیة، الباب الثاني، 313/5، ط:دار الفکر)*
وكذلك إن سمعت أنه طلقها ثلاثا وجحد الزوج ذلك وحلف فردها عليه القاضي لم يسعها المقام معه وينبغي لها أن تفتدي بمالها أو تهرب منه.
*ردالمحتار: (251/3،ط: دار الفکر)*
وقال الأوزجندي: ترفع الأمر للقاضي، فإن حلف ولا بينة فالإثم عليه. وقال ابن عابدین: (قوله: فالإثم عليه) أي وحده، وينبغي تقييده بما إذا لم تقدر على الافتداء، أو الهرب.
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی