سوال:
السلام علیکم! میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ شریعت (فقہِ حنفی) کے مطابق کیا بیوی اور اس کے اہلِ خانہ کسی ایسے شوہر سے، جو کینسر کے مرض میں مبتلا ہو، علانیہ خلع کا مطالبہ کرسکتے ہیں، جبکہ وہ گزشتہ تین سال سے باپ کو اپنی ایک سالہ بیٹی سے ملاقات کی اجازت نہ دے رہے ہوں، شوہر اور اس کے اہلِ خانہ کے خلاف پولیس اور عدالت میں جھوٹی شکایات اور مقدمات درج کروائے ہوں، جو سب خارج ہوگئے ہوں، شوہر کی اپنی رقم جو اس کے علاج اور قرض کی ادائیگی کے لیے درکار ہو، اسے روک کر رکھیں، نابالغ بچی کی سالگرہ غیر محرم افراد کے ساتھ منائیں، اور پھر تین سال بعد آکر یہ کہیں کہ وہ ازدواجی زندگی جاری رکھنا چاہتی ہیں؟
جواب: واضح رہے کہ خلع کے شرعاً معتبر ہونے کا دارومدار شوہر کی رضامندی پر ہے، جب تک شوہر خلع نہ دے، وہ بدستور اس کی بیوی ہی رہے گی اور دونوں کا نکاح قائم رہے گا، بیوی اور اس کے اہلِ خانہ کے یک طرفہ مطالبہ کرنے سے خلع نافذ نہیں ہوگا۔
لہٰذا سوال میں ذکر کردہ تمام زیادتیاں اگر واقعتاً درست ہیں اور ان کے باوجود اگر شوہر اپنی خوشی سے گزشتہ تمام زیادتیوں کو درگزر کرتے ہوئے ازدواجی زندگی جاری رکھنا چاہے تو ایسا کرنا اس کے لیے جائز ہے، البتہ اسے ازدواجی زندگی جاری رکھنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، اسے طلاق دینے کا پورا اختیار ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*الفتاوی الھندیة: (488/1، ط:دارالفكر)*
اذا تشاق الزوجان و خافا ان لايقيما حدود الله فلا بأس بان تفتدي نفسها منه بمال يخلعهابه، فاذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة، ولزمها المال۔
*تبيين الحقائق: (3/ 25،ط: المطبعة الكبرى الأميرية)*
وقال محمد - رحمه الله - ترد المرأة إذا كان بالرجل عيب فاحش بحيث لا تطيق المقام معه لأنها تعذر عليها الوصول إلى حقها لمعنى فيه فكان كالجب والعنة.
*رد المحتار: (441/3، ط: دار الفکر)*
وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلاتقع الفرقة ولايستحق العوض بدون القبول.
*الفقہ الاسلامی و أدلته: (7015/9، ط: دار الفکر)*
وقد اعتبر الحنفية ركن الخلع هو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة ولا يستحق العوض بدون القبول.
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی