resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: تین طلاق کے بعد مرد و عورت ایک دوسرے کےلیے اجنبی کی طرح ہیں

(63604-No)

سوال: میں نے اپنی اہلیہ کو 2021ء میں ان کی غیر موجودگی میں زبانی طور پر تین مرتبہ طلاق دی تھی، وہ اس وقت تک 2018ء میں گھر چھوڑ کر برطانیہ جاچکی تھیں، اس دوران ہماری کوئی بات چیت نہیں ہوئی اور وہ 2026ء کے ستمبر تک واپس نہیں آئیں، بعد ازاں مارچ 2026ء میں واٹس ایپ پر گفتگو کے دوران میں نے انہیں دوبارہ طلاق دی، میں نے لکھا: ‘You are divorced today,’’ ‘‘I divorce you’’ یعنی ’’آج تمہیں طلاق ہے، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔‘‘
اب جب انہیں معلوم ہوا کہ میں نے دوبارہ شادی کرلی ہے تو وہ واپس آکر میری والدہ کے گھر میں رہ رہی ہیں، گزشتہ تقریباً آٹھ سال سے میرا ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، لیکن وہ اب بھی مجھے اپنا شوہر کہتی ہیں۔ براہِ کرم اس صورتِ حال کے بارے میں شرعی حکم بیان فرمائیں، مجھے رہنمائی کی ضرورت ہے۔

جواب: پوچھی گئی صورت میں 2021ء میں جب آپ نے اپنی اہلیہ کو تین مرتبہ طلاق دی، اسی وقت تینوں طلاقیں واقع ہوگئیں تھیں، اور اس کے بعد مزید جو طلاقیں دی گئیں، طلاق کا محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہو گئیں، لہٰذا تین طلاقوں کے بعد اب نہ رجوع کی گنجائش ہے اور نہ ہی آپ دونوں کے درمیان دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے، چنانچہ اب آپ دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہیں، اس لیے مذکورہ خاتون کا آپ کو اپنا شوہر سمجھنا اور آپ دونوں کا میاں بیوی والا تعلق قائم کرنا شرعاً ناجائز وحرام ہے، جس سے اجتناب لازم ہے۔
لہٰذا اگر وہ خاتون آپ کے گھر اس غلط فہمی کی بنا پر رہ رہی ہیں کہ آپ اب بھی ان کے شوہر ہیں تو مناسب ہے کہ آپ اپنی والدہ کے ذریعے انہیں حقیقتِ حال سے آگاہ کرکے سمجھا دیں کہ اب آپ دونوں کا تعلق ختم ہوچکا ہے، اس لیے انہیں چاہیے کہ وہ اپنے والدین کے گھر یا کسی دوسری محفوظ جگہ پر رہائش اختیار کرلیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*سنن أبي داود: (باب في اللعان، رقم الحدیث: 2250)*
عن سهل بن سعد قال :فطلقها ثلاث تطلیقات عند رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیه وسلم ، فأنفذہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیه وسلم ... الخ.

*روح المعانی: (البقرۃ، الایة: 230)*
"فإن طلقها‘‘ متعلقا بقوله سبحانه ’’الطلاق مرتان‘‘ .... فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ أي من بعد ذلك التطليق حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ أي تتزوّج زوجا غيره، ويجامعها.

*شرح النووي على مسلم: (70/10، ط: دار إحياء التراث العربي)*
«وقد اختلف العلماء فيمن قال لامرأته أنت طالق ثلاثا فقال الشافعي ومالك وأبو حنيفة وأحمد وجماهير العلماء من السلف والخلف يقع الثلاث.

*الدر المختار: (233/3، ط: دار الفکر)*
وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث.

*مختصر القدوری: (159/1، ط: دار الکتب العلمیة)*
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو اثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها.

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce