resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: کسی اور مرد کو تلاش کر لو "Find another man "سے طلاقِ بائن کا حکم اور تجدیدِ نکاح کا طریقہ

(62593-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، محترم مفتی صاحب! میں ایک نہایت حساس ازدواجی مسئلے کے بارے میں شریعتِ اسلامی کی روشنی میں واضح اور حتمی فتویٰ حاصل کرنا چاہتا ہوں، واضح رہے کہ میاں اور بیوی دونوں فقہِ حنفی کی پیروی کرتے ہیں، براہِ کرم شوہر کی شدید جذباتی کیفیت، جھگڑے کی شدت اور اس دوران اس کے دل میں بار بار آنے والی نیت کی کیفیت کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے رہنمائی فرمائیں۔
شوہر اور بیوی کے درمیان شدید اور سخت گھریلو جھگڑا ہوا، غصے کی انتہا کے وقت شوہر نے اپنی بیوی سے طلاق کے ایک کنایہ جملے کے طور پر یہ الفاظ صرف ایک مرتبہ کہے: "Find another man" یعنی: "کسی اور مرد کو تلاش کرلو۔"
شوہر کو مکمل یقین ہے کہ اس نے یہ جملہ صرف ایک مرتبہ کہا تھا، اس نے یہ جملہ زبانی طور پر دوبارہ نہیں دہرایا۔
تعدادِ طلاق کے بارے میں اس کے ذہن میں بالکل بھی تین کا ارادہ یا تصور نہیں تھا، وہ نہ تین طلاق کے بارے میں سوچ رہا تھا اور نہ طلاقِ مغلظہ کا ارادہ تھا، البتہ اس وقت اس کا ذہن مکمل طور پر طلاق کی نیت پر قائم تھا اور اس کے دل میں طلاق کی نیت بار بار آ رہی تھی۔
اصل الجھن یہ ہے کہ جھگڑے کی شدت کی وجہ سے طلاق کی وہ نیت اس کے ذہن میں مسلسل اور تیزی سے بار بار آتی رہی، یہ محض ایک لمحے کے لیے آنے والا خیال نہیں تھا، بلکہ الفاظ ادا کرنے سے پہلے اور انہیں ادا کرتے وقت بھی وہ نیت مسلسل اس کے ذہن میں گردش کرتی رہی، تاہم زبانی طور پر اس نے جملہ صرف ایک مرتبہ کہا۔
اب شوہر اور بیوی دونوں اپنی غلطیوں کو محسوس کرچکے ہیں اور وہ شرعی طور پر جائز طریقے سے دوبارہ صلح کرکے اپنی ازدواجی زندگی جاری رکھنے کے خواہش مند ہیں، لہٰذا فقہِ حنفی کے اصولوں کے مطابق درج ذیل امور میں رہنمائی فرمائیں:
1) اس صورتِ حال میں کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں اور طلاق کی کون سی قسم واقع ہوئی ہے؟
2) کیا اس واقعے کی وجہ سے تین طلاقیں واقع ہوکر نکاح مکمل طور پر ختم اور جدائی قطعی ہوچکی ہے؟
3) کیا طلاق کی نیت کا دل میں مسلسل اور بار بار آنا، جبکہ طلاق کے الفاظ صرف ایک مرتبہ زبان سے ادا کیے گئے ہوں، طلاقوں کی تعداد میں اضافہ یا تعدد کا سبب بن سکتا ہے؟
4) اگر اس صورتِ حال میں رجوع یا دوبارہ ازدواجی زندگی اختیار کرنے کی گنجائش ہو تو شریعت کے مطابق اس کا صحیح طریقہ اور طریقۂ کار کیا ہوگا؟
5) کیا اس صورتِ حال میں حلالہ کرنا لازم ہوگا؟ کیا حلالہ کے بغیر دونوں دوبارہ باہم رجوع کرکے ازدواجی زندگی شروع کرسکتے ہیں؟
واضح رہے کہ یہ ان کی پوری ازدواجی زندگی میں پہلی مرتبہ ایسا واقعہ پیش آیا ہے، اس سے پہلے کبھی کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، براہِ کرم ان تمام امور کے بارے میں تفصیلی اور جامع شرعی رہنمائی فرمائیں، تاکہ تمام شکوک، اضطراب اور الجھن دور ہوسکے۔ جزاکم اللہ خیراً.

جواب: ١) پوچھی گئی صورت میں شوہر نے بیوی سے "Find another man" یعنی "کسی اور مرد کو تلاش کر لو" کے الفاظ کہے، جو صریح الفاظِ طلاق نہیں بلکہ کنایہ ہیں، چونکہ شوہر کے بیان کے مطابق ان الفاظ کے وقت اس کی نیتِ طلاق موجود تھی، اس لیے ان الفاظ سے ایک طلاقِ بائن واقع ہو گئی ہے۔
۲) اس واقعے میں تین طلاقیں واقع نہیں ہوئیں، اس لیے نکاح تین طلاقوں کےساتھ حرمتِ مغلّظہ کے درجے میں ختم نہیں ہوا۔
۳) محض دل میں طلاق کی نیت کا بار بار گردش کرنا طلاقوں کی تعداد میں اضافے کا سبب نہیں بنتا، کیونکہ زبان سے کنایہ کا جملہ صرف ایک مرتبہ ادا کیا گیا ہے اور دل میں تین طلاقوں کا کوئی ارادہ یا تصوّر موجود نہیں تھا۔
۴) دوبارہ ازدواجی زندگی شروع کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ عورت اپنی عدت (حاملہ نہ ہونے کی صورت میں تین ماہواریاں) پوری کرے یا عدت کے دوران ہی باہمی رضامندی، نئے مہر اور دو گواہوں کی موجودگی میں تجدیدِ نکاح یعنی نیا نکاح کر لے۔
۵) مذکورہ صورتِ حال میں دوسرے مرد سے نکاح ثانی کی کوئی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ دوسرے مرد سے نکاح ثانی صرف تین طلاقیں واقع ہونے کی صورت میں ہوتا ہے، جبکہ یہاں صرف ایک طلاقِ بائن واقع ہوئی ہے، لہٰذا نئے نکاح کے ذریعے دونوں باہم ازدواجی زندگی دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*

*الھندیۃ: (۳۷۵/۱، ط: دار الفکر)*
وبابتغي الأزواج تقع واحدة بائنة إن نواها أو اثنتين وثلاث إن نواها هكذا في شرح الوقاية۔

*وفی العالمگریة: ﴿كتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة، 472/1، ط: رشيدية﴾*
"إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدةوبعد انقضائها".

والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce