سوال:
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاته! حضرت ایک شخص نے اپنی بیوی کو اس طرح طلاق دی: تمہیں آج بھی طلاق ہے، تمہیں کل بھی طلاق ہے اور تمہیں پرسوں بھی طلاق ہے۔ اس کے بعد وہ لڑکی اپنے والدین کے گھر چلی گئی، پھر یہ صاحب وہاں گئے اور بیوی کو کہا کہ گھر چلیں، میں اس کام کے لیے رجوع کر رہا ہوں۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ کتنی طلاقیں واقع ہوگئی ہیں؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں شوہر کا یہ کہنا کہ "تمہیں آج بھی طلاق ہے، تمہیں کل بھی طلاق ہے اور تمہیں پرسوں بھی طلاق ہے" تین مستقل جملے ہیں، اور ہر جملے میں الگ دن کی طرف طلاق کی نسبت کی گئی ہے، لہٰذا پہلے جملے سے اسی دن ایک طلاق، دوسرے جملے سے اگلے دن دوسری طلاق اور تیسرے جملے سے اس سے اگلے دن تیسری طلاق واقع ہوگئی۔ اس طرح مجموعی طور پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، لہٰذا اس کے بعد شوہر کا رجوع کرنا شرعاً معتبر نہیں، اور دونوں کے لیے میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہنا جائز نہیں۔
تاہم اگر عورت عدّت گزار کر کسی اور مرد سے نکاح کرلے اور اس سے ازدواجی تعلّق بھی قائم ہوجائے، پھر وہ اسے اپنی مرضی سے طلاق دے دے یا اس کا انتقال ہوجائے تو ایسی صورت میں وہ عورت عدّت گزار کر دوبارہ سابقہ شوہر سے نکاح کرنا چاہے تو کرسکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*القرآن الكريم: (البقرة، الآیات: 229، 230)*
الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ • *فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ* إلخ •
*الهندية: (1/ 367، ط: دار الفكر)*
ولو قال أنت طالق اليوم وغدا وبعد غد ولا نية له تقع واحدة كذا في محيط السرخسي. *فإن نوى ثلاثا متفرقة على ثلاثة أيام وقعن كذلك كذا في فتح القدير.*
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی