resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: پھوپھی کی خدمت اور اہلیہ کے حقوق میں شرعی توازن، نیز والدہ کے اصرار پر طلاق دینے کا حکم

(68326-No)

سوال:
محترم مفتی صاحب! میری شادی گزشتہ سال دسمبر 2025 میں ہوئی تھی، گزشتہ تقریباً چھ ماہ سے میری اہلیہ اپنے میکے میں مقیم ہیں، اس کی بنیادی وجہ میری والدہ اور اہلیہ کے درمیان گھریلو ناچاقیاں اور اختلافات ہیں، یہ اختلافات عام نوعیت کے گھریلو معاملات پر ہوئے ہیں، جیسے عموماً گھروں میں ہو جاتے ہیں۔
یہاں میں ایک اہم بات کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ جنہیں میں اپنی والدہ کہتا ہوں، وہ دراصل میری پھوپھی ہیں، جب میں تقریباً پانچ ماہ کا تھا تو میری حقیقی والدہ کا انتقال ہو گیا تھا، اس کے بعد میرے والد صاحب نے مجھے اپنی بہن کی گود میں دے دیا تھا، اس وقت سے لے کر آج تک انہوں نے مجھے اپنی حقیقی اولاد کی طرح پالا، میری پرورش کی اور ایک ماں کی طرح میری دیکھ بھال کی۔
میری پھوپھی کی اپنی کوئی اولاد نہیں ہے اور میں ہی ان کا اکلوتا بیٹا ہوں، میری والدہ کی عمر 80 سال سے زائد ہے، میرا کوئی بھائی یا بہن بھی نہیں ہے۔
لیکن اب صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ میری والدہ مجھ سے یہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ میں اپنی اہلیہ اور ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کروں، ان کا کہنا ہے کہ یا تو میں اپنی بیوی کو چھوڑ دوں یا پھر ان سے اپنا تعلق ختم کر لوں، اس صورتحال میں میں شدید ذہنی پریشانی اور کشمکش کا شکار ہوں۔
محترم مفتی صاحب! میرے دو سوالات ہیں:
1) اس صورتحال میں دینِ اسلام اور شریعتِ محمدی ﷺ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟
2) اگر والدہ کے مسلسل مطالبے اور دباؤ کی وجہ سے مجھے اپنی اہلیہ کو طلاق دینی پڑ جائے، حالانکہ ہمارے درمیان علیحدگی کی کوئی ایسی بنیادی وجہ نہیں جو شرعاً طلاق کا تقاضا کرتی ہو تو ایسی صورت میں اس طلاق کا گناہ اور شرعی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟ مجھ پر یا اس فیصلے کے لیے مجبور کرنے والی والدہ پر؟ براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ اسلامی کی روشنی میں میرے دونوں سوالات کا تفصیلی جواب عنایت فرمائیں تاکہ میں کوئی ایسا قدم نہ اٹھاؤں جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بنے۔

جواب: (1) شریعتِ مطہرہ کا ضابطہ ہے کہ ایک کے حق کی ادائیگی کے لیے دوسرے کا حق ضائع نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا آپ کی ضعیف اور تنہا پھوپھی جنہوں نے آپ کو بچپن سے اپنی اولاد کی طرح پالا، ان کی خدمت اور دیکھ بھال آپ کی ذمہ داری ہے، انہیں تنہا چھوڑنا یا ان سے تعلق توڑنا درست نہیں۔ اسی طرح اہلیہ کا بھی آپ پر یہ حق ہے کہ اسے گھریلو تنازعات اور غیر ضروری مداخلت سے محفوظ رکھیں۔ اس لیے طلاق کا خیال ترک کرکے پہلے موجودہ گھر میں اہلیہ کے لیے الگ کمرہ، کچن اور باتھ روم کا انتظام کریں، اور اگر اس سے بھی مسائل حل نہ ہوں تو پھوپھی کے گھر کے قریب الگ رہائش اختیار کریں، تاکہ اہلیہ کا حقِ مسکن بھی ادا ہو اور پھوپھی کی خدمت و دیکھ بھال بھی جاری رہے۔
(2) اگر آپ والدہ کے اصرار پر اہلیہ کی کسی شرعی کوتاہی کے بغیر محض گھریلو رنجشوں کی وجہ سے اسے طلاق دیتے ہیں تو طلاق واقع ہو جائے گی اور اس ناجائز اقدام کی ذمہ داری آپ پر عائد ہوگی، کیونکہ والدین کی اطاعت بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں جائز نہیں۔ نیز کسی بے قصور عورت کا گھر اجاڑنے اور بیٹے کو ناحق طلاق پر مجبور کرنے کا مطالبہ کرنا بھی والدہ کے لیے گناہ کا باعث ہے، لہٰذا آپ حکمت، نرمی اور خاندان کے معزز بزرگوں کی مدد سے والدہ کو مطمئن کریں اور کسی پر ظلم کیے بغیر دونوں کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

*القرآن الکریم: (سورۃ الإسراء: 23)*
﴿وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا﴾

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 601، ط: دارالفکر)
ولو أراد أن يسكنها مع ضرتها أو مع أحمائها كأمه وأخته وبنته فأبت فعليه أن يسكنها في منزل منفرد؛ لأن إباءها دليل الأذى والضرر ولأنه محتاج إلى جماعها ومعاشرتها في أي وقت يتفق لا يمكن ذلك مع ثالث؛ حتى لو كان في الدار بيوت وجعل لبيتها غلقا على حدة قالوا ليس لها أن تطالبه بآخر. اه فهذا صريح في أن المعتبر عدم وجدان أحد في البيت لا في الدار.

فتح القدير للكمال ابن الهمام: (4/ 397، ط:دارالفکر)
(وعلى الزوج أن يسكنها في دار مفردة ليس فيها أحد من أهله إلا أن تختار ذلك) لأن السكنى من كفايتها فتجب لها كالنفقة، وقد أوجبه الله تعالى مقرونا بالنفقة، وإذا وجب حقا لها ليس له أن يشرك غيرها فيه لأنها تتضرر به، فإنها لا تأمن على متاعها، ويمنعها ذلك من المعاشرة مع زوجها ومن الاستمتاع، إلا أن تختار لأنها رضيت بانتقاص حقها.

مسند أحمد مخرجا: (2/ 249، رقم الحدیث:931، مؤسسة الرسالة)
عن علي، أن ابنة حمزة تبعتهم تنادي: يا عم، يا عم، فتناولها علي فأخذ بيدها، وقال لفاطمة: دونك ابنة عمك فحوليها، فاختصم فيها علي، وزيد، وجعفر، فقال علي: أنا أخذتها وهي ابنة عمي، وقال جعفر: ابنة عمي وخالتها تحتي. وقال زيد: ابنة أخي. فقضى بها رسول الله صلى الله عليه وسلم لخالتها، وقال: «الخالة بمنزلة الأم» ثم قال لعلي: «أنت مني، وأنا منك» وقال لجعفر: «أشبهت خلقي وخلقي» وقال لزيد: «أنت أخونا ومولانا» فقال له علي: يا رسول الله، ألا تزوج ابنة حمزة؟ فقال: «إنها ابنة أخي من الرضاعة»

السنن الكبرى للبيهقي: (7/ 527، رقم الحدیث 14894ط، دار الكتب العلمية، بيروت – لبنات)
عن ابن عمر رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " أبغض الحلال إلى الله الطلاق "

والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce