سوال:
ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاق ایک ساتھ دیں اور اسی تین طلاق کی عدت میں اس کی بیوی دوسرے آدمی سے نکاح کر لیتی ہے اور اس کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ عدت میں نکاح صحیح نہیں ہوتا پھر بعد میں یاد آتا ہے کہ اس آدمی نے اس تین طلاقوں سے پہلے بھی کچھ سال پہلے اپنے گھر والوں کے سامنے اپنی بیوی کو تین طلاق دی تھیں لیکن اس طلاق کے مسئلے کے بارےمیں معلومات نہیں تھا تو اب سوال یہ ہے کہ یہ جو دوسرا نکاح جس میں ہمبستری بھی ہوئی ہے ، کیایہ صحیح تھا ؟ نیز کیا یہ عورت اپنے پہلے خاوند سے نکاح کر سکتی ہے کیونکہ اب تو نکاح اور ہمبستری بھی دوسرے آدمی کے ساتھ ہوگئی ہے؟
جواب: واضح رہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دینے کے بعد مسئلے سے ناواقفیت کی وجہ سے اسے دوبارہ اپنے ساتھ رکھ لیتا ہے تو مسئلہ معلوم ہونے کے بعد عورت پر شرعی حکم کے مطابق عدت گزارنا لازم ہے۔
نیز تین طلاقوں کے بعد سابقہ شوہر کے لیے عورت کے حلال ہونے کی صورت یہ ہے کہ عورت عدت گزارنے کے بعد کسی دوسرے شخص سے صحیح نکاح کرے، پھر دوسرا شوہر ازدواجی تعلق قائم ہونے کے بعد اسے طلاق دے دے یا اس کا انتقال ہوجائے، اور عورت اس کے بعد اپنی عدت بھی مکمل کرلے، تب وہ شرعی شرائط کے مطابق اپنے سابقہ شوہر سے دوبارہ نکاح کرسکتی ہے۔
مذکورہ تفصیل کی روشنی میں پوچھی گئی صورت میں چونکہ دوسرے شخص سے نکاح شرعی عدت کے دوران کیا گیا ہے، اس لیے یہ نکاح شرعاً فاسد ہے اور محض اس نکاح اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہم بستری کی بنیاد پر عورت پہلے شوہر کے لیے حلال نہیں ہوگی۔
چونکہ دوسرا نکاح فاسد تھا، اس لیے اس دوسرے شخص کے ساتھ میاں بیوی کی حیثیت سے رہنا قطعاً حرام ہے، بلکہ دونوں پر فوراً ایک دوسرے سے جدا ہونا واجب ہے۔
مزید یہ کہ چونکہ اس فاسد نکاح کے نتیجے میں دوسرے شخص نے عورت سے ہم بستری بھی کی ہے، اس لیے یہ وطی بالشبہہ کے حکم میں ہے، جس کی وجہ سے عورت پر دوسرے شخص سے علیحدگی کے بعد وطی بالشبہہ کی عدت گزارنا بھی لازم ہوگی۔
نیز تمام متعلقہ افراد کو چاہیے کہ ان معاملات میں جو شرعی خلاف ورزی ہوئی ہے، اس پر اللہ تعالیٰ کے حضور صدقِ دل سے توبہ و استغفار کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*
*الدر المختار مع رد المحتار: (3 / 518 ط: سعید)*
(والموطوءة بشبهة) ومنه تزوج امرأة الغير غير عالم بحالها كما سيجيء، وللموطوءة بشبهة أن تقيم مع زوجها الأول وتخرج بإذنه في العدة؛ لقيام النكاح بينهما، إنما حرم الوطء حتى تلزمه نفقتها وكسوتها، بحر، يعني إذا لم تكن عالمةً راضيةً كما سيجيء ... (وإذا وطئت المعتدة بشبهة) ولو من المطلق (وجبت عدة أخرى) لتجدد السبب (وتداخلتا، والمرئي) من الحيض (منها، و) عليها أن (تتم) العدة (الثانية إن تمت الأولى) وكذا لو بالأشهر، أو بهما لو معتدة وفاة.
(قوله: بشبهة) متعلق بقوله: وطئت، وذلك كالموطوءة للزوج في العدة بعد الثلاث بنكاح، وكذا بدونه إذا قال: ظننت أنها تحل لي، أو بعدما أبانها بألفاظ الكناية، وتمامه في الفتح، ومفاده أنه لو وطئها بعد الثلاث في العدة بلا نكاح عالماً بحرمتها لاتجب عدة أخرى؛ لأنه زنا، وفي البزازية: طلقها ثلاثًا ووطئها في العدة مع العلم بالحرمة لاتستأنف العدة بثلاث حيض، ويرجمان إذا علما بالحرمة ووجد شرائط الإحصان، ولو كان منكرًا طلاقها لاتنقضي العدة، ولو ادعى الشبهة تستقبل. وجعل في النوازل البائن كالثلاث والصدر لم يجعل الطلاق على مال والخلع كالثلاث، وذكر أنه لو خالعها ولو بمال، ثم وطئها في العدة عالمًا بالحرمة تستأنف العدة لكل وطأة وتتداخل العدد إلى أن تنقضي الأولى، وبعده تكون الثانية والثالثة عدة الوطء لا الطلاق حتى لايقع فيها طلاق آخر ولاتجب فيها نفقة اه وما قاله الصدر هو ظاهر.
*الفتاوى الهندية: (280/1، ط: دار الفكر)*
لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة، كذا في السراج الوهاج
*کتاب النوازل: (142/10، ط: المرکز العلمی للنشر والتحقیق)*
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی