resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: تین طلاقیں واقع ہونے کے بعد سابقہ شوہر سے دوبارہ نکاح کرنے کے لیے دوسرے شخص سے نکاح کرنا

(68301-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، جناب مفتی صاحب! مودبانہ مسئلہ یہ پوچھنا تھا کہ ایک عورت کو طلاق ہوئی اور وہ مکمل طور پر اپنی شوہر پر حرام ہو گئی ہے، مختلف جگہوں سے فتوی لیا ہے. گزارش یہ ہے کہ لڑکا اور لڑکی دونوں دوبارہ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں، شریعت میں ہے کہ عدت کے بعد کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے وہ طلاق دے دے تو عدت ختم ہونے کے بعد وہ لڑکی دوبارہ اپنے پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے۔
اگر ہم کوئی ایسا آدمی تلاش کریں جس کو عورت کی مجبوری کا علم ہو، حالات کی نزاکت کا احساس ہو اور اس کا بھی علم ہو کہ یہ عورت اپنے بچوں کی خاطر اپنے پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کرنا چاہتی ہے تاکہ بچوں پر ماں اور باپ دونوں کا سایہ ہو، ایسے آدمی سے نکاح کر دیتے ہیں اور یہ آدمی سو فیصد اختیار رکھتا ہے کہ اس کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنے نکاح میں رکھے یا پھر بغیر کسی شرط اور دباؤ کے طلاق دے دے تاکہ پہلے خاوند سے نکاح کرلے۔ براہ مہربانی قران و حدیث کی روشنی میں یہ نکاح اور طلاق درست ہے درست ہے یا نہیں؟

جواب: واضح رہے کہ اگر میاں بیوی کے درمیان تین طلاقیں واقع ہو جائیں تو اس سے عورت شوہر پر حرام ہو جاتی ہے، تین طلاقوں کے بعد نہ تو رجوع ہوسکتا ہے اور نہ ہی تجدیدِ نکاح، البتہ اگر مذکورہ خاتون کسی اور مرد سے دوسرا نکاح کرلے اور اس کے ساتھ ازدواجی تعلق بھی قائم کرلے، پھر یہ دوسرا شوہر اس عورت کو طلاق دیدے یا اس کا انتقال ہو جائے تو یہ عورت عدت گزارنے کے بعد اپنے سابقہ شوہر سے نکاح کرسکتی ہے۔
نیز واضح رہے کہ تین طلاقوں کے بعد دوسرے مرد سے طلاق کی شرط لگا کر نکاح کرنے والے اور کروانے والے پر حدیث میں لعنت وارد ہوئی ہے، البتہ اگر کوئی شخص عقدِ نکاح میں طلاق کی شرط کے بغیر کسی مطلقہ عورت سے نکاح کرلے تو وہ شخص اس وعید میں شامل نہیں ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*القرآن الکریم: (البقرة، رقم الآیۃ: 230)*
فَاِنْ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہ".

*صحيح البخاري: (کتاب الطلاق، باب من أجاز طلاق الثلاث، رقم الحدیث: 5261)*
"عن عائشة رضي اللّٰہ عنہا أن رجلاً طلق امرأتہ ثلاثاً، فتزوجت، فطلق، فسئل النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم أتحل للأول؟ قال: لا حتی یذوق عُسَیلتہا کما ذاق الأولُ".

*در المختار :(415/3، ط: دارالفکر)*
(أَمَّا إذَا أَضْمَرَ ذَلِكَ لَا) يُكْرَهُ (وَكَانَ) الرَّجُلُ (مَأْجُورًا) لِقَصْدِ الْإِصْلَاحِ، وَتَأْوِيلُ اللَّعْنِ إذَا شَرَطَ الْأَجْرَ ذَكَرَهُ الْبَزَّازِيُّ۔

*رد المحتار: (415/3، ط: دارالفکر)*
(قَوْلُهُ: أَمَّا إذَا أَضْمَرَ ذَلِكَ) مُحْتَرَزُ قَوْلِهِ بِشَرْطِ التَّحْلِيلِ (قَوْلُهُ: لَا يُكْرَهُ) بَلْ يَحِلُّ لَهُ فِي قَوْلِهِمْ جَمِيعًا قُهُسْتَانِيٌّ عَنْ الْمُضْمَرَاتِ (قَوْلُهُ: لِقَصْدِ الْإِصْلَاحِ) أَيْ إذَا كَانَ قَصْدُهُ ذَلِكَ لَا مُجَرَّدَ قَضَاءِ الشَّهْوَةِ وَنَحْوِهَا.

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce