سوال:
میرے شوہر نے مجھے تحریری طور پر گواہوں کی موجودگی میں تین طلاقیں دیں، طلاق نامے میں واضح طور پر “تین طلاق” لکھی ہوئی تھیں، جس پر میں نے اور میرے شوہر دونوں نے دستخط کیے تھے اور انہوں نے میرا حق مہر بھی گواہوں کی موجودگی میں واپس لیا تھا۔
طلاق کے دو مہینے کے بعد انہوں نے مجھے رجوع کا بولا، میرے گھر والوں نے جب کسی مولوی سے پوچھا تو انہوں نے منع کیا کہ آپ لوگوں کا ساتھ رہنا جائز نہیں ہے، لیکن میرے شوہر کے کہنے پر کہ میں نے پوچھا ہے اور جائز ہے تو میرے گھر والوں نے مجھے اپنے شوہر کے پاس بھیج دیا، اس کے بعد مجھے بہت لوگوں نے بولا کہ جائز نہیں ہے، آپ کو دوبارہ کسی سے پوچھنا چاہیے، پھر میں نے دوبارہ تصدیق کی تو مجھے چار ائمہ نے بولا ہے کہ آپ کو ساتھ رہنا جائز نہیں ہے، آپ کا نکاح ختم ہوچکا ہے، میرے گھر والے اس بات کو نہیں مان رہے۔ براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہ کی روشنی میں اس معاملے میں واضح فتویٰ عطا فرمائیں کہ اگر تحریری طور پر تین طلاق دی جا چکی تھیں تو کیا نکاح واقعی ختم ہو گیا تھا؟ اور کیا میرے لیے اپنے والدین کے گھر واپس جانا جائز ہے؟ جزاکم اللہ خیراً
جواب: سوال میں ذکر کرده تفصیل اگر واقعتاً درست ہے کہ آپ کے شوہر نےگواہوں کی موجودگی میں آپ کو تحریری طور پر تین طلاقیں دے دی تھی توآپ پر تین طلاقیں واقع ہوچکی تھیں، جس کا حکم یہ ہے کہ اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ ہی تجدید نکاح ، لہٰذا آپ دونوں پر فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرنا لازم ہے، اگر اس کے باوجود میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہتے ہیں تو حرام تعلق قائم رکھنے کی وجہ سے سخت گناہ کے مرتکب ہوں گے۔
ہاں ! اگر عورت عدت مکمل کرنے کے بعد کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے اور ان کے درمیان ازدواجی تعلق قائم ہونے کے بعد شوہر خود سے طلاق دے دے یا اس کا انتقال ہو جائے، اور اس کے بعد عورت اپنی عدت پوری کر لے تو ایسی صورت میں سابق شوہر سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا شرعاً جائز ہوگا۔
واضح رہے کہ تین طلاق دینے کی صورت میں ائمہ اربعہ (امام ابوحنیفہؒ، امام شافعیؒ، امام مالکؒ، امام احمدؒ) کا اس بات پر اجماع ہے کہ دونوں میاں بیوی ایک دوسرے پر حرام ہوجاتے ہیں ، اس اجماع کے خلاف کوئی بات بھی کہی جائے تو وہ قابل قبول نہیں ہوگی اور کسی سے خلافِ اجماع فتویٰ لے کر اس پر عمل کرنا اور بھی سخت گناہ اور بڑے خطرے کی بات ہے۔
مزید واضح ہو کہ محض خواہشِ نفس کے خاطر ایسے لوگوں سے فتویٰ لے کر مطلّقہ کو اپنے گھر رکھنا بدترین گناہ ہے، فوراً ایک دوسرےسے الگ ہونا لازم ہے ، ورنہ ساری عمر حرام کاری کے مرتکب رہیں گے، نیز اس دوران جن لوگوں نے حقیقتِ حال جانتے بوجھتے ہوئے آپ کو واپس سابق شوہر کے پاس بھیجا ہے، وہ بھی اس گناہ کے کام میں معاونت کی وجہ سے گناہ گار ہوئے ہیں، ان پر لازم ہے کہ وہ صدق دل سے توبہ و استغفار کریں اور اپنے اس فعل پر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ندامت کا اظہار کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الکریم: (البقرۃ، الآیۃ: 230)
فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنۡۢ بَعۡدُ حَتّٰی تَنۡکِحَ زَوۡجًا غَیۡرَہٗ ؕ فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِمَاۤ اَنۡ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنۡ ظَنَّاۤ اَنۡ یُّقِیۡمَا حُدُوۡدَ اللّٰہِ ؕ وَ تِلۡکَ حُدُوۡدُ اللّٰہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَo
صحیح البخاری: (168/3، ط: دار طوق النجاۃ)
عن عائشة رضي الله عنها: جاءت امرأة رفاعة القرظي النبي صلى الله عليه وسلم، فقالت: كنت عند رفاعة، فطلقني، فأبت طلاقي، فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير إنما معه مثل هدبة الثوب، فقال: «أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا، حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك»، وأبو بكر جالس عنده، وخالد بن سعيد بن العاص بالباب ينتظر أن يؤذن له، فقال: يا أبا بكر ألا تسمع إلى هذه ما تجهر به عند النبي صلى الله عليه وسلم
مختصر القدوری: (159/1، ط: دار الکتب العلمیۃ)
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو اثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها
الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ: (255/10، ط: دار السلاسل)
٦ - ذهب الفقهاء إلى أن من طلق زوجته طلقة رجعية أو طلقتين رجعيتين جاز له إرجاعها في العدة۔۔۔أما إذا طلق زوجته ثلاثا، فإن الحكم الأصلي للطلقات الثلاث هو زوال ملك الاستمتاع وزوال حل المحلية أيضا، حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر، لقوله تعالى: {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} .
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی