resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: تین سے زائد طلاقیں دینے کے بعد شوہر کا کہنا کہ ہمارا نکاح ختم نہیں ہوا ہے، نیز تین طلاق ہونے کی صورت میں عدّت کب سے شروع ہوگی؟

(50319-No)

سوال: مفتی صاحب! آپ سے سوال یہ ہے کہ میرے شوہر نے 13 جولائی 2026 کو فون پر مجھے چھ مرتبہ طلاق دی، نیز اس کے علاوہ انہوں نے وائس میسج میں تین طلاقیں دیں اور کہا کہ صبح کو لکھ کر بھی دے دوں گا۔ میرا ان سے ازدواجی تعلق ختم ہو چکا ہے، اب وہ کہہ رہے ہیں کہ میں رجوع کرنا چاہتا ہوں اور ہمارا نکاح ختم نہیں ہوا ہے۔
مفتی صاحب! آپ بتائیں شرعی لحاظ سے کیا میں ان کی بیوی ہوں؟ اور اگر طلاق کی صورت میں میری عدت کب سے شروع ہوگی؟ براہِ مہربانی تسلی بخش جواب سے عنایت فرما کر شکریہ کا موقع دیں۔ جزاکم اللہ خیراً سائلہ: سمیرا شیخ

جواب: واضح رہے کہ ایک ہی مجلس میں دی گئی تین طلاقیں شریعت کی نظر میں تین ہی واقع ہوتی ہیں اور اس کے بعد بیوی اپنے شوہر پر حرام ہو جاتی ہے اور یہ حکم قرآن کریم، احادیث نبویہ سے ثابت ہے، جمہور صحابہ و تابعین رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اجماع بھی اسی پر ہے، اور ائمہ اربعہ رحمہم اللہ تعالی کا بالاتفاق یہی مسلک ہے۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں شوہر کی جانب سے دی گئی تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں، لہٰذا آپ ان کے نکاح سے مکمل طور پر نکل چکی ہیں۔ اب شوہر کو نہ رجوع کا حق حاصل ہے اور نہ ہی تجدیدِ نکاح کا اختیار ہے، البتہ اگر آپ عدّت گزارنے کے بعد کسی دوسرے شخص سے نکاح کر لیں اور اس دوسرے شوہر کے ساتھ ازدواجی تعلقات بھی قائم ہو جائیں، پھر وہ دوسرا شوہر طلاق دے دے یا اس کا انتقال ہو جائے تو عدّت گزارنے کے بعد آپ کے لیے پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کرنا جائز ہے۔
نیز اگر شوہر نے پہلی مرتبہ طلاق 13 جولائی کو دی تھی تو طلاق کی عدّت 13 جولائی 2026ء سے شروع ہوگئی، اگر آپ حاملہ (Pregnant) نہیں ہیں تو آپ کی عدّت کی مدت تین مکمل ماہواریاں (Periods) ہیں، تاہم اگر آپ حاملہ ہوں تو آپ کی عدّت کی مدت وضعِ حمل (بچے کی پیدائش) تک ہوگی، خواہ ولادت طلاق کے چند دن بعد ہی کیوں نہ ہو جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (البقرة، الآیۃ: 230)
فَاِنْ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہ....الخ

روح المعانی: (البقرۃ، الایة: 230)
"فإن طلقها‘‘ متعلقا بقوله سبحانه ’’الطلاق مرتان‘‘ .... فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ أي من بعد ذلك التطليق حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ أي تتزوّج زوجا غيره،ويجامعها.

سنن أبي داود: (باب في اللعان، رقم الحدیث: 2250)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْفِهْرِيِّ وَغَيْرِهِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، فِي هَذَا الْخَبَرِ، قَالَ : فَطَلَّقَهَا ثَلَاثَ تَطْلِيقَاتٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْفَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم

صحيح مسلم: (باب لا تحل المطلقة ثلاثاً حتی تنکح زوجاً غیرہ، رقم الحدیث: 1433)
"عن عائشة رضي اللّٰہ عنہا أنہا سألت عن الرجل یتزوج المرأة، فیطلقہا ثلاثاً، فقالت: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم : لا تحلُّ للأول حتی یذوق الآخر عسیلتہا و تذوق عسیلتہ".

الدر المختار: (233/3، ط: دار الفکر)
وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث.

عمدة القاری: (باب من جوز طلاق الثلاث، 233/20، ط: دار احیاء التراث العربي)
ومذہب جماہیر العلماء من التابعین ومن بعدہم منہم: الأوزاعي والنخعي والثوري، و أبو حنیفة وأصحابہ، ومالک و أصحابہ، والشافعي وأصحابہ، وأحمد و أصحابہ، و اسحاق و أبو ثور و أبو عبید وآخرون کثیرون علی أن من طلق امرأتہ ثلاثاً، وقعن؛ولکنہ یأثم.

بدائع الصنائع: (109/3، ط: دار الكتب العلمية)
إن كتب على الوجه المرسوم ولم يعقله بشرط بأن كتب أما بعد يا فلانة فأنت وقع الطلاق عقيب كتابة لفظ الطلاق بلا فصل لما ذكرنا أن كتابة قوله: أنت طالق على طريق المخاطبة بمنزلة التلفظ بها.

الدر المختار مع رد المحتار: (520/3، ط: سعید)
(ومبدأ العدة بعد الطلاق و) بعد (الموت) على الفور۔
قال في الشرنبلالية: قوله: وابتداؤها عقيبهما أي عقيب الطلاق والموت يستثنى منه من بين طلاقها فإن عدتها من وقت البيان لا من وقت قوله إحداكما طالق، وإن مات قبل البيان لزم كلا منهما عدة الوفاة تستكمل فيها ثلاث حيض كما في البزازية. اه.

بدائع الصنائع: (89/3، ط: دار الکتب العلمیة)
ثم إذا وقع عليها ثلاث تطليقات في ثلاثة أطهار فقد مضى من عدتها حيضتان إن كانت حرة لأن العدة بالحيض عندنا، وبقيت حيضة واحدة فإذا حاضت حيضة أخرى فقد انقضت عدتها وإن كانت أمة فإن وقع عليها تطليقتان في طهرين فقد مضت من عدتها حيضة وبقيت حيضة واحدة فإذا حاضت حيضة أخرى فقد انقضت عدتها.

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce