resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: تین طلاق کا شرعی حکم

(46205-No)

سوال: مفتی صاحب! یہ عمل میں تین ماہ پہلے کر چکا ہوں، میں دانش ولد شفیق احمد میں نے اپنی بیوی کو غصے میں طلاق تین دفعہ دے دی ہے، میں دینا تو نہیں چاہتا تھا کیونکہ میں اپنی بیوی سے بے پناہ محبت کرتا ہوں اور اپنے غلطی پر نہایت شرمسار ہوں اور پشیمانی کی وجہ سے اور بے پناہ محبت کی وجہ سے اپنی بیوی کو اس کے گھر جانے نہیں دیا یعنی اس کے باپ کے گھر جانے نہیں دیا، اصل میں میرا ایک بیٹا تھا جو کہ مجھے بے حد عزیز تھا اس کی حالت اچانک بگڑ جانے کی وجہ سے میں نے اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکا اور بد حواسی میں یہ گناہ کبیرہ کر بیٹھا، براہ کرم میرے ساتھ رحم والے معاملات کریں، میں اپنی غلطی کو درست کرنا چاہتا ہوں اور بات یہ بھی ہے کہ پھر میرا بیٹا فوت ہو گیا اور میں اور میری بیوی اس غم میں دیوانے ہو گئے ، کیونکہ وہ ہماری نو سالوں میں ایک ہی اولاد تھی، میں اپنی بیوی کے ساتھ پھر سے میاں بیوی والے معاملات بھی کرتا رہا، لیکن ابھی دو دن پہلے ہی اچانک یہ بات یاد آگئی ، میں نہایت پریشان ہوں، بیوی کو چھوڑنا نہیں چاہتا، بیٹا تو چلا گیا ہمیشہ کے لیے، میں اپنی بیوی کو چھوڑنا نہیں چاہتا، براہ کرم میرے ساتھ تعاون کریں اور ہو سکے تو میرے اور میری بیوی کے حق میں فتوی آجائے ۔
مہربانی ہوگی یہ درخواست میں آپ کو بڑی عاجزی کے ساتھ لکھ رہا ہوں۔

جواب: سب سے پہلے یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ مفتی کا کام صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کو بیان کرنا ہے، اللہ تعالیٰ کے حکم کو تبدیل کرنا کسی مفتی یا عالم کے اختیار میں نہیں۔
لہٰذا اگر واقعہ اسی طرح ہے کہ آپ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی تھیں تو شرعی اعتبار سے تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں اور نکاح ختم ہو چکا ہے، اب نہ رجوع کی گنجائش ہے اور نہ ہی باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کیا جا سکتا ہے۔البتہ اگر عورت پہلے شوہر کی عدت گزار کر کسی اور مرد سے نکاح کرے، اور اس سے ازدواجی تعلقات قائم کرے، پھر وہ اسے طلاق دیدے یا اس کا انتقال ہو جائے ، پھر عورت عدت گزار کر پہلے شوہر سے نکاح کرے تو ایسا کرنا جائز ہے۔
نیز طلاق کے بعد جو میاں بیوی والے تعلقات قائم ہوئے، وہ شرعاً ناجائز تھے، جس پر دونوں میاں بیوی کے لیے سچی توبہ اور استغفار کرنا لازم ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*سنن أبي داود: (باب في اللعان، رقم الحدیث: 2250)*
عن سهل بن سعد قال :فطلقها ثلاث تطلیقات عند رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیه وسلم ، فأنفذہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیه وسلم ... الخ۔

*شرح النووي على مسلم: (70/10، ط: دار إحياء التراث العربي)*
«وقد اختلف العلماء فيمن قال لامرأته أنت طالق ثلاثا فقال الشافعي ومالك وأبو حنيفة وأحمد وجماهير العلماء من السلف والخلف يقع الثلاث

*روح المعانی: (البقرۃ، الایة: 230)*
"فإن طلقها‘‘ متعلقا بقوله سبحانه ’’الطلاق مرتان‘‘ .... فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ أي من بعد ذلك التطليق حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ أي تتزوّج زوجا غيره، ويجامعها

*الدر المختار: (233/3، ط: دار الفکر)*
وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث.

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce