resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: لڑائی جھگڑے اور مطالبہ طلاق کے موقع پر دو مرتبہ "آزاد ہو" کے الفاظ بیوی سے کہنا

(46218-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! گزارش ہے کہ مجھے ایک نہایت اہم شرعی مسئلے میں رہنمائی درکار ہے۔ میرا اور میرے شوہر کا ایک واقعہ پیش آیا ہے، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
تقریباً ۱۲ دن پہلے میری اور میرے شوہر کی شدید لڑائی ہوئی، میں نے شدید غصے اور طیش میں آکر شوہر سے طلاق کا مطالبہ کیا، شوہر پہلے منع کرتے رہے، لیکن میرے بہت زیادہ دباؤ ڈالنے اور تنگ کرنے پر انہوں نے پیچھا چھڑانے کے لیے طلاق کی نیت کے بغیر عام لہجے میں مجھ سے کہا: "آزاد ہو"۔ (شوہر نے یہ لفظ دو بار دہرایا، جس کی آڈیو ریکارڈنگ بھی میرے پاس محفوظ ہے)۔ انہوں نے لفظ "طلاق" زبان سے نہیں نکالا۔
شوہر کا کہنا ہے کہ انہیں علم نہیں تھا کہ اس لفظ سے طلاق واقع ہوتی ہے اور نہ ہی ان کی طلاق دینے کی کوئی نیت تھی، انہوں نے صرف دباؤ میں آکر پیچھا چھڑانے کے لیے یہ کہا تھا۔
واقعے کے بعد جب میرا غصہ ٹھنڈا ہوا تو ہم دونوں بہت روئے اور آپس میں صلح کر لی۔ صلح کےواقعے کے ۱۲ دن بعد ہم دونوں کے درمیان میاں بیوی والے مخصوص تعلقات (ہمبستری) قائم ہو چکے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ میں اس وقت ۳ ماہ کی حاملہ (Pregnant) ہوں۔
شرعی سوالات درج ذیل ہیں:
کیا شوہر کے ان الفاظ "آزاد ہو" کہنے سے طلاق واقع ہوئی تھی؟ اگر ہوئی تھی تو کون سی طلاق (رجعی یا بائن)؟ ہمارے مابین حمل کی حالت میں ۱۲ دن بعد جو ہمبستری ہوئی ہے، کیا اس سے رجوع مکمل ہو گیا ہے؟ کیا اب ہمارا پرانا نکاح برقرار ہے یا ہمیں نئے سرے سے تجدیدِ نکاح (نیا نکاح) کرنا پڑے گا؟ براہِ کرم شریعت کی روشنی میں تفصیلی جواب (فتویٰ) عنایت فرما کر ہماری رہنمائی فرمائیں۔ عین نوازش ہوگی۔

جواب: پوچھی گئی صورت میں لڑائی جھگڑے اور مطالبہ طلاق کے موقع پر شوہر کا دو مرتبہ "آزاد ہو" کے الفاظ کہنے سے دو طلاقیں رجعی واقع ہو چکی تھیں، کیونکہ "آزاد" کا لفظ ایسا ہے کہ اس طرح کے مواقع پر اس سے نیت کے بغیر بھی طلاقِ رجعی واقع ہو جاتی ہے۔
تاہم اس واقعے کے بارہ دن بعد جب دونوں کے درمیان میاں بیوی والے تعلق قائم ہوگئے تو اس سے رجوع ثابت ہوکر دونوں کا نکاح دو بارہ بحال ہوگیا ہے، لیکن یہ یاد رہے کہ آئندہ کے لیے شوہر کے پاس صرف ایک طلاق کا اختیار باقی رہ گیا ہے، اس لیے آئندہ طلاق کے معاملے میں شوہر کے لیے سخت احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*

*رد المحتار: (299/3، ط: دار الفكر)*
بخلاف فارسية قوله ‌سرحتك وهو " رهاء كردم " لأنه صار صريحا في العرف على ما صرح به نجم الزاهدي الخوارزمي في شرح القدوري اه وقد صرح البزازي أولا بأن: حلال الله علي حرام أو الفارسية لا يحتاج إلى نية، حيث قال: ولو قال حلال " أيزدبروي " أو حلال الله عليه حرام لا حاجة إلى النية، وهو الصحيح المفتى به للعرف وأنه يقع به البائن لأنه المتعارف ثم فرق بينه وبين ‌سرحتك فإن ‌سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي ‌سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق.

*فیه ایضاً: (252/3، ط: دار الفكر)*
(قوله فيقع بلا نية للعرف) أي فيكون صريحا لا كناية، بدليل عدم اشتراط النية وإن كان الواقع في لفظ الحرام البائن لأن الصريح قد يقع به البائن كما مر، لكن في وقوع البائن به بحث سنذكره في باب الكنايات، وإنما كان ما ذكره صريحا لأنه صار فاشيا في العرف في استعماله في الطلاق لا يعرفون من صيغ الطلاق غيره ولا يحلف به إلا الرجال، وقد مر أن الصريح ما غلب في العرف استعماله في الطلاق بحيث لا يستعمل عرفا إلا فيه من أي لغة كانت، وهذا في عرف زماننا كذلك فوجب اعتباره صريحا كما أفتى المتأخرون في أنت علي حرام بأنه طلاق بائن للعرف بلا نية مع أن المنصوص عليه عند المتقدمين توقفه على النية

*امداد الاحکام: (445/2، ط: مکتبہ دارالعلوم کراچی)*

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce