resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: طلاق کے بجائے لفظ "ذلاق" سے طلاق کا حکم

(42087-No)

سوال: محترم مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میرا ایک نہایت حساس اور اہم شرعی مسئلہ ہے، جس پر مجھے آپ کے دارالافتاء سے مستند فتویٰ درکار ہے۔ میری شادی کو 15 سال ہوچکے ہیں اور ہمارے 4 بچے ہیں۔ کچھ ماہ پہلے بیوی سے ناراضگی کے دوران میں نے موبائل پر ایک میسج لکھا۔
مسئلے کی تفصیل یہ ہے: اللہ پاک کو حاضر و ناظر جان کر عرض کرتا ہوں کہ میری اپنی بیوی کو طلاق دینے کی بالکل نیت نہیں تھی، بلکہ میں صرف انہیں ڈرانا دھمکانا چاہتا تھا۔ میں نے جان بوجھ کر لفظ "طلاق" کے نقطے اور زیر تبدیل کرکے اسے "ذِلاق" لکھ دیا تھا تاکہ شرعاً طلاق واقع نہ ہو۔
اس وقت میرا ایک بھائی وہاں موجود تھا اور وہ اس پورے معاملے کا گواہ ہے، لیکن اُس وقت اسے اس لفظی تبدیلی (طلاق کو ذِلاق لکھنے) کا علم نہیں تھا۔
اب میری بیوی غصے میں بچوں کو چھوڑ کر گھر سے چلی گئی ہیں اور ان کا خاندان یہ سمجھ رہا ہے کہ طلاق واقع ہوچکی ہے، جبکہ اللہ پاک کو حاضر و ناظر جان کر میری نیت اور لکھے گئے الفاظ مختلف تھے۔
آپ سے سوال یہ ہے:
کیا اس صورتِ حال میں شرعاً ہمارا نکاح برقرار ہے یا کوئی طلاق واقع ہوئی ہے؟
اگر نکاح برقرار ہے تو کیا میں اپنی بیوی کو واپس گھر لاسکتا ہوں؟ آپ سے گزارش ہے کہ اس بارے میں جلد از جلد شرعی رہنمائی فرمائیں تاکہ میرا گھر ٹوٹنے سے بچ سکے۔

جواب: واضح رہے فقہاء کرام نے طلاق کے وہ الفاظ مصحّفہ (تبدیل شدہ الفاظ) صراحت کے ساتھ نقل فرما دیے ہیں جن سے طلاق واقع ہو جاتی ہے، البتہ ان الفاظ میں ذلاق لفظ شامل نہیں ہے، اس لیے پوچھی گئی صورت میں لفظِ طلاق کے بجائے “ذلاق” لکھنے سے طلاق واقع نہیں ہوئی۔
البتہ اگر بیوی کو شوہر کی بات پر اعتماد نہ ہو تو بیوی شوہر سے "ذلاق" لفظ بولنے پر قسم لے اور شوہر قسم کھالے تو اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہوگی اور پھر میاں بیوی ایک ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،424/1،ط:دار الفکر)*
رجل قال لامرأته ترا تلاق هاهنا خمسة ألفاظ تلاق وتلاغ وطلاغ وطلاك وتلاك عن الشيخ الإمام الجليل أبي بكر محمد بن الفضل رحمه الله تعالى أنه يقع وإن تعمد وقصد أن لا يقع،ولا يصدق قضاء ويصدق ديانة، إلا إذا أشهد قبل أن يتلفظ به۔

*فتاوی عباد الرحمن:( طلاق دینے کے مسائل،415/7،ط: دار الافتاء والتحقیق)*

*نجم الفتاویٰ:( کتاب الطلاق،279/6،ط:شعبہ نشرو اشاعت دارالعلوم یاسین القران)*

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی


Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce