resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: "طلاق میں تمہاری اور تمہاری امی کی دلی خواہش پر دے رہا ہوں" کے الفاظ سے طلاق کا حکم

(42011-No)

سوال: محترم مفتی صاحب! السلام علیکم، عرض ہے کہ میرا نکاح تقریباً 4 سال پہلے ہوا تھا اور ہماری ایک بیٹی بھی ہے۔ میرے شوہر نے تقریباً 2 سال پہلے گھریلو جھگڑوں کی وجہ سے مجھے دو مرتبہ طلاق دی تھی، اب حال ہی میں ہمارے درمیان دوبارہ جھگڑا ہوا، جس پر میں نے اپنے شوہر سے موبائل فون (msg) پر پوچھا کہ کیا آپ اپنی مرضی سے طلاق دے رہے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا: "divorce میں تمہاری اور تمہاری امی کی دلی خواہش پر دے رہا ہوں" اس کے بعد میں نے ان سے واضح طور پر پوچھا کہ کیا تیسری طلاق ہو گئی ہے؟تو انہوں نے جواب دیا:"نہیں، ابھی نہیں دی"
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا مذکورہ جملے سے تیسری طلاق واقع ہو گئی ہے یا نہیں؟ ہماری موجودہ ازدواجی حیثیت کیا ہے؟ کیا رجوع کی کوئی صورت باقی ہے یا نہیں؟ قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ والسلام
تنقیح: محترمہ! اس بات کی وضاحت کر دیں کہ آپ کے شوہر نے مذکورہ الفاظ ("طلاق میں تمہیں اور تمہاری امی کی خواہش پر دے رہا ہوں") کہنے سے پہلے آپ سے یا آپ کی والدہ سے طلاق دینے کے حوالے سے کوئی بات کی تھی یا نہیں؟ اس وضاحت کے بعد آپ کے سوال کا جواب دیا جا سکے گا۔
جواب تنقیح:
نہیں ایسی کوئی نہیں کی تھی۔

جواب: واضح رہے کہ "طلاق دے رہا ہوں" کے الفاظ حال کے معنیٰ میں استعمال ہوتے ہیں، تاہم قرینہ پائی جانے کی صورت میں ان کو مستقبل کے معنی پر بھی محمول کیا جاسکتا ہے۔
پوچھی گئی صورت میں شوہر کی طرف سے مذکورہ الفاظ کہنے سے پہلے طلاق دینے کے متعلق گفتگو نہ پائی جانے اور آپ کے سوال کے جواب میں: ’’نہیں، ابھی نہیں دی‘‘ کہنے سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ شوہر نے یہ الفاظ فی الحال طلاق دینے کی نیت سے نہیں کہے ہیں، بلکہ آئندہ طلاق دینے کے طور پر کہے ہیں، لہٰذا اگر واقعی شوہر نے ان الفاظ سے اسی وقت طلاق دینے کی نیت نہیں کی تھی تو ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی، بلکہ یہ طلاق کا محض ایک وعدہ شمار ہوگا۔
تاہم اگر شوہر کی نیت ان الفاظ سے اسی وقت طلاق دینے کی تھی تو ایسی صورت میں تیسری طلاق واقع ہوکر حرمتِ مُغلّظہ ثابت ہوگئی ہوگی، جس کے بعد نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ ہی دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔
واضح رہے کہ مفتی غیب کا علم نہیں جانتا، بلکہ اس کے سامنے جو بھی صورتِ حال بیان کی جاتی ہے، وہ اسی کے مطابق جواب دیتا ہے، حلال کو حرام اور حرام کو حلال بیان کرنے سے حلال حرام یا حرام حلال نہیں ہوجاتا، لہذٰا مذکورہ صورت میں جو بھی حقیقی صورتِ حال ہو، شوہر اپنی آخرت کو سامنے رکھتے ہوئے اسی کے مطابق فیصلہ کرلے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*

*الفتاوى التاتارخانية: ( 401/5، ط: مكتبة زكريا الهند)*
ولو قال أطلقک ان نوی به الطلاق يقع وإلا فلا.

*فتاویٰ قاسمیہ: (521/14، ط: مکتبہ اشرفیہ دیوبند)*

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce