resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: نشہ کرنے والے اور جوا کھیلنے والے شوہر سے علیحدگی کا مطالبہ کرنے کا حکم

(41983-No)

سوال: ہماری شادی کو 10 سال ہو چکے ہیں، میرے شوہر نے کبھی گھر والوں کو وقت نہیں دیا اور نہ ہی ہماری جذباتی ضروریات کا خیال رکھا، البتہ مالی ضروریات کسی حد تک پوری کرتے رہے۔ وہ نکوٹین استعمال کرتے ہیں اور اب چرس (ماریجوانا) میں بھی مبتلا ہو گئے ہیں اور کچھ عرصے سے جوا بھی کھیل رہے ہیں، کئی بار سمجھانے کے باوجود وہ باز نہیں آتے۔
وہ قرض میں ڈوبے ہوئے ہیں اور گھر پر مناسب خرچ بھی نہیں کر رہے کیونکہ پیسہ ان چیزوں میں خرچ ہو رہا ہے۔ وہ بہت زیادہ جھوٹ بھی بولتے ہیں، اور بچے بھی نظر انداز ہو رہے ہیں۔ میں نے ہر ممکن کوشش کی اور ان کی ذاتی عادات کو بھی برداشت کرتی رہی، لیکن اب یہ سب چیزیں پورے خاندان کو متاثر کر رہی ہیں۔
ہمارے تین چھوٹے بچے ہیں اور میں کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہی، اب انہوں نے پھر کہا ہے کہ مجھے ایک آخری موقع دو، میرے قرض میں مالی مدد کرو، اور میں آئندہ یہ سب نہیں کروں گا، لیکن مجھے اب ان پر اعتماد نہیں رہا، ایسا لگتا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔
میں صرف یہ جاننا چاہتی ہوں کہ ہمارے دین میں اس بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا ایک عورت کو اللہ کی رضا کے لیے ایسے شخص کے ساتھ رہتے رہنا چاہیے یا اللہ تعالیٰ نے اسے ایسی صورتحال چھوڑنے کی اجازت دی ہے؟ براہِ کرم میری رہنمائی فرمائیں۔

جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر آپ مذکورہ شوہر کے ساتھ صبر کرتی ہیں تو یہ آپ کے لیے باعث اجر ہے، تاہم اگر سوال میں ذکر کردہ تفصیل درست ہے، اور ان میں کوئی غلط بیانی نہیں کی گئی تو اس کا حاصل درج ذیل تین امور ہیں:
1) شوہر نکوٹین اور چرس کا نشہ کرتا ہے۔
2) جوئے جیسے خبیث عمل میں مبتلا ہے۔
3) قرض میں ڈوبا ہوا ہے اور گھر پر عرف کے مطابق مناسب خرچہ نہیں کرتا۔
اس صورتِ حال میں آپ کو چاہیے کہ دونوں خاندانوں کے بڑوں کو پوری صورتِ حال بتا کر ان کے ذریعے معاملہ کو حل کرنے کی کوشش کریں، اور جہاں تک ہوسکے صبر کرتے ہوئے نرمی کے ساتھ انہیں اچھے انداز میں سمجھانے اور ان کے ساتھ نباہ کی کوشش کریں۔
تاہم اگر اس طریقے سے سمجھانے بجھانے کے باوجود شوہر ان امور سے باز نہیں آتا، اور اللہ تعالی کی حدود پر قائم رہتے ہوئے اس رشتہ کو باقی رکھنے اور عرف کے مطابق نباہ کرنا مشکل ہوجائے تو ایسی صورت میں آپ کے لیے اس سے طلاق اور علیحدگی کا مطالبہ کرنا جائز ہے، قرآن شریف میں شوہر کے لیے ازدواجی زندگی کے بارے میں یہ حکم دیا گیا ہے: ﴿ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ●﴾
ترجمہ: پھر یا تو عرف کے مطابق بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا حسنِ سلوک کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔ (البقرة، الآية: ٢٢٩)
اور اگر وہ طلاق پر آمادہ نہ ہو تو اس صورت میں آپ کو اختیار ہے کہ اپنا حق مہر لوٹا کر یا کچھ مال دے کر شوہر کی رضامندی سے خلع حاصل کرلیں۔
خلع کا طریقہ یہ ہے کہ بیوی یہ لفظ کہہ دے "کہ میرے مہر کے بدلے مجھ سے خلع کرلیں"، اور شوہر کہے کہ "ٹھیک ہے کرلیا"، یا اس سے ملتے جلتے کوئی اور الفاظ کہہ دیے جائیں تو اس عمل سے عورت پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو کر نکاح ختم ہوجائے گا، اور جس مال پر خلع ہوا ہے وہ مال عورت پر شوہر کو دینا لازم ہوگا اور پھر عدت گزرنے کے بعد عورت کے لیے دوسری جگہ نکاح کرنا جائز ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*القرآن الكريم: (البقرة، الآية: ١٥٣)*
﴿ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ ●﴾
*القرآن الكريم: (البقرة، الآية: ٢٢٩)*
﴿ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ۗ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ ۗ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا ۚ وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ●﴾
*صحيح البخاري: (7/ 46، رقم الحديث: 5273، ط: دار طوق النجاة)*
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ أَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ مَا أَعْتُِبُ عَلَيْهِ فِي خُلُقٍ وَلَا دِينٍ وَلَكِنِّي أَكْرَهُ الْكُفْرَ فِي الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: اقْبَلِ الْحَدِيقَةَ وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً.»
*المبسوط للسرخسي: (6/ 173، ط: مطبع السعادة)*
«(قال): والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد.
(قال): وإن قال لامرأته: قد خالعتك، أو بارأتك، أو طلقتك بألف درهم، فالقبول إليها في مجلسها»
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
(مزید سوالات و جوابات کیلئے ملاحظہ فرمائیں)
http://AlikhlasOnline.com

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*القرآن الكريم: (البقرة، الآية: ١٥٣)*
﴿ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ ●﴾

*القرآن الكريم: (البقرة، الآية: ٢٢٩)*
﴿ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ۗ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ ۗ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا ۚ وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ●﴾

*صحيح البخاري: (7/ 46، رقم الحديث: 5273، ط: دار طوق النجاة)*
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ أَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ مَا أَعْتُِبُ عَلَيْهِ فِي خُلُقٍ وَلَا دِينٍ وَلَكِنِّي أَكْرَهُ الْكُفْرَ فِي الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: اقْبَلِ الْحَدِيقَةَ وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً.»

*المبسوط للسرخسي: (6/ 173، ط: مطبع السعادة)*
«(قال): والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد.
(قال): وإن قال لامرأته: قد خالعتك، أو بارأتك، أو طلقتك بألف درهم، فالقبول إليها في مجلسها»

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce