resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: اگر خالہ کے گھر گئی تو تجھے ڈائریکٹ تین طلاق

(42042-No)

سوال: مسئلہ یہ ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو کہا تھا کہ اگر تو اپنی خالہ کے گھر گئی تو تجھے ڈائریکٹ تین طلاق" جب کہ طلاق سے آگے (ہے، ہو جائے گی،دیتا ہوں، دی،دے دو گا وغیرہ)میں سے کوئی ایک بھی الفاظ استعمال نہیں کیا، یہ الفاظ نہیں کہے، میری بیوی اپنی خالہ کے گھر گئی ہے تو کیا اس جملہ سے طلاق ہوگئی ہے؟

جواب:
پوچھی گئی صورت میں جب آپ نے یہ کہا کہ " اگر تو اپنی خالہ کے گھر گئی تو تجھے ڈائریکٹ تین طلاق"، ان الفاظ سے تین طلاقیں خالہ کے گھر جانے کی شرط پر معلق ہوگئیں، پھر جیسے ہی بیوی خالہ کے چلی گئی تو اس پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہوگئی ہے، اب نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ ہی دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔
ہاں! اگر عورت عدّت گزار کر کسی اور مرد سے نکاح کرلے اور اس سے ازدواجی تعلّقات بھی قائم کرلے، پھر وہ اسے اپنی مرضی سے طلاق دے دے یا اس کا انتقال ہوجائے تو ایسی صورت میں وہ عورت عدّت گزار کر دوبارہ سابقہ شوہر سے نکاح کرنا چاہے تو کرسکتی ہے۔
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ "طلاق سے آگے (ہے، ہو جائے گی، دیتا ہوں، دی، دے دو گا وغیرہ) میں سے کوئی ایک بھی الفاظ استعمال نہیں کیا" تو اس سے اصل مسئلہ پر فرق نہیں پڑتا، ان الفاظ کے استعمال کے بغیر بھی طلاق واقع ہوگئی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*الهندية: (1/ 381، ط: دار الفكر)*
«رجل شاجر مع امرأته فقال لها بالفارسية هزار طلاق ترا ولم يزد على وقع هذا عليها ثلاث تطليقات»

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce