resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: رخصتی سے قبل "تم آزاد ہو" جملے سے طلاق کا حکم

(41997-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! اس مسئلہ کے بارے میں رہنمائی فرمائیں: ایک لڑکا لڑکی جن کا نکاح ہو چکا ہے مگر رخصتی نہیں ہوئی، آپس میں بے تکلفی، ہم عمر اور آپس میں کزنز ہونے کی وجہ سے ریسپیکٹ کا ایلیمنٹ بھی ذرا کم ہے۔ اب معاملہ یہ کہ شوہر نے اپنی منکوحہ سے اس کے اور اس کی والدہ کے رویے کی شکایت کی، بات یہاں تک پہنچی کہ شوہر نے کہا تم نے اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو تمہیں میری ماننی پڑے گی، ورنہ جیسے تم چاہو، تو بیوی نے کہا میں مانتی ہوں لیکن تمہیں بھی میری بات ماننا ہوگی ورنہ مجھے کسی نے بیچا نہیں ہے، تم نے اگر میرے ساتھ رشتہ رکھنا ہو تو نارمل انسان کی طرح رہنا ورنہ تمہاری مرضی ہے تو شوہر نے کہا پھر تم آزاد ہو، تو بیوی نے کہا کہ یہ طلاق ہے دو بار اور کہہ دو تو شوہر نے کہا کہ میرا ایسا کوئی ارادہ تھا، باقی جو تمھارا دل کرے۔
نوٹ: یہ بات چیت واٹس ایپ پہ تحریری انداز میں ہوئی تھی، اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا واقعی ان الفاظ "پھر تم آزاد ہو" سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟ جبکہ بقول شوہر حلفاً اس کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ اور اگر طلاق ہوجاتی ہے تو کونسی طلاق سمجھی جائے گی اور کتنی ہوں گی؟ رجوع یا دوبارہ نکاح کی کیا صورت ہوگی اور آئندہ کتنی طلاقوں کا اختیار ہوگا؟ اگر طلاق نہیں ہوئی تو یہ گفتگو کس بات پہ محمول کی جائے گی؟ کیا وٹس اپ پہ تحریر لکھ کر بھیجنے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے؟ شریعت کی روشنی میں مسئلہ کی وضاحت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔ جزاكم اللہ خیرا

جواب: واضح رہے کہ جس طرح طلاق کے الفاظ زبان سے ادا کرنے سےطلاق واقع ہوتی ہے، اسی طرح تحریری طلاق دینے کی صورت میں بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں جب آپ نے یہ الفاظ واٹس ایپ پر تحریر کیے کہ "تم آزاد ہو" تو چونکہ اس وقت گفتگو کے سیاق و سباق میں طلاق کا قرینہ موجود تھا، اور یہ الفاظ رخصتی سے قبل کہے گئے تھے، اس لیے ان الفاظ سے ایک طلاقِ بائن واقع ہو چکی ہے، اگرچہ آپ کی نیّت طلاق دینے کی نہیں تھی۔
طلاقِ بائن کا حکم یہ ہے کہ طلاقِ بائن کے بعد شوہر کو رجوع کا حق باقی نہیں رہتا، البتہ اگر میاں بیوی دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو نئے مہر کے ساتھ دو گواہوں کی موجودگی میں نیا نکاح کر سکتے ہیں، ایسی صورت میں شوہر کے پاس آئندہ کے لیے دو طلاقوں کا اختیار باقی ہوگا۔

فتوی ارسال کرنے کے بعد سائل کی طرف سے وضاحت:
السلام علیکم،مفتی صاحب! جزاکم اللہ خیرا ،راہنمائی فرمانے پر بہت شکریہ، اس میں ذرا سی مزید رہنمائی درکار ہے کہ ان کے گھر بھی چونکہ بالکل پاس ہیں، اگر موقع پا کر یہ دونوں ملتے بھی ہوں، باہم ملنا، ہاتھ تھامنا، گلے ملنا یا بوس و کنار وغیرہ کی نوبت تک پہنچنی ہو تو کیا یہ خلوت صحیحہ شمار ہوگی یا نہیں؟ اگر یہ خلوت صحیحہ ہے تو پھر طلاق اور رجوع کا کیا حکم ہوگا؟ جزاكم اللہ خیرا

دارالافتاء کی طرف سے سائل کی وضاحت کا جواب:
واضح رہے کہ "خلوتِ صحیحہ" سے مراد یہ ہے کہ شوہر اور بیوی ایسی جگہ تنہائی میں جمع ہوں جہاں ازدواجی تعلق قائم کرنے میں کوئی حسّی، شرعی یا طبعی رکاوٹ موجود نہ ہو۔ ایسی صورت میں اگرچہ حقیقتاً جماع نہ بھی ہوا ہو، تب بھی خلوتِ صحیحہ ثابت ہو جاتی ہے۔
آپ کے سوال میں اگر بوس و کنار یا ہاتھ پکڑنے کے علاوہ جماع میں کوئی رکاوٹ موجود نہیں تھی، تو خلوتِ صحیحہ ثابت ہو چکی ہے۔ ایسی صورت میں "تم آزاد ہو" کے الفاظ سے طلاقِ رجعی واقع ہوگی۔ طلاقِ رجعی میں شوہر عدت (تین حیض) کے دوران رجوع کرسکتا ہے، البتہ اگر عدت گزر جائے تو یہی طلاق، طلاقِ بائن کے حکم میں تبدیل ہو جاتی ہے، جس کے بعد بغیر نئے نکاح کے رجوع ممکن نہیں رہتا۔
البتہ اگر صرف بوس و کنار وغیرہ ہوا ہو، لیکن جماع کے لیے کوئی حسّی، شرعی یا طبعی مانع موجود تھا، تو اس صورت میں نہ خلوتِ صحیحہ ثابت ہوگی اور نہ رخصتی، لہٰذا ایسی حالت میں "تم آزاد ہو" کے الفاظ سے طلاقِ بائن واقع ہوگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*بدائع الصنائع: (109/3، ط: دار الكتب العلمية)*
إن كتب على الوجه المرسوم ولم يعقله بشرط بأن كتب أما بعد يا فلانة فأنت وقع الطلاق عقيب كتابة لفظ الطلاق بلا فصل لما ذكرنا أن كتابة قوله: أنت طالق على طريق المخاطبة بمنزلة التلفظ بها.

*الهدایة:(233/1، ط: دار احیاء التراث العربی)*
" وإذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها " لأن الوقاع مصدر محذوف لأن معناه طلاقا بائنا على ما بيناه فلم يكن قوله أنت طالق إيقاعا على حدة فيقعن جملة فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة " وذلك مثل أن يقول أنت طالق طالق طالق لأن كل واحدة إيقاع على حدة إذا لم يذكر في آخر كلامه ما يغير صدره

*رد المحتار: (باب الكنايات، 299/3، ط: سعید)*
ﻓﺈﻥ ﺳﺮﺣﺘﻚ ﻛﻨﺎﻳﺔ ﻟﻜﻨﻪ ﻓﻲ ﻋﺮﻑ اﻟﻔﺮﺱ ﻏﻠﺐ اﺳﺘﻌﻤﺎﻟﻪ ﻓﻲ اﻟﺼﺮﻳﺢ ﻓﺈﺫا ﻗﺎﻝ " ﺭﻫﺎﻛﺮﺩﻡ " ﺃﻱ ﺳﺮﺣﺘﻚ ﻳﻘﻊ ﺑﻪ اﻟﺮﺟﻌﻲ ﻣﻊ ﺃﻥ ﺃﺻﻠﻪ ﻛﻨﺎﻳﺔ ﺃﻳﻀﺎ، ﻭﻣﺎ ﺫاﻙ ﺇﻻ ﻷﻧﻪ ﻏﻠﺐ ﻓﻲ ﻋﺮﻑ اﻟﻔﺮﺱ اﺳﺘﻌﻤﺎﻟﻪ ﻓﻲ اﻟﻄﻼﻕ ﻭﻗﺪ ﻣﺮ ﺃﻥ اﻟﺼﺮﻳﺢ ﻣﺎ ﻟﻢ ﻳﺴﺘﻌﻤﻞ ﺇﻻ ﻓﻲ اﻟﻄﻼﻕ ﻣﻦ ﺃﻱ ﻟﻐﺔ ﻛﺎﻧﺖ، ﻟﻜﻦ ﻟﻤﺎ ﻏﻠﺐ اﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺣﻼﻝ اﻟﻠﻪ ﻓﻲ اﻟﺒﺎﺋﻦ ﻋﻨﺪ اﻟﻌﺮﺏ ﻭاﻟﻔﺮﺱ ﻭﻗﻊ ﺑﻪ اﻟﺒﺎﺋﻦ ﻭﻟﻮﻻ ﺫﻟﻚ ﻟﻮﻗﻊ ﺑﻪ اﻟﺮﺟﻌﻲ.
ﻭاﻟﺤﺎﺻﻞ ﺃﻥ اﻟﻤﺘﺄﺧﺮﻳﻦ ﺧﺎﻟﻔﻮا اﻟﻤﺘﻘﺪﻣﻴﻦ ﻓﻲ ﻭﻗﻮﻉ اﻟﺒﺎﺋﻦ ﺑﺎﻟﺤﺮاﻡ ﺑﻼ ﻧﻴﺔ ﺣﺘﻰ ﻻ ﻳﺼﺪﻕ ﺇﺫا ﻗﺎﻝ ﻟﻢ ﺃﻧﻮ ﻷﺟﻞ اﻟﻌﺮﻑ اﻟﺤﺎﺩﺙ ﻓﻲ ﺯﻣﺎﻥ اﻟﻤﺘﺄﺧﺮﻳﻦ

*الفتاوى الھندیة:(473/1، ط: دار الفکر)*
إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها۔۔۔الخ

*مأخذه التبويب فتاوی دارالعلوم العلوم کراچی:(فتوی:84/1678)*

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی


Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce