سوال:
محترم مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ میں نہایت ادب کے ساتھ ایک ازدواجی معاملے میں شرعی وضاحت اور رہنمائی حاصل کرنا چاہتی ہوں۔ میں حنفی مسلک سے تعلق رکھتی ہوں اور اسی کے مطابق عمل کرنا چاہتی ہوں۔
معاملے کی تفصیل درج ذیل ہے:
دسمبر 2024 (جمعرات) کو شوہر نے غصے کی حالت میں مجھ سے کہا: “تو میری طرف سے فارغ ہے” (ایک مرتبہ)، اسی رات میاں بیوی کے تعلقات قائم ہوئے۔ اگلے دن (جمعہ) شوہر نے شدید غصے میں کہا کہ تم وہ تین الفاظ سنو گی، اور پھر مسلسل تین مرتبہ کہا: “تو میری طرف سے فارغ ہے” اس کے بعد کہا کہ تم اپنی والدہ کے گھر چلی جاؤ، میں کاغذی کارروائی کے لیے آؤں گا، اب تم مجھ سے آزاد ہو۔
تقریباً 15 دن بعد خاندانی دباؤ کی وجہ سے دوبارہ نکاح کیا گیا، اور اس کے بعد ازدواجی تعلق قائم ہوا۔
موجودہ صورتِ حال: اس واقعے کے بعد میرے دل میں شدید شبہ اور اضطراب پیدا ہو گیا ہے کہ آیا اس وقت میں شرعاً طلاق یافتہ تھی یا نہیں؟ اسی وجہ سے میں اب اس نکاح میں مزید رہنا نہیں چاہتی، مجھے اپنے حلال و حرام کے بارے میں شدید تشویش ہے، میں چاہتی ہوں کہ میرا معاملہ بالکل واضح ہو جائے تاکہ کسی گناہ میں مبتلا نہ رہوں۔
درخواست برائے شرعی رہنمائی، براہِ کرم درج ذیل امور پر میری رہنمائی فرمائیں:
1) کیا الفاظ “تو میری طرف سے فارغ ہے” شوہر کی نیت کے ساتھ شرعاً طلاق کے زمرے میں آتے ہیں؟
2) ایک ہی مجلس میں یہ الفاظ تین مرتبہ کہنا حنفی فقہ کے مطابق کتنی طلاقوں کے حکم میں آتا ہے؟
3) کیا یہ طلاق رجعی تھی یا مغلظہ (ناقابلِ رجوع)؟
4) 15 دن بعد کیا گیا دوبارہ نکاح شرعاً درست تھا یا نہیں؟
5) اگر شرعاً طلاق واقع نہیں ہوئی، تو کیا میرے لیے خلع کا مطالبہ کرنا درست ہے جبکہ میں اب اس ازدواجی زندگی کو جاری نہیں رکھنا چاہتی؟
میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ مجھے اپنی شرعی حیثیت کی مکمل وضاحت مل جائے تاکہ میں آئندہ زندگی شریعت کے مطابق گزار سکوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ والسلام
جواب: واضح رہے کہ "تو میری طرف سے فارغ ہے" طلاق کے کنائی الفاظ شمار ہوتے ہیں، اگر یہ الفاظ طلاق کی نیّت سے یا طلاق کے معاملے پر گفتگو کے دوران یا غصّے کی حالت میں کہے جائیں تو اس سے ایک طلاقِ بائن واقع ہو جاتی ہے، ایک طلاق بائن کے بعد مزید طلاق بائن کا محل باقی نہیں رہتا۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں جب آپ کے شوہر نے غصّے کی حالت میں پہلی مرتبہ یہ الفاظ "تو میری طرف سے فارغ ہے" کہے تو اس سے ایک طلاقِ بائن واقع ہو گئی تھی، اس کے بعد نئے نکاح کے بغیر جو ازدواجی تعلق قائم ہوا، وہ شرعاً ناجائز تھا، جس پر میاں بیوی دونوں پر توبہ و استغفار کرنا لازم ہے۔
البتہ چونکہ بعد میں دوبارہ نکاح ہو چکا ہے، اس لیے آپ اپنے شوہر کے نکاح میں ہیں اور اب مناسب یہی ہے کہ غصّے اور تلخی سے بچتے ہوئے صبر، سمجھداری اور باہمی مشورے سے اپنے نکاح کو قائم رکھنے کی کوشش کریں، البتہ اگر پھر بھی نباہ کی کوئی صورت باقی نہ رہے تو ایسی صورت میں شوہر سے طلاق یا خلع کا مطالبہ کرنا درست ہے، نیز یہ بات واضح رہے کہ خلع میں شوہر کی رضامندی شرعاً ضروری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
بدائع الصنائع:(فصل في الكناية في الطلاق،105/3)
أما النوع الأول فهو كل لفظ يستعمل في الطلاق ويستعمل في غيره نحو قوله: أنت بائن، أنت علي حرام خلية برئية بتة أمرك بيدك اختاري اعتدي استبرئي رحمك أنت واحدة خليت سبيلك سرحتك حبلك على غاربك فارقتك خالعتك..........
بدائع الصنائع:(3/ 107)
خلية " " بريئة " " بتة " " بائن " " حرام "؛ لأن هذه الألفاظ كما تصلح للطلاق تصلح للشتم، فإن الرجل يقول لامرأته عند إرادة الشتم: أنت خلية من الخير، بريئة من الإسلام، بائن من الدين، بتة من المروءة، حرام أي مستخبث، أو حرام الاجتماع والعشرة معك.
وحال الغضب والخصومة يصلح للشتم ويصلح للطلاق فبقي اللفظ في نفسه محتملا للطلاق وغيره، فإذا عني به غيره فقد نوى ما يحتمله كلامه، والظاهر لا يكذبه فيصدق في القضاء ولا يصدق في حال ذكر الطلاق؛ لأن الحال لا يصلح إلا للطلاق؛ لأن هذه الألفاظ لا تصلح للتبعيد، والحال لا يصلح للشتم فيدل على إرادة الطلاق لا التبعيد ولا الشتم فترجحت جنبة الطلاق بدلالة الحال.
الدر المختار:(كتاب الطلاق،306/3، ط:سعید)
(الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) الصريح ما لا يحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا فتح... (لا) يلحق البائن (البائن).
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی