سوال:
میرے شوہر نے مختلف مواقع پر تین سے زیادہ بار طلاق دی ہے، اور یہ معاملہ پانچ سے بھی زیادہ بار ہوا ہے۔ انہوں نے یہ الفاظ غصے اور لڑائی کے دوران کہے۔ اب مجھے یہ فکر ہے کہ آیا واقعی طلاق واقع ہو چکی ہے یا نہیں۔
انہوں نے واضح الفاظ میں کہا: “میں تمہیں طلاق دیتا ہوں”، اور ایک بار تو انہوں نے میرا اور اپنا نام لے کر بھی طلاق دی۔ ہم ہر بار دوبارہ صلح کر لیتے تھے۔
اب مجھے تشویش ہے کہ کیا ہم دوبارہ صلح کر سکتے ہیں یا طلاق پہلے ہی واقع ہو چکی ہے؟
جواب: واضح رہے کہ غصّہ اور نزاع کی حالت میں دی گئی طلاق بھی واقع ہوجاتی ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں تین طلاقیں واقع ہونے کے بعد آپ اپنے شوہر پر حرمتِ مغلّظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہیں، اس کے بعد آپ دونوں کا ایک ساتھ رہنا اور ازدواجی تعلّقات قائم رکھنا کسی صورت بھی جائز نہیں ہے، بلکہ فوراً علیحدگی اختیار کرنا ضروری ہے۔
مزید یہ کہ حرمتِ مغلّظہ ثابت ہونے کے بعد اب تک ساتھ رہنے پر اللہ تعالیٰ کے حضور سچّی توبہ اور کثرت سے استغفار کرنا لازم ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
رد المحتار: (3/ 244، ط: سعید)
ويقع الطلاق من غضب خلافا لابن القيم اه وهذا الموافق عندنا لما مر في المدهوش
بدائع الصنائع: (3/ 187، ط: دار الکتب العلمیة)
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة ... وحد النفي إلى غاية التزوج بزوج آخر، والحكم الممدود إلى غاية لا ينتهي قبل وجود الغاية، فلا تنتهي الحرمة قبل التزوج، فلا يحل للزوج الأول قبله ضرورة.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی