resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: بہن کی وجہ سے اپنی بیوی کو طلاق دینا

(42080-No)

سوال: میری شادی کو سات سال ہوچکے ہیں اور میرے تین بچے ہیں۔ تقریباً نو ماہ قبل میرے شوہر نے اپنی بہن کے معاملے کی وجہ سے مجھے گھر سے نکال دیا۔ ابتدا میں بچے میرے پاس تھے، پھر کچھ عرصے بعد وہ بچوں کو اپنے پاس لے گئے۔ اس وقت بچے تقریباً چار ماہ سے اپنے والد کے پاس ہیں، جبکہ اس سے پہلے پانچ ماہ میرے پاس رہے تھے۔
مجھے اپنے والدین کے گھر آئے ہوئے تقریباً نو ماہ ہوچکے ہیں۔ دو ماہ قبل میرے شوہر نے مجھے ایک پیغام (میسج) بھیجا جس میں لکھا تھا: "میں تجھے ایک طلاق دیتا ہوں۔" اس واقعہ کو اب دو ماہ گزر چکے ہیں اور مجھے دو حیض بھی آچکے ہیں۔
میرے شوہر کا کہنا ہے کہ جب تک میرا بھائی جو اُن کی بہن کا شوہر بھی ہے، اُن کی بہن کو خود واپس گھر نہیں لے کر آئے گا، وہ مجھ سے رجوع نہیں کریں گے۔ میرا بھائی دبئی سے آکر اپنی بیوی کو گھر واپس لے گیا ہے، لیکن میرے شوہر اب بھی مختلف شرائط عائد کر رہے ہیں۔
میرا اصل سوال رجوع کے طریقۂ کار کے بارے میں نہیں، بلکہ یہ ہے کہ:
کیا اسلام شوہر کو یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنی بہن یا دیگر رشتہ داروں کے معاملات کی وجہ سے اپنی بیوی کو گھر سے نکال دے، اُسے طلاق دے دے، بچوں سے اس کی ملاقات یا گفتگو بند کر دے، اور اسے ذہنی اذیت پہنچائے؟
جب بھی میں بچوں سے بات کرنے یا اپنے حق کے متعلق گفتگو کرنے کی کوشش کرتی ہوں تو میرے شوہر مجھے اور میرے والدین کو بُرا بھلا کہتے ہیں اور میری تذلیل کرتے ہیں۔ شریعت کی نظر میں اس طرزِ عمل کا کیا حکم ہے؟
ایسی صورتِ حال میں اسلام بیوی کو کیا حقوق دیتا ہے؟ کیا شوہر کے لیے بیوی کے ساتھ اس طرح کا رویہ اختیار کرنا جائز ہے؟
شادی کے وقت میرے شوہر نے مجھے کچھ سونا دیا تھا، اور بعد میں بھی کچھ سونا بطورِ تحفہ دیا تھا۔ اب وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ میں وہ سارا سونا واپس کردوں، کیونکہ اُن کے بقول وہ اُن کی ملکیت ہے۔ شریعت کی رو سے اس سونے کا کیا حکم ہے؟ کیا شوہر تحفہ یا شادی کے موقع پر دیا گیا سونا واپس لینے کا حق رکھتا ہے؟ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں ان دونوں مسائل کا جواب عنایت فرمائیں، کیونکہ مجھے جلد شرعی رہنمائی درکار ہے۔ جزاکم اللہ خیراً

جواب: واضح رہے کہ دینِ اسلام کے جملہ احکام عَدل و انصاف کے اصولوں پر مبنی ہیں، اور مسلمانوں کو بھی اپنے معاملات میں عَدل کرنے کا حکم ہے، قرآن مجید میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے مسلمانوں کو واضح الفاظ میں عدل و انصاف کے ترازو کو قائم رکھنے کا حکم دیا ہے، حتی کہ دشمن قوم کے ساتھ بھی انصاف کا حکم ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
"ترجمہ: اے ایمان والو ! ایسے بن جاؤ کہ الله (کے احکام کی پابندی) کے لیے ہر وقت تیار ہو (اور) انصاف کی گواہی دینے والے ہو، اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم ناانصافی کرو۔ انصاف سے کام لو، یہی طریقہ تقوی سے قریب تر ہے۔ اور الله سے ڈرتے رہو۔ الله یقینا تمہارے تمام کاموں سے پوری طرح باخبر ہے"۔ (المائدۃ: 8)
قرآن مجید ایمان والوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ عدل و انصاف سے کام لیں اگرچہ اس سے ظاہری طور پر اپنے نقصان کا اندیشہ ہو، اور اسی طرح یہ بھی حکم دیا ہے کہ کسی دشمن کے ساتھ بھی بے انصافی نہ کرو۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق میاں بیوی کا رشتہ باہمی اُلْفت و محبت کا سبب ہوتا ہے، یہ رشتہ میاں بیوی دونوں سے ایثار، قربانی، درگزر اور ایک دوسرے کو معاف کردینے کا تقاضا کرتا ہے، اس رشتۂ نکاح کی قدر نہ کرنا، خاص کر جب شوہر کسی اور کی غلطی کی سزا بیوی کو دے رہا ہو، سخت گناہ کا کام ہے، اس میں ایک طرف کفرانِ نعمت ہے تو دوسری طرف ظلم اور زیادتی ہے، اس لیے کہ قرآن مجید کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ سنا دیا ہے کہ کسی ایک شخص کے کئے کی سزا دوسرے کو نہیں دی جاسکتی ہے:
ترجمہ: "یعنی یہ کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا. "(النجم: 38)
اسی طرح حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "باپ سے بیٹے کا قصاص نہیں لیا جائے گا". (ترمذی: حدیث نمبر1400)
مذکورہ بالا مضمون سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوتی ہے کہ دیگر سسرالی رشتہ داروں کی وجہ سے بیوی کو بے گھر کرنا، اس کو طلاق دینا اور بچوں سے الگ کرکے ان سے ملاقات کی اجازت نہ دینا یہ سب عمل ناجائز ہیں، یہ ظلم کے درجے میں آتے ہیں شوہر کے لیے ضروری ہے کہ اپنے ان اعمال سے فوراً رجوع کرکے اپنے معاملات شریعت کے مطابق درست کرے، اور اس غلطی پر رب کے حضور توبہ تائب ہو۔
اسی طرح دورانِ گفتگو شوہر کا گالم گلوچ کرنا بھی ناجائز ہے، حدیث شریف کے مطابق مسلمان کو گالی دینا کبیرہ گناہ ہے۔
نکاح کے وقت جو مہر شوہر بیوی کو دیتا ہے وہ بیوی کی ملکیت ہے، اس پر کسی دوسرے شخص بشمول شوہر کا کوئی حق نہیں ہے، اسی طرح شوہر بیوی کو اگر کوئی چیز ہدیہ کے طور پر دیتا ہو تو قبضہ کرنے کے بعد وہ چیز شرعاً بیوی کی ملکیت میں چلی جاتی ہے، اب شوہر کا ایسی کسی چیز کی واپسی کا مطالبہ کرنا بھی درست نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (المائدۃ، الاية: 8)
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡا قَوَّا امِيۡنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالۡقِسۡطِ‌ ۖ وَلَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ عَلٰٓى اَ لَّا تَعۡدِلُوۡا‌ ؕ اِعۡدِلُوۡا هُوَ اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰى‌ وَاتَّقُوا اللّٰهَ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَO

و قوله تعالی: (النجم، الایة: 38)
اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰىۙ ... الخ

و قوله تعالیٰ: (النساء، الایة: 20)
وَإِنْ أَرَدتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا ۚ أَتَأْخُذُونَهُ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًاO

سنن الترمذی: (رقم الحدیث: 1400، ط: دار الغرب الاسلامی)
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: "لَا يُقَادُ الْوَالِدُ بِالْوَلَدِ"۔

صحیح مسلم: (رقم الحدیث: 221، ط: دار احیاء التراث العربی)
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ ".

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce